آن لائن

رات قریبا ایک بجے کا وقت ہے۔وہ بے چینی سے کبھی ادھر کروٹ بدلتا ہے توبھی ادھر۔ گویا نیند اس سے روٹھ چکی ہو۔وہ بار بار موبائل فون اپنے تکیے کے نیچے سے نکالتا ہے اور تصدیق کرتا ہے کہ کہیں کوئی میسج یا کال تو نہیں آئی۔وہ ہر پانچ منٹ بعد "وٹس ایپ” پر اس بات کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ آیا "وہ” آن لائن ہے کہ نہیں۔کافی دیر گزر چکی ہے وہ آن لائن تو ہے مگر کوئی میسج نہیں کرتی۔اس کے دل میں ایک خفیف سی امید ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی پیغام تو ضرور آئے گا۔یہ آگ یکطرفہ نہیں ہو سکتی وہ دل کو تسلی دیتا ہے۔آہ کہ انتظار موت سے بد تر ہے۔ اسی اثناء میں "وہ” اپنی ڈی-پی تبدیل کرتی ہے ۔ کسی بھنورے کی طرح یہ فورا سے بھی پہلے ڈی-پی کھولتاہے اور دل ہی دل میں مفروضے گھڑنے لگتا ہے۔
"ہاں ، اس سے مراد شاید یہ ہو ۔۔نہیں شاید فلاں بات کا جواب ہو۔۔شاید وہ کچھ کہنا چاہتی ہو”
وہ کش مکش کا شکار ہے ۔بات کرنا بھی چاہتا ہے مگر گھبراتا ہے ۔ کبھی اپنے خاندان سے تو کبھی معا شرے سے ۔ کبھی مذ ہب کے ٹھیکے داروں سے تو کبھی اپنے ماڈرن دوستوں سے۔ وہ ہمت جوٹا کر میسج ٹائپ کرتا ہے مگر اس خوف سے کہ دوست "تاڑو” کہیں گے، گھر والے "بے غیرت” اور وہ "کم تر” ، پھر گھبرا جاتا ہے ۔ وہ بار بار میسج لکھتا ہے اور پھر مٹا ڈالتا ہے ۔ اسے اس سرے کی تلاش ہے جہاں سے ابتداء کی جائے۔ ہم نے ایسا معاشرہ قائم کیا ہے جہاں سیدھی بات کرنا نہایت معیوب ہے وہ کیونکر اسے یک لخت سب کچھ بتا ڈالے؟
وہ ایک بار پھر میسج مٹانے ہی والا تھا کہ "سینڈ” کے بٹن پر غلطی سے ہاتھ لگا ۔ انسان چاہے ہزار رنگ بدلے ۔ اس کا ہر عمل چاہے ذو معنی ہو، مگر اس کی بنائی چیزیں منافق نہیں۔ اب اس میسج کو بھلا کون روک سکتا تھا؟ وہ ایک دم ہڑبڑا کر اٹھا ۔ "یا خدا یہ کیا ہوا؟ میری "ویلیو ڈاون” ہو جائے گی اس کے سامنے ۔۔وہ کیا سوچے کی میرے بارےمیں؟” ابھی وہ اسی پریشانی کے عالم میں تھا کہ جواب موصول ہوا۔انسان کیسا عجیب ہے جو خود اپنے آپ سے بھی جھوٹ بولتا ہے ۔ ایک لمحہ پہلے جس چہرے پے پریشا نی کے سائے تھے اب اس پے مسرت عیاں تھی۔اس موقع کی تلاش میں اس نے پوری رات گزاری تھی ، جھٹ سے میسج لکھا
"ایک دن میں تین تین بار تصویر تبدیل؟ خیریت ؟”
"ہاں کچھ خاص نہیں۔۔۔بس موڈ پر انحصار کرتا ہے”
"پھر تو تصویر دیکھ کر لگتا ہے کہ موڈ کافی خراب ہے”
"ہاں،انسان زندگی میں مختلف مراحل سے گزرتا ہے ،کبھی خوشی کبھی غم”
"غم کی وجوہات ہوا کرتی ہیں”
"کبھی کبھار وجوہات کی عدم مو جودگی ہی غم کا باعث بنتی ہے”
"سنا ہے غم بانٹنے سے کم ہوا کرتا ہے ؟”
"اس کا انحصار غم بانٹنے والے پر ہے 🙂 ”
"ٹھیک ہے تم جیتی ، ہم ہارے”
"جیت ہمیشہ میری ہی ہوا کرتی ہے p: ”
"یا پھر شاید میں تمہیں ہرانا ہی نہیں چاہتا”
"اچھا ؟ ہم پر اتنی مہربانی کی وجہ ؟ ”
"پھر کبھی بتاوں گا”
"ابھی کیوں نہیں ؟ ”
"ابھی وقت نہیں ”
اس کے بعد طویل خاموشی چھا گئی۔ آہ کہ ہم "ابھی وقت نہیں” اور "اب وقت نہیں” کے درمیان جکڑے جا چکے ہیں۔دونوں اپنی اپنی جگہ سوالات لیے اس بات کے منتظر ہیں کہ پہل کون کرتا ہے۔ ان کا انتظار فضول ۔ ان کا ہر خیال فضول۔ ہم عجب معا شرے میں رہتے ہیں جہاں نفرت کا اظہار کرنا دلیری اور بہادری کا کام سمجھا جاتا ہے ۔جبکہ محبت کرنا ایک جرم ، ایک فرسودہ روایت ۔ اگر کسی کو ہماری بات سے اختلاف ہے تو اپنے محلے یا گھر میں با آواز بلند یہ کہ کر دیکھے کہ ” میں فلاں لڑکی سے نفرت کرتا ہوں” آپ کی آواز پر کوئی کان نہ دھرے گا ۔ مگر ادھر آپ نے محبت کا اظہار کیا ادھر آپ پر کفر ، بے غیرتی اور بے حیائی کے فتوے لگے ۔ ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں مگر اپنی بہنوں کو پسند کی شادی کی اجازت نہیں دیتے۔ اور ایسا کرنے والے کو بے غیرت کہتے ہیں۔
آہ کہ ہم نفرت کر کے کتنے عظیم کہلاتے ہیں۔ جوتے کی نوک پر رکھنا اور ” پلے بوائے ” بننا ہمارے مشغلے ہیں۔ چاہے مرد ہو یا عورت دونوں ہی محبت کے جذبے سے عاری ہیں اسی لیے یہ ہمہ وقت غلط روش اختیار کرنے کو تیار رہتے ہیں۔
دوسری جانب ماڈرن لوگ اظہار محبت کو اپنی شان و شوکت کے خلاف سمجہتے ہیں۔ ایسا کرنا ان کی نظر میں "پینڈو پن” ہے۔ وہ صرف "فرینڈ شپ” پر یقین رکھتے ہیں۔ ہائے رے محبت تیری قسمت ۔ اس خول کو توڑنا کتنا ہی مشکل ہے ۔ہم لبادے اوڑھے کتنے بھلے معلوم ہوتے ہیں۔ہمارے دلوں میں چھوٹی چھوٹی خواہشات کا ہونا کتنا معیوب ہے۔مٹی کے ساتھ کھیلنا ، اونچی آواز میں گانا ، بارش کے پانی میں کاغذ کی کشتیاں چلانا کتنے ہی بڑے گناہ ہیں۔ پیسہ ، مکاری ، منافقت کتنے ہی باوقار معلوم ہوتے ہیں۔
صبح کی آذان ہونے والی ہے وہ اب بھی "وٹس ایپ” کھولے اس کا اکاونٹ تکے جا رہا ہے۔ ایک طرف تو وہ اس کے ہمیشہ "آن لائن” رہنے کا خوہش مند ہے تو دوسری طرف وہ کورے کاغذ پر اپنے دل کا حال لکھے جاتا ہے ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s