احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

یہ کالم میں نے تیں سال قبل تحریر کیا تھا پر بد قسمتی سے ہمارے  مسائل اتنے پیچیدہ ہیں کہ دو تیں سال میں ان کا حل ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہے لہزا  ایک بار پیش خدمت کیے دیتا ہوں۔

چند دنوں سے اسلام آباد ہی میں موجود ہوں۔ یہاں زندگی بہت تیز ہے۔مگرشاید ہم اس تیز دنیا میں انسانی رویوں کو بھی بھول چکے ہیں۔ آج کے واقعہ نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا یہ وہی ترقی ہے جس کی ہم آرزو کرتے ہیں؟؟؟؟ یا در اصل ہم ترقی سے روشناس ہی نہیں ہوسکے!!  شاید یہ واقعہ سننے کے بعد آپ کے ذہن میں بھی یہی سوالات ابھریں اور اگر نہ ابھریں تو میں یہی سمجھوں گا کہ آپ کا ذہن بھی ترقی کی ہر منزل طے کر چکا ہے۔۔۔یا دراصل جسے آپ ترقی سمجھ رہے ہیں وہ جہالت کی ایک گہری اور تاریک کھائی کا نام ہے جہاں تھوڑی سی روشنی  پاکر آپ پھولے نہ سما رہے ہیں۔

human

میں صبح سویرے اپنے معمول کے مطابق اٹھا۔ آج خالہ کے گھر جانے کا ارادہ کیا۔ ان کا گھر شہزاد ٹاؤن میں ہے۔وہاں پہنچا۔ان کا حال احوال دریافت کیا۔کھانا وغیرہ کھایا اور واپسی کا ارادہ کیا۔میں یہی سوچ رہا تھا کہ کم از کم پاکستان  کے چند شہر تو ترقی یافتہ ہیں اور یہاں کے لوگ بھی پڑھے لکھے ہیں۔پولیس کو دیکھ کر میرا دل اور بھی خوش ہوا کہ قانون کے رکھوالے یہاں اپنے کام میں مصروف ہیں۔مگرذرا ٹھہرئیے!!!!!!! یہ کیا ہے؟؟؟؟ایک شخص کو بری طرح مارا پیٹا جا رہا ہے!!!!میں حیران رہ گیا۔۔۔۔سوچا ضرور کوئی دہشت گرد ہوگا۔۔۔۔۔پولیس والوں نے اسے بالوں سے پکڑ رکھا تھا۔۔۔۔وہ بے چا رہ معافی مانگے جا رہا تھا۔۔۔مگرپولیس والے تھے کہ اس کی ایک نہ سنتے تھے۔چند منٹ کی مار کٹائی کے بعد انہوں نے اس شخص کو ایک ٹیکسی میں زبردستی بٹھا دیااور اسے جانے دیا۔

میں حیران کھڑا دیکھتا رہا۔معلوم کیا کہ آ خر ماجرا کیا ہے؟؟پتہ چلا کہ وہ شخص بے گناہ تھا۔جرم صرف اتنا تھا کہ وہ شخص تلاشی دیتے ہوئے ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔میرا دل چاہتا تھا کہ جاؤں اور پولیس والوں کاگریبان پکڑ کر پوچھوں کہ آخر انہوں نے ایسا کیوں کیا؟؟مگر میں نے غور کیا تو میں محض اسی سوچ میں گھر پہنچ چکا تھا اور ٹیکسی والا مجھ سے کرایہ طلب کر رھا تھا۔میں نے اسے کرایہ دیا اور مایوسی کے عالم میں گھر کی جانب بڑھا۔میں یہ سوچ رہا تھا کہ ہم بحیثیت قوم کتنے بے غیرت اور بے حس ہو چکے ہیں!!! پولیس والے قانون کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔۔۔عوام کو پتہ ہے کہ دہشت گرد ہر طرف منڈلا رہے ہیں مگر تلاشی دینے کو اپنی شان میں گستاخی سمجھتے ہیں۔جبکہ مجھ جیسے چند بے حس اور ڈرپوک لوگ محض تماشائی بنے تکتے رہتے ہیں۔

یہ ایک ترقی یافتہ شہر کی داستان ہے جہاں کے لوگ خود کواعلی تعلیم یافتہ اور مہزب گردانتے ہیں اور ہمیں اپنے بڑے شہروں کا طعنہ دیتے  ہیں جہاں کی محض ایک سڑک ہمارے پورے ضلع بھکر کی سڑکوں سے زیادہ آرام دہ ہے۔مگر کیا یہ وہی ترقی ہے جس کا خواب میں اپنے بھکر کے لیے دیکھ رھا ہوں؟؟؟ اگر ترقی اسی بے حسی کا نام ہے تو میں اپنے ٹوٹے پھوٹے بھکر ہی میں خوش ہوں۔یا پھر شاید  ہم مادی ترقی سے تو کچھ حد تک روشناس ہیں لیکن ذہنی اور روحانی ترقی سے کوسوں دور ہیں ۔ماڈرن ازم کی طرف بڑھتا ہمارا ہر قدم ہمیں ذہنی پستگی کی طرف دھکیل رہا ہے ۔ہم  مغرب کی مثالیں دیتے نۃیں تھکتے پر خود مغرب اپنی مادی ترقی کی تباہ کاریوں سے لڑتا دکھائی دیتا ہے۔ترقی کی چاہت سے کوئی انکاری نہیں پر ایسی اونچی عمارتوں کا کیا فائدہ جو انسانی اقدار کو پست کر دیں ۔اسی دعا کے ساتھ کہ پاکستان کا ہر چھوٹا بڑا شہر روحانی و مادی دونوں قسم کی ترقی سے روشناس ہو آپ سے اجازت چاہتا ہوں.

global

ولسلام

طٰہ  لیل

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s