دیسی لبرل

میں ایک دیسی لبرل ہوں۔ مجھے علم و ہنر کا کچھ پاس نہیں۔ میری کہانی کی ابتدا پرانی نہیں۔ پہلے پہل مجھے سیاست، دین اور بحث مباحثے سے کچھ خاص لگاو نہ تھا۔ بس سارا دن انگریزی ڈرامہ اور کارٹون دیکھتا اور رات کو دودھ پی کر سو جاتا۔ میرے چند ہی دوست تھے اور سچ جانیئے تو ان سے بھی مجھے کچھ خاص انسیت نہ تھی۔ لیکن بچپن ہی سے مجھے شہرت کی بلندیوں کو چھونے کا شوق تھا۔ مجھے ” کُول بوائے“ بننا تھا۔ لوگوں سے واہ واہ کروانا تھی۔ میرے پاس کوئی ہنر تو تھا نہیں۔ نہ میں بلا کا زبان دان نہ میں شعلہ بیاں شاعر۔ ادب سے تو مجھے الرجی تھی۔ محفل میں کھڑے ہو کر دو لفظ بولنا بھی میرے لیے محال تھا۔ شہرت کیوں کر میرے قدم چومتی؟
مگر وقت بدلا اور سوشل میڈیا نے جنم لیا۔ کیا کہنے اس سوشل میڈیا کے! یہ ہی تو وہ موقع تھا جس کی مجھے تلاش تھی۔ اب مجھے علم و ہنر کی ضرورت نہ رہی۔ بس انگریزی کے چند مشکل الفاظ سے جان پہچان ہونا کافی تھا۔ میرے پاپا نے مجھے پاکستان کے بہترین انگریزی سکول میں اسی دن کے لیے تو ڈالا تھا۔ امیر باپ کا ہونا بھی نعمت سے کم نہیں۔ غرض اب مجھے کوئی شہرت حاصل کرنے سے روک نہیں سکتا تھا۔ شروعات میں تو میں اپنی ” کُول، کُول“ تصاویر فیس بک پر لگاتا اور ”لائک“ پر لائک جمع کرتا۔سکول میں بھی سب مجھے جاننے لگے۔ دوشیزائیں مجھ سے روابت بڑھانے لگیں۔ میرا خواب پورا ہونے ہی کو تھا کہ اچانک سوشل میڈیا پر ایک اور ”ٹرینڈ “ نمودار ہوا۔
الیکشن کا زمانہ آن پہنچا تھا۔ میں نے دیکھا کہ سب کے سب سیاسی نجومی بنے ہوئے ہیں۔ اور تمام کُول بوائے پی ٹی آئی کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ مجھے نہ تو کسی پارٹی کے سیاسی سیاق و سباق کا علم تھا نہ ہی کسی کے نظریے سے ہمدردی۔ نواز یا زرداری کو سپورٹ کرنا کافی” آوٹ ڈیٹڈ “ معلوم ہوا سو بس پی ٹی آئی کا جھنڈا تھاما اور نکل پڑا ووٹ مانگنے۔ کچھ دیر بعد احساس ہوا کہ ووٹ کے لیے تو کوئی کُول بوائے باہر ہی نہ نکلا۔ کُول بوائے تو محض فیس بک پر ووٹ ڈالنے کی تصاویر لگاتے ہیں اور چوری شدہ بھاری بھرکم انگریزی اقوال زریں کے نشتر چلاتے ہیں۔ پس میں نے بھی فورا غلطی کا ازالہ کیا اور پورا دن فیس بک پر خوب جنگ لڑی۔ لیکن پی ٹی آئی ہار گئی۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ ساری محنت رائیگاں گئی۔
ابھی کچھ عرصہ قبل ہی سوشل میڈیا نے ایک اور کروٹ لی ہے۔ سیاست کے ساتھ ساتھ اب مذہبی اور نظریاتی مسئلے بھی چھڑنے لگے۔ اب لبرل ہونا،  کول ہونے کے مترادف ہے۔ میں بھلا کسی سے پیچھے کیسے رہ سکتا ہوں؟ دو ہزار ” فرینڈز “ ہیں آخر میرے فیس بک پر۔ وہ مجھے قدامت پرستی کے طعنے نہ دیں گے کیا؟ اب ہر نظریاتی مسئلے پر میں ایک شستہ انگریزی سے بھرپور” کول“ اور ”ڈونٹ جج“ والا سٹیٹس ڈال دیتا ہوں۔ ویسے بھی میں نے زندگی میں تمام علم فیس بک ہی سے حاصل کیا ہے۔ لہذا اگر کوئی دوست دلیل یا ثبوت مانگ لے تو میں کسی خالص لبرل پیج کا لنک دے دیتاہوں۔
خدا گواہ ہے کہ میں نے زندگی میں کبھی کوئی کتاب پڑھنے کا گناہ کبیرہ نہیں کیا۔ میں اپنی نظر میں تمام علوم پر پہلے ہی مکمل گرفت حاصل کر چکا ہوں۔ گو کہ میں قرآن بینی کے شرف سے بھی محروم ہوں مگر قرآنی مسئلوں پر بحث کھل کے کرتا ہوں۔ جبکہ دوسری جانب مولوی کو کم علمی کا طعنہ دیتا ہوں۔ ”فریڈم آف سپیچ“ کے تحت ہر ایک پر نکتہ چینی کرتا ہوں لیکن جب خود کے نظریات پر ضرب لگتی ہے تو ”ججمینٹل ججمینٹل “ چلانے لگتا ہوں۔ ظاہر ہے، مدنی منوں کا مذاق اڑانے والا تو بہت” کول“ معلوم ہوتا ہے لیکن ہاں میشا شفعی کے لباس پر سوال اٹھانے والے میں ضرور ”فیشن سینس “ کی کمی دکھائی دیتی ہے۔ میں اپنے لاکھوں روپے مالیت کے لیپ ٹاپ سے جب غریب بچوں کی تصویر شئیر کرتا ہوں تو دل ہی دل میں خود کو ایدھی کا مرتبہ دیتا ہوں۔
میرا پیٹ بھرا ہوا ہے۔ دولت میرے قدموں تلے ہے مگر نام کے ساتھ میں ”سوشلسٹ“ لکھوانا پسند کرتا ہوں۔ کارل مارکس کے نام سے مانوس نہیں تو کیا ہوا ”لال بینڈ “ کے پیج پر تو متحرک نظر آتا ہوں۔ ہاں یاد آیا میں جالب اور فیض کا بھی فین ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ اردو زبان لکھنے اور پڑھنے سے قاصر ہوں۔ اس پر لطف یہ کہ اب تو میں اقبال کو بڑا شاعر بھی تسلیم نہیں کرتا۔ نہ جانے کیوں ایران ، ترکی اور جرمنی میں آج بھی اقبال کا نام زندہ ہے؟ ضرور اپنے دور کے سوشل میڈیا پر کافی ”ایکٹیو“ رہا ہوگا۔ خیر مجھے اردو یا فارسی ادب سے کیا لگاو مجھے تو بس انگریزی سے یک طرفہ عشق ہے۔” کول“ اور ”اپ ٹو ڈیٹ“ احباب کی محفلوں میں ”شٹ“ اور ”فک“ جیسے الفاظ کا استعمال بلا جھجک کرتا ہوں لیکن مجھے ” ٹٹی“ کے لفظ سے گھن آتی ہے۔ اردو بھی بھلا کوئی مہذب زبان ہے؟ نری جہالت ہے صاحب نری جہالت!
میں ”گلوبل ویلج“ اور سرحد پار محبتیں بانٹنے کا حامی ہوں لیکن امت مسلمہ کے نظریہ عالمگیریت کو چلا ہوا کارتوس گردانتا ہوں۔ میں تو اب خود کو امت کا حصہ کہلوانا بھی پسند نہیں کرتا۔ مسلمانوں کی تعلیمی میدان میں پستی مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ کھربوں جہلا کا ایک سمندر ہے یہ امت۔ بے شک خود آپ میری میٹرک میں بھی سپلی تھی لیکن اس کا ذمہ دار وہ نگران تھا جس نے مجھے نقل نہیں کرنے دی۔ پاپا نے اسے پیسے بھی آفر کیے لیکن عجیب مولوی ذہنیت کا تھا۔ کہتا تھا یہ بھی کرپشن ہوتی ہے۔ قدامت پرست کہیں کا!
خیر یہ سب تو پرانی داستانیں ہیں۔ منٹو کی فلم دیکھی تو” کول“ لگی۔ بس کاغذ لیا اور اول فول جو ذہن میں تھا بک دیا۔ لوگ کہتے ہیں ہر ادیب کی طرح منٹو کے بھی الفاظ میں کئی کہانیاں پوشیدہ ہیں۔ میں نے اس کی کوئی کتاب تو نہیں پڑھی لیکن ایک ”پیچ “ پر کچھ اقتسابات پڑھنے کی کوشش کی۔ بس یہی سمجھ آیا کہ فحش اور نیچ باتیں ہی تو لکھنی ہیں۔ تو بس لکھے جاتا ہوں۔ مجھے سستی شہرت کا شوق ہے۔ اب لوگ مجھے ادیب بھی تصور کرنے لگیں گے۔ میرے مضمون شیئر کریں گے۔میرے بھی الفاظ میں چھپی کہانیاں ڈھونڈنے لگیں گے لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ میں ایک دیسی لبرل ہوں۔ مجھے علم و ہنر سے کیا واسطہ۔

از

طہ لیل

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s