دیسی لبرل

میں ایک دیسی لبرل ہوں۔ مجھے علم و ہنر کا کچھ پاس نہیں۔ میری کہانی کی ابتدا پرانی نہیں۔ پہلے پہل مجھے سیاست، دین اور بحث مباحثے سے کچھ خاص لگاو نہ تھا۔ بس سارا دن انگریزی ڈرامہ اور کارٹون دیکھتا اور رات کو دودھ پی کر سو جاتا۔ میرے چند ہی دوست تھے اور سچ جانیئے تو ان سے بھی مجھے کچھ خاص انسیت نہ تھی۔ لیکن بچپن ہی سے مجھے شہرت کی بلندیوں کو چھونے کا شوق تھا۔ مجھے ” کُول بوائے“ بننا تھا۔ لوگوں سے واہ واہ کروانا تھی۔ میرے پاس کوئی ہنر تو تھا نہیں۔ نہ میں بلا کا زبان دان نہ میں شعلہ بیاں شاعر۔ ادب سے تو مجھے الرجی تھی۔ محفل میں کھڑے ہو کر دو لفظ بولنا بھی میرے لیے محال تھا۔ شہرت کیوں کر میرے قدم چومتی؟
مگر وقت بدلا اور سوشل میڈیا نے جنم لیا۔ کیا کہنے اس سوشل میڈیا کے! یہ ہی تو وہ موقع تھا جس کی مجھے تلاش تھی۔ اب مجھے علم و ہنر کی ضرورت نہ رہی۔ بس انگریزی کے چند مشکل الفاظ سے جان پہچان ہونا کافی تھا۔ میرے پاپا نے مجھے پاکستان کے بہترین انگریزی سکول میں اسی دن کے لیے تو ڈالا تھا۔ امیر باپ کا ہونا بھی نعمت سے کم نہیں۔ غرض اب مجھے کوئی شہرت حاصل کرنے سے روک نہیں سکتا تھا۔ شروعات میں تو میں اپنی ” کُول، کُول“ تصاویر فیس بک پر لگاتا اور ”لائک“ پر لائک جمع کرتا۔سکول میں بھی سب مجھے جاننے لگے۔ دوشیزائیں مجھ سے روابت بڑھانے لگیں۔ میرا خواب پورا ہونے ہی کو تھا کہ اچانک سوشل میڈیا پر ایک اور ”ٹرینڈ “ نمودار ہوا۔
الیکشن کا زمانہ آن پہنچا تھا۔ میں نے دیکھا کہ سب کے سب سیاسی نجومی بنے ہوئے ہیں۔ اور تمام کُول بوائے پی ٹی آئی کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ مجھے نہ تو کسی پارٹی کے سیاسی سیاق و سباق کا علم تھا نہ ہی کسی کے نظریے سے ہمدردی۔ نواز یا زرداری کو سپورٹ کرنا کافی” آوٹ ڈیٹڈ “ معلوم ہوا سو بس پی ٹی آئی کا جھنڈا تھاما اور نکل پڑا ووٹ مانگنے۔ کچھ دیر بعد احساس ہوا کہ ووٹ کے لیے تو کوئی کُول بوائے باہر ہی نہ نکلا۔ کُول بوائے تو محض فیس بک پر ووٹ ڈالنے کی تصاویر لگاتے ہیں اور چوری شدہ بھاری بھرکم انگریزی اقوال زریں کے نشتر چلاتے ہیں۔ پس میں نے بھی فورا غلطی کا ازالہ کیا اور پورا دن فیس بک پر خوب جنگ لڑی۔ لیکن پی ٹی آئی ہار گئی۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ ساری محنت رائیگاں گئی۔
ابھی کچھ عرصہ قبل ہی سوشل میڈیا نے ایک اور کروٹ لی ہے۔ سیاست کے ساتھ ساتھ اب مذہبی اور نظریاتی مسئلے بھی چھڑنے لگے۔ اب لبرل ہونا،  کول ہونے کے مترادف ہے۔ میں بھلا کسی سے پیچھے کیسے رہ سکتا ہوں؟ دو ہزار ” فرینڈز “ ہیں آخر میرے فیس بک پر۔ وہ مجھے قدامت پرستی کے طعنے نہ دیں گے کیا؟ اب ہر نظریاتی مسئلے پر میں ایک شستہ انگریزی سے بھرپور” کول“ اور ”ڈونٹ جج“ والا سٹیٹس ڈال دیتا ہوں۔ ویسے بھی میں نے زندگی میں تمام علم فیس بک ہی سے حاصل کیا ہے۔ لہذا اگر کوئی دوست دلیل یا ثبوت مانگ لے تو میں کسی خالص لبرل پیج کا لنک دے دیتاہوں۔
خدا گواہ ہے کہ میں نے زندگی میں کبھی کوئی کتاب پڑھنے کا گناہ کبیرہ نہیں کیا۔ میں اپنی نظر میں تمام علوم پر پہلے ہی مکمل گرفت حاصل کر چکا ہوں۔ گو کہ میں قرآن بینی کے شرف سے بھی محروم ہوں مگر قرآنی مسئلوں پر بحث کھل کے کرتا ہوں۔ جبکہ دوسری جانب مولوی کو کم علمی کا طعنہ دیتا ہوں۔ ”فریڈم آف سپیچ“ کے تحت ہر ایک پر نکتہ چینی کرتا ہوں لیکن جب خود کے نظریات پر ضرب لگتی ہے تو ”ججمینٹل ججمینٹل “ چلانے لگتا ہوں۔ ظاہر ہے، مدنی منوں کا مذاق اڑانے والا تو بہت” کول“ معلوم ہوتا ہے لیکن ہاں میشا شفعی کے لباس پر سوال اٹھانے والے میں ضرور ”فیشن سینس “ کی کمی دکھائی دیتی ہے۔ میں اپنے لاکھوں روپے مالیت کے لیپ ٹاپ سے جب غریب بچوں کی تصویر شئیر کرتا ہوں تو دل ہی دل میں خود کو ایدھی کا مرتبہ دیتا ہوں۔
میرا پیٹ بھرا ہوا ہے۔ دولت میرے قدموں تلے ہے مگر نام کے ساتھ میں ”سوشلسٹ“ لکھوانا پسند کرتا ہوں۔ کارل مارکس کے نام سے مانوس نہیں تو کیا ہوا ”لال بینڈ “ کے پیج پر تو متحرک نظر آتا ہوں۔ ہاں یاد آیا میں جالب اور فیض کا بھی فین ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ اردو زبان لکھنے اور پڑھنے سے قاصر ہوں۔ اس پر لطف یہ کہ اب تو میں اقبال کو بڑا شاعر بھی تسلیم نہیں کرتا۔ نہ جانے کیوں ایران ، ترکی اور جرمنی میں آج بھی اقبال کا نام زندہ ہے؟ ضرور اپنے دور کے سوشل میڈیا پر کافی ”ایکٹیو“ رہا ہوگا۔ خیر مجھے اردو یا فارسی ادب سے کیا لگاو مجھے تو بس انگریزی سے یک طرفہ عشق ہے۔” کول“ اور ”اپ ٹو ڈیٹ“ احباب کی محفلوں میں ”شٹ“ اور ”فک“ جیسے الفاظ کا استعمال بلا جھجک کرتا ہوں لیکن مجھے ” ٹٹی“ کے لفظ سے گھن آتی ہے۔ اردو بھی بھلا کوئی مہذب زبان ہے؟ نری جہالت ہے صاحب نری جہالت!
میں ”گلوبل ویلج“ اور سرحد پار محبتیں بانٹنے کا حامی ہوں لیکن امت مسلمہ کے نظریہ عالمگیریت کو چلا ہوا کارتوس گردانتا ہوں۔ میں تو اب خود کو امت کا حصہ کہلوانا بھی پسند نہیں کرتا۔ مسلمانوں کی تعلیمی میدان میں پستی مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ کھربوں جہلا کا ایک سمندر ہے یہ امت۔ بے شک خود آپ میری میٹرک میں بھی سپلی تھی لیکن اس کا ذمہ دار وہ نگران تھا جس نے مجھے نقل نہیں کرنے دی۔ پاپا نے اسے پیسے بھی آفر کیے لیکن عجیب مولوی ذہنیت کا تھا۔ کہتا تھا یہ بھی کرپشن ہوتی ہے۔ قدامت پرست کہیں کا!
خیر یہ سب تو پرانی داستانیں ہیں۔ منٹو کی فلم دیکھی تو” کول“ لگی۔ بس کاغذ لیا اور اول فول جو ذہن میں تھا بک دیا۔ لوگ کہتے ہیں ہر ادیب کی طرح منٹو کے بھی الفاظ میں کئی کہانیاں پوشیدہ ہیں۔ میں نے اس کی کوئی کتاب تو نہیں پڑھی لیکن ایک ”پیچ “ پر کچھ اقتسابات پڑھنے کی کوشش کی۔ بس یہی سمجھ آیا کہ فحش اور نیچ باتیں ہی تو لکھنی ہیں۔ تو بس لکھے جاتا ہوں۔ مجھے سستی شہرت کا شوق ہے۔ اب لوگ مجھے ادیب بھی تصور کرنے لگیں گے۔ میرے مضمون شیئر کریں گے۔میرے بھی الفاظ میں چھپی کہانیاں ڈھونڈنے لگیں گے لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ میں ایک دیسی لبرل ہوں۔ مجھے علم و ہنر سے کیا واسطہ۔

از

طہ لیل

Advertisements

ڈی سی-دوسرا حصہ

صاحب کی زندگی کا مطالعہ کرنے پر ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کی زندگی کے تین ہی مقاصد تھے۔ان کی نظر میں زندگی کی تمام رعنائیاں انہی میں پوشیدہ تھیں۔ان کی محبوبہء اول کرکٹ تھی۔دن ہو یا رات۔گرمی ہو یاسردی۔حرام ہے کہ کوئی میچ ان کی نظر سے بچ کر نکل جائے۔سارادن بس اسی چکر میں رہتے کہ کسی طرح سکور کارڈ دیکھنے کو مل جائے۔اس پر ستم یہ کہ ہر کھلاڑی کا پورا شجر نسب یاد ر کھنا تو جیسے فرض اول تھا۔بد قسمتی سے خود بھی کرکٹر تھے مگر ہمیشہ ٹیم انہیں سامان کی نگرانی کا فریضہ ہی سونپتی۔
ان کا دوسرا دیرینہ شوق ریسلنگ تھا۔ وہ ریسلنگ جسے ہم بچپن میں دیکھا کرتے تھےاور اس وقت سے ہم سب پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح تھی کہ یہ سب فریب اور دھوکہ بازی ہے ۔مگرڈی سی صا حب کا آج بھی ریسلنگ پر یقین کامل ہے ۔ان کا اب بھی یہی عقیدہ ہے کہ "انڈر ٹیکر ” محیر العقول انسان ہے جبکہ "جان سینا” سچائی کا دیوتا ہے۔اگر غلطی سے ریسلنگ کا ایک شو بھی ان کی گرفت سے نکل جا ئے تو وہ اسے باعث ہزار رنج و غم گردانتےہیں۔ اکثر شرٹس پر بھی ریسلرز کی تصاویر نقش ہیں۔ غرض "کالر ٹیون” سے لے کر فیس بک تک ہر جگہ ریسلنگ ہی کا راج ہے۔
تیسرا شوق جیسا کہ بتایا جا چکا ہے "فیس بک” تھا۔دراصل فیس بک ان کے تمام عناصر زندگی کے مجموعے کا نام تھا۔ کر کٹ کی تازہ خبریں ہوں یا ریسلنگ کے ہفتہ وار شو ،سب کچھ فیس بک پر ملتا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ انسان کی زندگی میں رومانس کا عنصر نہ ہو تو زندگی بے کار ہے۔ای ایم ای کی شاید ہی کوئی ایسی خوش نصیب دوشیزہ ہو جسے صاحب نے "درخواست الفت” نہ بھیجی ہو۔سچ جانئے تو ہم اس باب میں حسد کا شکار ہو چکے تھے۔ ڈی سی کے پاس کمی نہ تھی اور ہمارے پاس تو گویا قحط و خشک سالی کا دور دورہ تھا ہمارے نزدیک یہ سرمایہ دارانہ نظام کی بد ترین مثال تھی۔ایک مرتبہ ہم نے یہ راز جاننے کی کوشش کی ۔
ڈی سی صاحب ذرا یہ تو بتلائیے کہ آخر قسمت آپ پر اتنی مہربان کیوں ہے؟
ارے صاحب ہمارا تو یہ ایمان سے کہ انسان اپنی قسمت آپ سنوارتا ہے۔پس ہم جس دو شیزہ کا اکاونٹ دیکھتے ہیں ، نہایت فراغ دلی سے انہیں درخواست الفت ارسال کر دیتے ہیں۔جان پہچان کا ہونا ضروری نہیں ،صرف یقین کی طاقت کاہونا ضروری ہے۔اگر آپ کو یقین نہ آئے توخود آزما کر دیکھ لیں۔
ہما رے لیے تو یہ طریقہ کارآمد ثابت نہ ہو سکا مگر ڈی سی نے اس طریقہ کار پر خوب عمل کیا ۔ای ایم ای کی شاید ہی کو ئی ایسی دوشیزہ ہو جو صاحب کے ساتھ ایڈ نہ ہو۔
ڈی سی کے ساتھ گزرا ہر دن یاد گارہے۔ان کی ایک عجیب عادت جو ہمارے تن بدن میں آگ لگا دیتی تھی ان کے اچانک نمودار ہونے والے گھٹیا اور گھسے پٹے سوالات تھے۔ ایک مرتبہ ہم انتہائی پریشانی کے عالم میں کمرہ امتحان کے باہر کھڑے تھے۔پرچہ شروع ہونے کو تھا ،سب لوگ ادھر ادھر کتابیں اٹھا ئےکھڑے تھے۔ہر ایک کو اپنی جان کی پڑی تھی غرض یہ کہ افراتفری کا عالم۔اتنے میں صاحب کہیں سے آن نکلے۔ہم نے نظر بچائی مگرانہوں نے بھانپ لیا۔ہمارے پاس آکر کھڑے ہو گئے۔پہلے پہل ہمیں مطالعے میں مشغول دیکھا تو ادھر ادھر ٹہلنے لگے۔ چہرے کے تاثرات ایسے تھے کہ جیسےکچھ نہایت اہم بات کہنا چاہتے ہوں۔آخر کار ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور یکا یک بولے ۔۔۔کل کا میچ یکھا ؟؟ اے۔بی کی بیٹنگ ؟؟۔۔۔۔ہم حیرت سے ان کی جانب دیکھنے لگے۔ہمارے چہرے کے تاثرات کو بھانپ کر کہنے لگے ۔۔۔صرف پوچھا ہے ۔۔ہاں یا نا میں ہی جواب دے دیں۔۔۔ہم نے نفی میں سر ہلایا۔ نجانے ان کی کون سی دلی خواہش پوری ہوئی ۔۔مسکرائے اور چل دیے۔۔یقین جانئے ہم پرچے کے دوران بھی ان کی اس حرکت پر حیران و پریشان سوچتے رہے۔
لیکن صاحب ذرا غور کریں تو یہ تمام حرکتیں تو شاید آپ اور ہم سب کسی نہ کسی صورت میں کبھی نہ کبھی ضرور کیا کرتے ہیں ۔لیکن ایک کام ہے جو ہم نے صرف ڈی سی کو ہی کر تے دیکھا ہے۔ڈی سی کی زندگی کا ایک اور مقصد بھی تھا جسے شاید اس نے خود بھی نہیں پہچانا ۔وہ تھا خدمت خلق کا جذبہ۔دن ہو یا رات ۔جنگ ہو یا امن ۔ای ایم ای میں اگر کوئی شخص آپ کے کام آئے گا تو وہ ڈی سی ہے۔خواہ دوست ہو یا دشمن وہ کبھی فرق نہیں کرتا۔ہر ایک کا کام کرنا تو جیسے اس کا فرض ہے۔میں نے کبھی اسے کسی کو "نہ”کہتے نہیں سنا۔اپنا کام چھوڑ کر ہمیشہ دوسرے کا کام کرتا ۔اپنا نقصان کر لیا کرتا مگر دوسروں کو نفع دیتا۔مجھے یاد ہے پورے ہوسٹل کو چائے بنا کر دیا کرتا۔جونیئر آتا یا سینئر خود اٹھ کر ان کے لیے چائے بناتا۔ مجھے یاد نہیں کہ کبھی میں نے اپنے کپڑے خود دھوبی کو دیے ہوں نہ ہی مجھے میری املاک کا کچھ خیال ہوتا ۔وہ ہمیشہ میری چیزوں کی حفاظت کرتا۔میری خاطر دوسروں سے لڑ جاتا۔لوگ اس کی اس روش کو غلط انداز میں لیتے ہیں ۔وہ اسے گھٹیا سمجھ بیٹھے ہیں۔وہ ان کے پاس جا کر کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اسے چھوڑ کر آگے بڑھ جا تے ہیں ۔مگرخدا کا قانون تو زندہ ہے ۔مصیبت پڑتی ہے تو سب ڈی سی ،ڈی سی کی صدائیں لگاتے ہیں۔اس میں ہزار غلطیاں ہوں لیکن کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ ڈی سی نے اس کا دل دکھایا ہے۔
دراصل ڈی سی بے وقوف نہیں ،وہ تو زندگی کے اس دیرینہ مقصد کو حاصل کر چکا ہے جس سے ہنوز ہم سب کوسوں دور ہیں۔ای ایم ای میں آپ کو ہر جانب ذہین و فطین لوگ ملیں گےلیکن اگر کوئی دل کا بادشاہ ہے تو وہ ڈی سی ہے۔جو لوگ اس پر ہنستے ہیں وہ مجھے ایک دن ڈی سی کے طرح لوگوں کی خدمت کر کے دکھائیں۔وہ بلامعاوضہ سب کی مدد کو تیار رہتا ہے۔
میں اکثر ڈی سی سے مذاق کیا کرتا کہ ہر سال سینکڑوں فوجی سٹوڈنٹ آتے ہیں ، سولین کی تعداد بھی ہزاروں میں ہوتی ہے فو جیوں کی بچے بھی خصوصی سیٹوں پر آتے ہیں ۔مگران سب میں صرف ایک ڈی سی آتا ہے ۔ سچ مچ ڈی سی ایک الگ وصف ہے۔ڈی سی محض ڈی اور سی کا مخفف نہیں۔بلکہ یہ تو بے لوث خدمت اور انسانیت کا نام ہے۔میری یہ خواہش ہے کہ ڈی سی کے علاوہ تمام لوگ اس تحریر کو پڑہیں اور اپنی زندگیوں میں آنے والے ہر اس ڈی سی کی قدر کریں جو زندگی کی اصل رعنائیوں اور دلکشی سے واقف ہے ۔جس نے جھوٹے لبادے نہیں اوڑھ رکھے۔جو دراصل ” انسان ” ہے۔
میں ڈی سی سے کہا کرتا کہ ان لوگوں کے کام نہ کیا کر جو تیری قدر نہیں کرتے اور تجھے برا بھلا کہتے ہیں ۔انہیں کھری کھری سنا دیا کر ۔وہ مجھے کہا کرتا کہ یار تو مجھے طریقہ سکھا ان سے کیسے لڑوں ۔۔میں بھلا اسے کیا طریقہ سکھاتا الٹا وہ مجھے زندگی جینے کا طریقہ سکھا گیا۔

از

طہ لیل

ڈی سی -پہلا حصہ

آج نجانے بیٹھے بیٹھے کیوں ان کی یاد ستانے لگی۔شاید کسی چیز کی اہمیت و وقعت کا اندازہ اسی وقت ہوتا ہے جب وہ آپ سے دور ہو۔کچھ ایسی ہی رومانوی داستان ہے ڈی سی صاحب اور ہماری ۔متوسط قد،گندمی رنگت،گردن ذرا جھکی ہوئی،چہرہ عینک کے بوجھ تلے دبا ہوا،پیٹھ پر لٹکا بھاری بھرکم بستہ ،جس میں لیپ ٹاپ کے سواء اور کچھ نہ ہوتا۔یہ ہیں ہمارے ڈی سی صاحب۔ڈی سی صاحب ،جن کا اصل نام تو شاید ہی کسی کو یاد ہو ،ہمارے ہم جماعت اور روم میٹ واقع ہوئے ہیں۔صاحب ہمارے پہلے روم میٹ تھے۔یہ الگ بات ہے کہ اس سے قبل بھی ہم چند احباب کے ساتھ رہے پر معمول یہی ہوتا کہ جب ہم کمرے میں ہوتے تو وہ نہ ہوتے اور جب وہ ہوتے تو ہم نہ ہوتے ، اور اکثر اوقات وہ ہوتے ، ان کے دوست احباب ہوتے اور ہم باہر کی دنیا میں مشغول ہوتے۔کمرے میں تمکن ہمیں ڈی سی کی آمد کے بعد ہی نصیب ہوا۔ڈی سی دراصل انگریزی حروف ڈی اور سی کا مخفف ہے ۔ڈی سے مراد دماغ ہے جبکہ سی سے مراد چوس ہے۔یعنی دماغ چوس۔چند احباب لفظ ڈی سی کی کئی اور تشریحات بھی کرتے ہیں پر ہم ہزار ہا کاوش کے باوجود ،اخلاقیات کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ،انہیں بیان کرنے سے قاصر ہیں۔
پورے ای ایم ای کے لیے یہ بات باعث استعجاب و حیرت تھی کہ ہم نے ڈی سی صاحب کو اپنا روم میٹ آخر کیونکر چنا ؟ ہمیں لوگوں نے ہزار ہا نصیحتیں کیں کہ صاحب تم تو نادان ہو ۔۔ کیوں اپنی جان کے دشمن بنے بیٹھے ہو ؟ تمہیں علم نہیں کہ آٹھ ، دس معصوم تم سے قبل بھی ان کا شکار بن چکے ہیں۔ہوش سے ناخون لو۔ پر کوئی کیا جانے کہ ڈی سی صاحب تو ہمیں اپنی اداوں سے پہلے ہی اسیر کر چکے تھے۔روزانہ شام کی چائے کے وقت کمرے میں آنا ان کا معمول بن گیا ۔ہاتھوں میں "گورمے ” کے تازہ اور لذیذ بسکٹوں کا ڈبہ لیے داخل ہوتے اور نہایت شائستانہ انداز میں اسے ہماری جانب بڑھاتے۔
"والدہ صاحبہ نے تاکید فرمائی تھی کہ انہیں خود بھی جی بھی کر کھانا اور اپنے روم میٹ کو بھی کھلانا۔۔۔اب آپ ہی ہمارے روم میٹ ہیں تو جی بھر کر کھائیے۔”
نہ جانے ان بسکٹوں میں کیسی تاثیر تھی کہ ہم نے ڈی سی صاحب کو اپنا روم میٹ بنانے کی حامی بھر لی اور اس طرح ڈی سی اور ہماری داستان کا آغاز ہوا۔
پہلا دن ہمیشہ کسی بھی داستان کا سب سے یادگار دن ہوا کرتا ہے۔پر ہماری طرف یہ یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ کافی دردناک بھی تھا۔رات کا پچھلا پہر تھا،ہم خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے۔ای ایم ای میں سہانے خواب بھی ناپید ہیں۔پر قسمت کبھی کبھار مہربان بھی ہوا کرتی ہے۔ہم ایک حسین خواب میں جانبِ منزلِ مقصود رواں دواں تھے کہ اچانک جیسے زمین تھر تھرانے لگی۔ہم ہنوز خواب ہی میں تھے ۔سمجھے کہ ضرور قیامت برپا ہوگئی ہے۔ہڑ بڑا کر اٹھے۔ذرا غور کیا تو پایا کہ ڈی سی صاحب کا موبائل مرغِ بسمل کی طرح تڑپ رہا ہے اور اس میں سے عجیب و غریب قسم کی آوازیں نکل رہی ہیں ۔ہماری جان پر بن آئی تھی ادھر ڈی سی صاحب نے نہایت اطمینان سے نیند ہی میں ایک آنکھ کھولی ، موبائل پر ایک مغرورانہ نگاہ ڈالی،ایک بٹن دبایا اور یکایک آنکھ بند کر لی۔۔۔ ہم حیران و پریشان انہیں تکتے رہے۔اب ہمیں کیا خاک نیند آنی تھی ۔کبھی ادھر کروٹ بدلتے کبھی ادھر۔جلد ہی لطف میں اضافہ ہوا اور سماں صاحب کے سریلے خراٹوں سے گونجنے لگا ۔یہ پہلا موقع تھا جب ہمیں اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا۔دل ہی دل میں ٹھانی کہ صبح ہوتے ہی صاحب سے کہیں گے کہ اپنا سامان باندھو اور چلتے بنو۔انہی ترکیبوں کی تشکیل کر رہے تھے کہ نیند نے ایک بار پھر ہمیں آن گھیرا۔ہمارےمطابق شاید چند ہی سیکینڈ گزرے ہوں گے کہ ایک مرتبہ پھر عذاب کا نزول ہوا۔اس مرتبہ ہم ہرگز حواس باختہ نہ ہوئے اور ڈی سی صاحب کے رد عمل کا انتظار کرنے لگے۔صاحب نے ایک مرتبہ پھر داہنی آنکھ کھولی۔فون کان پر لگایااور مری ہوئی آواز میں مخاطب ہوئے ” جی امی اٹھ گیا ہوں ۔۔۔۔نہیں دو گھنٹے قبل ہی اٹھ گیا تھا۔۔۔۔طبیعت ناساز ہے اس لیے آواز میں جان نہیں۔۔جی نماز پڑھنے ہی لگا ہوں۔۔”
ہم یہ تمام گفتگو نہایت اطمینان سے سنتے رہے اسی انتظار میں تھے کہ جیسے ہی فون بند ہوگا دل کا سارا غبار نکال باہر کریں گےاور اسی وقت صاحب کوچلتا کریں گے۔
فون بند کرتے ہی وہ ہم سے مخاطب ہوئے ” ارے صاحب اٹھیئے وقتِ فجر ہے ۔نماز ادا کیجیئے۔” اب ہم ٹہرے گناہ گار انسان جس نے نماز ادا کرنے کا سوچا تک نہ تھا۔یہ سنتے ہی ہمیں تو جیسےسانپ سونگھ گیا۔چپ سادھے پڑے رہے۔ڈی سی صاحب نے نماز ادا کی اور لیپ ٹاپ کھولا ۔ناشتے کے وقت تک وہ اپنی جگہ سے ایک انچ نہ ہلے۔اس دوران ان کے گھر سے مسلسل کالیں آتی رہیں۔وہ ہر بار یہی جواب دیتے ” جی جی میں مطالعہ کر رہا ہوں۔۔۔”ہمارے لیے تو یہ ڈوب مرنے کا مقام تھا ۔شرمندگی کے مارے انہیں بھلا کیا کہتے ایک تو نمازی تھے اور پھر "باقائدہ مطالعہ کی عادت” ۔۔۔اس راز سے پردہ بعد میں اٹھا کہ جناب علی الصبح فیس بک پر مٹر گشتیاں کیا کرتے۔
یہ ایک دن کا واقعہ نہ تھا۔بلکہ روز کا معمول تھا۔ہر روز تین مرتبہ الارم بجتا ،پھر تین مرتبہ صاحب کے گھر سے کال آتی۔ہزار مرتبہ منت سماجت کی کہ صاحب موبائل کی آواز بند کر دیا کریں یا کم از کم اس قیامت خیز تھر تھراہٹ کو تو لگام دیں جس سے ہمارا دل لرز اٹھتا ہے۔لیکن وہ ہر بار نہایت معصومانہ جواز پیش کیا کرتے کہ صاحب اگر ہم وقت پر کال کا جواب نہ دی٘ں گے تووالدہ صاحبہ پریشان ہوں گی۔کیا آپ ہماری والدہ کی پیشانی کا سبب بننا پسند کریں گے ؟ اب بھلا ہمارے جیسے شریف نفس انسان کا ایسے حالات میں کیا رد عمل ہونا تھا ۔۔چپ چاپ ستم سہتے رہے۔
تعلیم کے معاملے میں صاحب بڑے خوش قسمت تھے۔پورا دن انتہائی انہماک سے فیس بک میں مگن رہتے۔رات کو ہمارے پر زور اصرار پر کتاب اٹھاتے ۔بمشکل دس منٹ کی صبر آزما محنت کے بعد ہم سے مخاطب ہوتے ۔۔۔یہ تو نہایت آسان ہے ہمارا خیال ہے تھوڑا آرام کر لیا جائےتاکہ صبح وقت پر آنکھ کھل جائے۔اس کے بعد وہ ایسے گھوڑے بیچ کر سو جایا کر تے جیسے پورا دن پڑھ پڑھ کر ہلکان ہو گئے ہوں۔پر قسمت کے دھنی تھے۔اکثر اوقات ان دس،پندرہ منٹ میں جو کچھ پڑھتے پرچے میں وہی آتا۔ہمیں ان پر شدید غصہ آتا کہ یہ عجب تماشا ہے پورا دن ہم سر کھپائیں اور پھر بھی سوال وہ آئیں جو صاحب نے تیار کیے ہیں اور اس پر ادائیں یہ کہ ہماری موجودگی میں گھر والوں کوفون پر فخر سے بتایا کرتے ۔۔۔ہاں ،ہاں رومیٹ سے تو بہتر ہی ہو گیا ہے ہمارا پرچہ ۔۔۔بے فکر رہیں۔۔

آگے جاری ہے۔۔۔۔

از

طہ لیل

آن لائن

رات قریبا ایک بجے کا وقت ہے۔وہ بے چینی سے کبھی ادھر کروٹ بدلتا ہے توبھی ادھر۔ گویا نیند اس سے روٹھ چکی ہو۔وہ بار بار موبائل فون اپنے تکیے کے نیچے سے نکالتا ہے اور تصدیق کرتا ہے کہ کہیں کوئی میسج یا کال تو نہیں آئی۔وہ ہر پانچ منٹ بعد "وٹس ایپ” پر اس بات کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ آیا "وہ” آن لائن ہے کہ نہیں۔کافی دیر گزر چکی ہے وہ آن لائن تو ہے مگر کوئی میسج نہیں کرتی۔اس کے دل میں ایک خفیف سی امید ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی پیغام تو ضرور آئے گا۔یہ آگ یکطرفہ نہیں ہو سکتی وہ دل کو تسلی دیتا ہے۔آہ کہ انتظار موت سے بد تر ہے۔ اسی اثناء میں "وہ” اپنی ڈی-پی تبدیل کرتی ہے ۔ کسی بھنورے کی طرح یہ فورا سے بھی پہلے ڈی-پی کھولتاہے اور دل ہی دل میں مفروضے گھڑنے لگتا ہے۔
"ہاں ، اس سے مراد شاید یہ ہو ۔۔نہیں شاید فلاں بات کا جواب ہو۔۔شاید وہ کچھ کہنا چاہتی ہو”
وہ کش مکش کا شکار ہے ۔بات کرنا بھی چاہتا ہے مگر گھبراتا ہے ۔ کبھی اپنے خاندان سے تو کبھی معا شرے سے ۔ کبھی مذ ہب کے ٹھیکے داروں سے تو کبھی اپنے ماڈرن دوستوں سے۔ وہ ہمت جوٹا کر میسج ٹائپ کرتا ہے مگر اس خوف سے کہ دوست "تاڑو” کہیں گے، گھر والے "بے غیرت” اور وہ "کم تر” ، پھر گھبرا جاتا ہے ۔ وہ بار بار میسج لکھتا ہے اور پھر مٹا ڈالتا ہے ۔ اسے اس سرے کی تلاش ہے جہاں سے ابتداء کی جائے۔ ہم نے ایسا معاشرہ قائم کیا ہے جہاں سیدھی بات کرنا نہایت معیوب ہے وہ کیونکر اسے یک لخت سب کچھ بتا ڈالے؟
وہ ایک بار پھر میسج مٹانے ہی والا تھا کہ "سینڈ” کے بٹن پر غلطی سے ہاتھ لگا ۔ انسان چاہے ہزار رنگ بدلے ۔ اس کا ہر عمل چاہے ذو معنی ہو، مگر اس کی بنائی چیزیں منافق نہیں۔ اب اس میسج کو بھلا کون روک سکتا تھا؟ وہ ایک دم ہڑبڑا کر اٹھا ۔ "یا خدا یہ کیا ہوا؟ میری "ویلیو ڈاون” ہو جائے گی اس کے سامنے ۔۔وہ کیا سوچے کی میرے بارےمیں؟” ابھی وہ اسی پریشانی کے عالم میں تھا کہ جواب موصول ہوا۔انسان کیسا عجیب ہے جو خود اپنے آپ سے بھی جھوٹ بولتا ہے ۔ ایک لمحہ پہلے جس چہرے پے پریشا نی کے سائے تھے اب اس پے مسرت عیاں تھی۔اس موقع کی تلاش میں اس نے پوری رات گزاری تھی ، جھٹ سے میسج لکھا
"ایک دن میں تین تین بار تصویر تبدیل؟ خیریت ؟”
"ہاں کچھ خاص نہیں۔۔۔بس موڈ پر انحصار کرتا ہے”
"پھر تو تصویر دیکھ کر لگتا ہے کہ موڈ کافی خراب ہے”
"ہاں،انسان زندگی میں مختلف مراحل سے گزرتا ہے ،کبھی خوشی کبھی غم”
"غم کی وجوہات ہوا کرتی ہیں”
"کبھی کبھار وجوہات کی عدم مو جودگی ہی غم کا باعث بنتی ہے”
"سنا ہے غم بانٹنے سے کم ہوا کرتا ہے ؟”
"اس کا انحصار غم بانٹنے والے پر ہے 🙂 ”
"ٹھیک ہے تم جیتی ، ہم ہارے”
"جیت ہمیشہ میری ہی ہوا کرتی ہے p: ”
"یا پھر شاید میں تمہیں ہرانا ہی نہیں چاہتا”
"اچھا ؟ ہم پر اتنی مہربانی کی وجہ ؟ ”
"پھر کبھی بتاوں گا”
"ابھی کیوں نہیں ؟ ”
"ابھی وقت نہیں ”
اس کے بعد طویل خاموشی چھا گئی۔ آہ کہ ہم "ابھی وقت نہیں” اور "اب وقت نہیں” کے درمیان جکڑے جا چکے ہیں۔دونوں اپنی اپنی جگہ سوالات لیے اس بات کے منتظر ہیں کہ پہل کون کرتا ہے۔ ان کا انتظار فضول ۔ ان کا ہر خیال فضول۔ ہم عجب معا شرے میں رہتے ہیں جہاں نفرت کا اظہار کرنا دلیری اور بہادری کا کام سمجھا جاتا ہے ۔جبکہ محبت کرنا ایک جرم ، ایک فرسودہ روایت ۔ اگر کسی کو ہماری بات سے اختلاف ہے تو اپنے محلے یا گھر میں با آواز بلند یہ کہ کر دیکھے کہ ” میں فلاں لڑکی سے نفرت کرتا ہوں” آپ کی آواز پر کوئی کان نہ دھرے گا ۔ مگر ادھر آپ نے محبت کا اظہار کیا ادھر آپ پر کفر ، بے غیرتی اور بے حیائی کے فتوے لگے ۔ ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں مگر اپنی بہنوں کو پسند کی شادی کی اجازت نہیں دیتے۔ اور ایسا کرنے والے کو بے غیرت کہتے ہیں۔
آہ کہ ہم نفرت کر کے کتنے عظیم کہلاتے ہیں۔ جوتے کی نوک پر رکھنا اور ” پلے بوائے ” بننا ہمارے مشغلے ہیں۔ چاہے مرد ہو یا عورت دونوں ہی محبت کے جذبے سے عاری ہیں اسی لیے یہ ہمہ وقت غلط روش اختیار کرنے کو تیار رہتے ہیں۔
دوسری جانب ماڈرن لوگ اظہار محبت کو اپنی شان و شوکت کے خلاف سمجہتے ہیں۔ ایسا کرنا ان کی نظر میں "پینڈو پن” ہے۔ وہ صرف "فرینڈ شپ” پر یقین رکھتے ہیں۔ ہائے رے محبت تیری قسمت ۔ اس خول کو توڑنا کتنا ہی مشکل ہے ۔ہم لبادے اوڑھے کتنے بھلے معلوم ہوتے ہیں۔ہمارے دلوں میں چھوٹی چھوٹی خواہشات کا ہونا کتنا معیوب ہے۔مٹی کے ساتھ کھیلنا ، اونچی آواز میں گانا ، بارش کے پانی میں کاغذ کی کشتیاں چلانا کتنے ہی بڑے گناہ ہیں۔ پیسہ ، مکاری ، منافقت کتنے ہی باوقار معلوم ہوتے ہیں۔
صبح کی آذان ہونے والی ہے وہ اب بھی "وٹس ایپ” کھولے اس کا اکاونٹ تکے جا رہا ہے۔ ایک طرف تو وہ اس کے ہمیشہ "آن لائن” رہنے کا خوہش مند ہے تو دوسری طرف وہ کورے کاغذ پر اپنے دل کا حال لکھے جاتا ہے ۔

شخصیت پرستی

میری نظر میں ہماری قوم کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم اعلی درجہ کے "شخصیت پرست” واقع ہوئے ہیں ۔ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہمیں تو بس اس شخصیت کا دفاع کرنا ہے جسے ہم یا ہمارے باپ دادا اپنا "گڈریا” تسلیم کر چکے ہیں۔
اندھی تقلید نے اس قوم کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہےکہ چاہے بات کھیل کی ہو، مذہب کی ہو یا سیاست کی ، عقل اور دلیل کے مقدس ایوانوں سے فیصلہ لینے کی بجائے ہم ہمیشہ جذبات اور روایات کے فرسودہ احکامات کی پیروی کو ترجیح دیتے ہیں۔کوئی عمران کا جیالا ہے تو کوئی  نواز کا ،کسی کو مشرف کا درد ستاتا ہے تو کوئی الطاف بھائی کو دیوتا مانتا ہے۔کسی کو آج تک بھٹو یاد آتا ہے تو کوئی مرد حق کے نعرے لگاتا ہے۔حتی کہ اگر آپ ابھی  آفریدی اور مصباح کی بات چھیڑ دیں تو یہ قوم لڑ لڑ کر ایک دوسرے کو لہو لہان کر دے۔کوئی یہ نہیں جانتا کہ ان شخصیات نے جو کارنامے کیے وہ کیا ہیں اور یہ کہ جس کی مخالفت میں آپ اخلاقیات تک کو بھلا بیٹھے ہیں وہ بھی پاکستان کی خاطر لڑا ہے۔ اگر آپ اس  کے کسی ایک طرز عمل سے اختلاف کر رہے ہیں تو اس کی اچھائی کو تسلیم بھی کریں۔

یہ بات آخر ہم کیوں نہیں سمجھ  پا رہے کہ اس دنیا میں فرشتے نہیں بستے،آپ کا مخالف بھِی "سچ” بول سکتا ہے اور آپ کا لیڈر بھی "جھوٹ” کا سہارا لے سکتا ہے۔ہم طالبان کو "شدت پسند” قرار دیتے ہیں لیکن افسوس کہ خود اپنی ذات میں چھپے بیٹھے شدت پسند کو کوئی نہیں پہچان پا رہا۔ جمہوریت محض "ووٹ” ڈالنے کا نام نہیں ، بلکہ قدامت پرستی اور شخصیت پرستی کی انسانیت سوز روایات کو توڑ ڈالنے کا نام ہے۔

انقلاب خون خرابے کانام نہیں بلکہ انقلاب قلب و دماغ کی تبدیلی کا نام ہے ۔۔۔ ہنگامے سے شاید حکومت کا تختہ تو الٹ جا ئے ، جو کہ ضروری بھی معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے بعد کا منظر کیا ہوگا؟ مان لیا کہ ہم نے "لا” کی منزل تو طے کر لی لیکن "الا” کی خبر کسے ہے؟ "الا” کو پہچانے بغیر ہم یقینا تباہ و برباد ہو جائیں گے۔
حقیقی انقلاب اور تبدیلی تبھی ممکن ہوگی جب ہمارے قلب و دماغ سے شخصیت پرستی کے آسیب ذدہ محلات کا صفایا ہو جائے گا۔ یہ محض خواب خیالی نہیں ،ایسا انقالاب  محمد( ص) کے ہاتھوں  شرمندہ تعبیر ہوا اور دنیا نے اسے تسلیم کیا۔ اس بات کا اعتراف کسے نہیں کہ مکہ کے خانہ بدوش ، قلب و دماغ کی تبدیلی کے باعث خدا ئے واحد کا پرچم لے کر اٹھے اور پوری دنیا پر چھا گئے۔ اس فردوس گم گشتہ کو ہمیں ڈھونڈ لانا ہوگا ۔اور ایسا تبھی ممکن ہے جب ہم اپنے آپ کو شخصیت پرستی سے آزاد کریں اور اپنے کردار اور خیالات کو قرآن کے قالب میں ڈھالیں۔

از

طہ لیل

میوزیکل کنسرٹس

I wrote it in 2011 . Rebolging it on request 🙂

بحرِ خیالات

چند دن پہلے پنجاب اسمبلی نے تعلیمی اداروں میں ”قابلِ اعتراض“ میوزیکل کنسرٹس پر پابندی کی قرارداد منطور کی،مگر شاید کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ معاملہ اتنا سنگینی اختیار کر جائے گا۔اور ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو جائے گا۔اب اپوزیشن جماعتوں نے میوزیکل کنسرٹ کے حق میں دلائل دینے شروع کر دیے ہیں جبکہ پنجاب حکومت نے بھی اپنی قراردادکو صحیح قرار دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔حکومت نے  ” یوٹرن ”  لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے صرف قابل ِاعتراض کنسرٹس پر پابندی لگائی ہے۔۔۔۔ لیکن اصل مسئلہ وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ”قابلِ ا عتراض“کی تعریف کیا ہے؟؟قارئین اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔لہذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس معاملے میں اسلام اور جمہوریت دونوں کے تقاضوں کو پورا کریں،اگرچہ ایساکرنا موجودہ صورت حال میں ممکن…

View original post 1,383 more words

امید سحر کی بات سنو

شیر خان کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔اس کی نظروں کے سامنے وہ تمام مناظر گھومنے لگے جن میں ان خبیث لوگوں نے اس کے ساتھیوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔نجانے کتنے دنوں سے وہ اس موقع کی تلاش میں تھا ۔آج اپنا شکار سامنے دیکھ کر وہ جذباتی ہو گیا ۔ اس کا چہرا غصے سے سرخ ہو چکا تھا۔ پینٹ شرٹ میں ملبوس ایک نوجوان، جس کا انداز مغربی معلوم ہوتا تھا اپنی مستی میں مست کچے رستے پر چلا آ رہا تھا۔ کانوں میں ہینڈذ فری لگاَئے،کندھے پر بستہ لٹکائے،  وہ اپنے انجام سے بے خبر شیر خان کے قریب آتا جا رہا تھا۔ وہ اس بات سے قطعی طور پر انجان تھا کہ کوئی آج اپنا بدلہ لینے آیا ہے۔

ابھی وہ جھاڑیوں کے پاس ہی پہنچا تھا کہ تبھی شیر خان نے اسے دبوچا اور خنجروں کے وار سے چند سکینڈ میں اس کا کام تمام کر دیا۔شیر خان نے نوجوان کو خون میں لت پت دیکھا تو نفرت آمیز انداز میں مسکرایا اور اس کی لاش پر تھوکا ۔ وہ جوش فتح میں اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرنے ہی لگا تھا کہ تبھی اسے  قرآنی آیات کی آواز سنائی دی۔شیر خان ایک دم سہم گیا۔ آواز انتہائی خفیف تھی مگر سناٹے کے باعث صاف سنائی دیتی تھی۔وہ سمجھ نہ پایا۔اس کی نظر ہینڈذ فری پر پڑی ۔یہ آواز مقتول نوجوان کے ہینڈذ فری میں سے آ رہی تھی۔ شیر خان کو اپنے حواس پر یقین نہ آیا۔ اس نے نوجوان کو وہیں چھوڑا اور اس کا بستہ اور موبائل اٹھا کر جھا ڑیوں میں تیزی سے غائب ہو گیا۔

کافی دور نکل آ نے پر وہ ایک درخت کے سائے تلے جا بیٹھا۔اس کے چہرے کے تاثرات یکسر بدل چکے تھے۔غصے اور نفرت کی جگہ اب حیرت اور سکتے نے لے لی ۔موبائل سے قرآنی  آیات کی تلاوت مسلسل اس کے کانوں میں پڑ رہی تھی۔وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر موبائل کو دیکھ رہا تھا۔وہ اس آلے کے متعلق کچھ زیادہ علم نہ رکھتا تھا اس لیے اس نے نوجوان کے بستے کی طرف توجہ مرکوز کی۔بستے سے کچھ ادویات اور چند پمفلٹ برآمد ہوئے جن پر معزور بچوں کی تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ وہ زیادہ پڑھا لکھا تو نہ تھا پر لفظ ” پولیو ” سے بخوبی آشنا تھا ۔ اسی بیماری کے باعث تو اس کا بھائی معذوری کی زندگی گزارنے  پر مجبور ہوا تھا۔ چند کاغذات پر مقتول نوجوان کی تصویر کے نیچے اس کا نام ، محمد علی عثمان، درج تھا۔ ان ناموں سے تو شیر خان بخوبی آشنا تھا۔ انہی کا واسطہ دے کر تو اس سے یہ سب قتل و غارت کروائی جا رہی تھی۔

” جس نے ایک انسان کا قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا "

موبائل سے گونجتی ان آیات نے شیر خان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔اس کی آنکھوں میں بلاساختہ آنسو آگئے۔ وہ اپنے کیے پر شرمندہ تھا۔اس نے اپنے ہی مسلمان بھائی ، جو کہ اسی کے فائدے کے لیے آیا تھا ،اسے بے دردی سے مار ڈالا۔وہ دھاڑیں مار کر رونے لگا۔وہ توبہ کرنے کے قابل بھی نہ رہا تھا۔پرخدا نے شیر خان کے سامنے دو تقدیریں رکھی تھیں ۔ جیسا کہ خدا ہم سب کے سامنے اپنی تقدیریں بکھیر کر رکھتا ہے اور پھر ہمیں اس بات کا اختیار و ارادہ دیتا ہے کہ ہم اپنی مرضی سے ان راستوں میں سے کسی ایک راستے کو چن لیں۔ اب یہ شیر خان پر منحصر تھا کہ وہ کس رستے کو چنتا ہے ۔وہ جو اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بنے یا پھر وہ جو ایک اور معصوم انسان کی جان لے لے۔

ناظرین صبح کے آٹھ بجے ہیں اور ہم آپ سب کو ایک انتہائی اہم خبر دیں گے ۔۔۔ ظالمان لیڈر شیر خان نے اپنے آپ کو تمام ساتھیوں سمیت حکومت پاکستان کے حوالے کر دیا ہے ۔۔۔۔ناظریں ہم آپ کو ایک بار پھر خبر دیں گے۔شیر خان نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیر خان کے چہرے کے تاثرات بتاتے ہیں کہ اب وہ اصل اسلام کو پہچان چکا ہے۔۔۔۔

اور بےشک اسلام امن و سلامتی کا دین ہے

از

طہ لیل

ہنگو سے ماسکو

آج اتوار کا دن تھا ۔ سکول سے چھٹی کے باعث بچوں کے چہروں پر خوشی و مسرت کے جذبات واضح تھے۔اگر آپ بھی اپنے ماضی پر ایک نظر دوڑائیں تو سکول کےزمانے میں اتوار کا دن یقینا٘ آپ کے لیے بھی باعث مسرت رہا ہوگا۔اوپر سے سردیوں کی میٹھی میٹھی دھوپ میں چھٹی کا مزہ کچھ اور ہی دوبالا ہوگیا تھا۔چند بچے آپس میں اٹکھیلیاں کرتے ہنستے کھیلتے جا رہے تھے ۔ وہ اس سہانے دن کا بھرپور فائدہ آٹھا نا چاہتے تھے۔وہ اسی سوچ میں مگن تھے کہ آخر کون سا کھیل کھیلا جائے۔اسی اثنا میں ان میں سے ایک کی  نظر دور پڑے ایک کھلونے پر پڑی۔انسانی بچوں کی جبلت میں یہ بات شامل ہے کہ ہر شے کی تحقیق کی جائے۔اس بچے نے اپنے دوستوں کو آواز لگائی سب اس کی طرف متوجہ ہوئے۔اتوار کا دن ،سہانا موسم، کھیل کود کی چاہت اور کھیلنے کا سامان سامنے ۔۔۔ایک معصوم کے لیے بھلا اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا تھا ۔ وہ سب اس کھلونے کی طرف لپکے پر وہ بد نصیب یہ نہ جانتےتھے کہ ان کی قسمت میں کھیل کود نہیں لکھا تھا ۔ اس بے حس قوم نے تو ان کو خون کی ہولی کے لیے پیش کر دیا تھا ۔ ایک اور دھماکہ اور ایک بار پھر بد نصیب پاکستانی ماوں کی گودیں اجڑ گئیں۔۔۔۔ ان معصوموں کی ہنسی ، چیخوں اور آہ وزاری میں بدل گئی۔

Image

میرے لیے یہ خبر کچھ زیادہ معنی خیز نہ تھی۔ صیح سویرے ” اموات نامہ ” سن کر افسوس کرنا تو اب ایک معمول بن چکا ہے۔ پاکستانی قوم اب صدمات برداشت کر کر کے ، صدمے کی کیفیت ہی بھلا بیٹھی ہے۔کبھی بوڑھا تو کبھی جوان روزانہ چار پانچ کا جنازہ اٹھانا تو اب جیسے روایت ہے۔میں بھی خبرنامہ سن کر معمولات زندگی میں الجھ گیا۔ اس دوران مزمتی اور تعزیتی بیانات کی بوچھاڑ جاری رہی۔سب نے دہشتگردوں کو خوب سنائیں اور انہیں برباد کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔

شام ہوئی۔میں معمول کے مطابق اپنے والد صاحب کے ساتھ ۸ بجے کا خبرنامہ سننے بیٹھا۔ چند ایک  خبروں کے بعد ، جن میں آئی سی سی کے قوانین میں تبدیلی کی خبر بھی شامل تھی ، آخر ان معصوموں کی خبر کی باری آئی۔ میں ایک بار پھر استغفار کہ کر آگے بڑھنا چاہتا تھا پر اگلی ہی خبر نے میرے احساسات کو جھنجوڑ کر رکھ  دیا۔ میری آنکھوں میں بلا ساختہ آنسو آگئے اور میں اسی سوچ میں کمرے سے باہر چلا گیا ۔ میں اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہتا تھا پر دل کی بات قلم کے رستے اس کورے کاغذ پر آگئی۔خبر یہ تھی کہ ماسکو میں بچوں کے لیے  تفریحی میلہ منعقد کیا گیا جس میں بچوں نے برف کے رنگ برنگے مجسمے  بنا کر خوب موج مستی کی ۔

اب ذرا  ایک لمحے کے لیے ٹھہریے اور سوچیئے۔۔۔۔۔۔ ماسکو کے بچوں کے لیے بھی یہ وہی اتوار کا دن تھا، وہی موسم ، وہی کھیلنے کی چاہ ، وہی دوستوں کے  ساتھ ہنسی مذاق ، وہی معصومیت ، پر انجام یکسر مختلف۔۔۔۔ وہ ماسکو کے پچے تھے اور یہ ہنگو کے۔ ان کے بڑوں نے ان کے لیے میلہ لگایا اور ہم نے اپنے بچوں کو بم سے  کھیلنے کے  لیے چھوڑ دیا۔ وہ اپنے گھروں میں خوشیاں اور محبتیں لے گئے اور ہم اپنے بچوں کے لا شے لے آئے۔کیا ہمارے بچوں کا حق یہ نہ تھا کہ ان کو بھی ہنسی خوشی جینے دیا جاتا ؟؟؟

Image

پر قابل غور بات تو یہ ہے کہ ہم تو شریعت کے نفاذ کے لیے نکلے ہیں جبکہ ماسکو والے تو کافرانہ نظام کے  پیروکار ہیں ۔ ان لوگوں سے سوال یہ ہے کہ کیا بچوں کو مار کر نظام محمدی (ص) نافذ کیا جائے گا؟ میں اسلامی تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھتا ہوں تو مجھے فتح مکہ نظر آتی ہے ، فتح روم و فارس نظر آتی ہے، دنیا پر مسلمانوں کا عروج و غلبہ نظر آتا ہے ۔ پر کہیں بھی "کھلونا بم” نظر نہیں آتا۔ کوئی آئے اور مجھ جیسے کافر کو بتائے کہ کب اور کس زمانے میں شریعت محمدی (ص) معصوموں کی جان لے کر نافذ ہوئی ہے؟ وہ ماسکووالے کافر ہی سہی پر اسلامی اقدار پر چلنے والے تو  وہ ہیں ۔ قرآن نے ہمیں جو درس امن دیا ہے اس پر عمل پیرا تو وہ نظر آتے ہیں۔ تم لوگ تو مسلمان کیا انسان کہلانے کے قابل بھی نہیں اگر اتنا ہی شوق ہے اسلام کے نفاذ کا تو پہلے خود کو تو مسلمان کرو۔۔ کیا تم نہیں جانتے کہ ” جو رحم نہیں کرتا ، اس پر رحم نہیں کیا جائے گا”۔ کیا یہ بات تمہارے علم میں نہیں کہ ” دین میں کوئی جبر نہیں”۔ اگر جبرا٘ ہی ایمان پھیلانا مقصود ہوتا تو خدا خود لوگوں کے دلوں میں ایمان ڈال دیتا پر خدا نے انسان کو خود یہ حق و اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے صحیح یا غلط رستہ اختیار کرے ۔ پھر بھلا ہم کون ہوتے ہیں انسانوں سے یہ حق و اختیار چھیننے والے؟؟

ایسے ظالموں کو سبق سکھانے کے لیے قوم کو متحد ہونا پڑتا ہے پر ہماری قوم تو ابھی تک یہ فیصلہ ہی نہیں کر پائی کہ یہ جنگ ہماری ہے بھی یا نہیں ؟ یہ جنگ جس کی بھی تھی پر اب ہم اس میں مر رہے ہیں ۔ آخر کب تک ہم اسی طرح لاشیں ا ٹھا ئیں گے؟ آخر کب وہ وقت آئے گا جب ہنگو کے بچے بھی ماسکو کے بچوں کی طرح  آزادی سے اپنی زندگی جی پا ئیں گے؟ دس سال کی ذلت  آمیز جنگ کے بعد بھی اگر ہم اپنی قوم کی حفاظت کرنے کے قابل نہیں تو بہتر یہی ہے کہ سب پاکستانیوں کو ایک ہی بار ختم کر دیا جائے ۔۔۔ روز گھٹ گھٹ کر جینے سے تو یہی بہتر ہے ۔

میرے بے معنی الفاظ اور بے ربط جملے اس بات کے عکاس ہیں کہ اب ہم لاشیں اٹھا ٹھا کر تھک چکے ہیں۔ اب ہمارے بازوں میں اور لاشیں اٹھا نے کی سکت باقی نہیں ۔۔ خدارا پاکستانیوں پر رحم کرو ۔ مذاکرات کرو یا آپریشن پر اس سب کو اب  ختم کرو ۔ ہمارے بچوں کو جینے دو ۔ آپس میں الجھنے کی بجائے اپنے دشمن کا مل کر خاتمہ کرو ۔آپس کا اتحاد ہی امن کا ضامن ہے۔۔۔۔۔۔۔

وسلام

طہ لیل

عید آتی ہے زمانے میں

عید کا دن۔۔۔خوشی کا دن ۔۔۔میل جول کا دن۔۔۔آپ کے ذہن میں ضرور یہی ہوگا ۔پر ہمارے لیے عید ہی کا دن سال کا سب سے برا دن ثابت ہوتا آیا ہے۔عید کے روز آفات کا سلسلہ علی الصبح ہی شروع ہو جاتا ہے۔پہلے پہل عید نماز پرچند ” بھلکڑ انکلز” سے سامنا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سےان میں ہر ایک گجنی کے عامر خان کی طرح واقع ہوا ہے۔ہر عید پر وہی گھسےپٹے سوالات اور سستی جگتیں ۔

حسب معمول بھلکڑ انکل کا پہلا سوال، اچھا تو بیٹا آاجکل کیا چل رہا ہے ؟

بس انکل انجینیئرنگ کر رہا ہوں

کیوں بھائی صاحب ذ ادے ، اچھے خاصے لائق فائق معلوم ہوتے  ہو ۔ڈاکٹری میں داخلہ نہیں ملا کیا ؟

 نہیں انکل ریاضی میں نمبر کم تھے اس لیے ڈاکٹری میں داخلہ نہیں مل سکا

ایسے انکل اپنے علم و فضل کی جھوٹی داستانیں سنا کر عید کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔اوپر سے بیسیوں مرتبہ اپنا تعارف کروانا پڑتا ہے ۔کچھ تو ایسے بے مروت واقع ہوئے ہیں کہ عید پر پہچاننے ہی سے انکار کر دیتے  ہیں۔

ارے انکل کیسے ہیں ؟

آ آ آ آ ۔۔۔  ٹھیک ٹھاک ۔۔۔آ آ آ آ آ۔۔۔ بیٹا معاف کرنا میں نے پہچانا نہیں

ایسے میں چپ چاپ سرک لینے ہی میں عافیت ہوتی ہے۔چند ایسے دردناک انداز میں گلے ملتے ہیں کہ جسم کے ایک ایک انگ سے درد کی صدائیں بلند ہوتی ہے۔اور ہمارا نازک تن بدن تڑپ اٹھتا ہے۔

عید نماز کے فوراً بعد مشکل ترین مرحلے کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔۔جی ہاں قصائی کی تلاش۔۔۔۔چند گھنٹوں بعد ایسا محسوس ہونے  لگتا ہے کہ گویا ہم اس دنیا کے فارغ ترین شخص ہیں جبکہ تمام قصائی حضرات مصروف ترین اشخاص ہیں۔جب منت سماجت کرکے انہیں گھر لے آئیں تو ان کی نگرانی کرنا بھی ایک مشقت طلب کام ہے۔تین چار قصائیوں پر مشتمل ایک پوری ٹیم آتی ہے۔ایک استاد،ایک شاگرد جبکہ بقیہ صرف چائے پانی کا خرچہ بڑھانے اور بوٹیاں چرانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

مگر کیا کریں عید کے روز ان کی بھی عزت کرنی پڑتی ہے۔ورنہ تو معاشرہ ان کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا،پر قصائی بھی پورے سال کا بدلہ ایک ہی دن میں اتار لیتے ہیں۔آپ ان پر حکم چلانے کے بارے میں سوچیئے  گا بھی مت ، ادھر آپ نے ناراضی کا اظہار کیا ادھر وہ اپنی سائیکل پر بیٹھ کر اڑن چھو ہو گئے۔ لہذا نہایت پیار ، محبت اور خلوص کے ساتھ ان کی خاطر تواضع کرنی پڑتی ہے۔

اس دوران رشتےداروں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ہمارے رشتے داروں کے بھی عجب انداز ہیں۔سب سے پہلے "شوخلے انکل ” کی آمد ہوتی ہے جنہیں اپنے پیسے کے سوا اور کچھ معلوم نہیں۔۔آتے ہی با آواز بلند اپنے آنے کا اعلان کرتے ہیں جیسے کہ ہم اندھے اور بہرے ہیں۔

 ارے بھائی عید مبارک عید مبارک۔۔۔بس بس ہم ذرا جلدی میں ہیں ۔کیا کریں صاحب عید کا دن جو ہے ۔۔۔ارے نہیں نہیں بس کھانے کے لیے کچھ مت لانا تکلف کی ضرورت نہیں ہے

نہیں انکل کباب تو ضرور کھانے ہوں گے

ارے اچھا چلو اتنا اصرار کر رہے ہو تو  کھائے لیتے ہیں

اس کے بعد گھر میں موجود کھانے کے ہر آئیٹم کو ٹھونس ٹھونس کر کھاتے ہیں۔۔۔۔اب ہر مہمان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے کپڑوں کی تعریف کی جائے۔

انکل بڑے اچھے لگ رہے ہیں آج تو ماشا اللہ

 ارے ۔۔۔ہاہاہاہاہا ۔۔۔ہاں بس یقین جانو اس مرتبہ تو مہنگائی نے کمر توڑ کر رکھ دی بڑی مشکل سے چار پانچ جوڑے ہی بنائے ہیں وہ بھی بس دس دس ہزار کے ۔۔۔بس ہم نے سوچا بھائی تن ہی تو ڈھا نپنا ہے نا۔۔۔

اب بندہ ان سے پوچھے کہ کپڑوں کی ریٹ لسٹ دینے کی کیا ضرورت تھی اور اتنا بڑا تن پالنے کی ضرورت ہی کیا ہے جو دو تین ہزار سے ڈھک نہ سکے۔ پر کیا کریں ازراہ اخلاق آپ کو ان کی ہاں میں ہاں ملانی ہی پڑتی ہے۔ اس کے بعد وہ آپ کو اپنے بکرے کی کہانیوں سے پکاتے ہیں۔۔۔

 بس آخری منڈی پر چلا گیا میں تو۔۔۔۔جاتے ہی سفید رنگ کے ایک اونچے بکرے پر نظر پڑی۔بس ٹھان لی کہ آج تو اسے گھر لے کر ہی جائیں گے ۔منہ بولے دام دیے اور اسے گھر لے آئے۔ پر رات ہی کو اس کی طبیعت نا ساز ہو گئی۔دراصل بچوں نے اسے جڑی بوٹیاں کھلا دیں۔۔۔ بس صاحب ہمارے تو پسینے چھوٹ گئے۔اپنے بیس ہزار ڈوبتے دیکھے توجھٹ سے ڈاکٹر کو بلا بھیجا ۔ڈاکٹر نے دوا دی پر یقین جانئیے پوری رات بکرے کے ساتھ کھڑے رہےکہ ادھر وہ آخری سانس لینے کا ارادہ کرے اور ادھر ہم اس کی گردن پر چھری پھیر دیں۔۔پر شکر خدا کا ابھی تک تو زندہ ہے پر اب بھی اپنے بڑے لڑکے کو اس کی نگرانی پر لگا کر آئے  ہیں ۔۔کیا کریں آخر قربانی جو کرنی ہے۔”

ان کی داستانیں سننا ٹیسٹ میچ کھیلنے کے مترادف ہے جس میں  دس کھلاڑی اپنی باری کے انتظار میں پانچ دن دھوپ میں جلتے رہتے ہیں جبکہ ایک کھلاڑی پچ پر جا کر سب کی باری ضائع کر دیتا ہے۔ خیر بات چیت کے دوران میز پر موجود ہر شے کا خاتمہ کرنا وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔جب یہ یقین ہو جائے کہ اب کھانے لے لیے اور کچھ باقی نہیں تو ایک مرتبہ پھر با آواز بلند اپنے جانے کا اعلان کرتے ہیں ۔

جاتے جاتے بھی قصائیوں کی نگرانی اور سری پائے کی حفاظت کے طریقے مفت میں بتا جاتے ہیں۔جبکہ اس دوران قصائی اپنی کارروائیوں میں مصروف رہتے ہیں اوربوٹیوں کی ہیرا پھیری اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔

اس کے بعد دن کا سب سے بھیانک حصہ آنٹی اور ان کے کمینے بچے "ببلو” کی آمد سے شروع ہوتا ہے۔چند بچے پیدائشی طور پرشرارتی ہوتے ہیں اور  ان کی معصومانہ حرکتوں پر پیار آتا ہے۔پر چند بچے فطری طور پر کمینے ہی پیدا ہوتے ہیں اور جہاں جاتے ہیں ہم جیسے شریف النفس لوگوں کی ناک میں دم کر دیتے ہیں۔

آنٹی : اری بہن۔۔۔کیسی ہو ؟ ہائےہائے کیا حال بنا رکھا ہے  تم نے اپنا۔۔۔ دیکھو تو سہی کتنی کمزور ہو گئی ہو۔۔۔۔ ارے لڑکے ادھر آو تم آنٹی سے تو ملو ۔۔۔۔کتنے بڑے ہو گئے ہو تم ہائے۔۔۔

آنٹی کے آنے کاایک ہی فائدہ ہوتا ہے کہ ان کی سستی پرفیوم کی مہک سے پورے گھر کے مچھراور دیگر حشرات الارض بھا گ کھڑے ہوتے ہیں۔رسمی کلمات کے بعد خواتین کا محبوب ترین مشغلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جی ہاں ۔۔۔۔دوسری خواتین کی بد گوئیاں ۔۔۔ادھر آنٹی دوسروں کی گھریلو زندگی کی داستانیں مزے لےلے کر سناتی ہیں اور ادھر ببلو ہمارے ساتھ "پنگے” لینا شروع کر دیتا ہے۔

ببلو : ارے ہیلو انکل بات سنو ذرا

انکل ؟؟؟  ابے تیرے سے پانچ سات سال ہی بڑا ہوں گا میں ۔۔۔۔۔ بھائی بول مجھے

لگتے تو انکل ہی ہو ۔۔۔۔چلو خیر کوئی کولڈ ڈرنک وغیرہ بھی ملے گی یا آج کل ” بچت پیکج ” چل رہا ہے ؟؟؟ ہاہاہاہا

ایسے بچوں کی ہنسی سن کر جتنا سرور آتا ہےاس کا اندازہ انہی لوگوں کو ہے جن کا کبھی ایسے بچوں سے پالا پڑا ہو۔

خیر کولڈ ڈرنک لا کر دینے کی دیر تھی کہ نخرے شروع ۔۔۔یہ تو گرم ہے۔۔۔ٹھنڈی پیوں گا میں تو۔۔۔۔ماما دیکھو نا کولڈ ڈرنک چاہیے۔

"ارے نہیں ببلو۔۔۔ نہیں ملےگی بالکل۔۔۔بیٹا گلا خراب ہو جائے گا آپ کا۔۔”

"نہیں ماما چاہیے مجھے ۔۔۔چاہیے ۔۔چاہیے ۔۔۔چاہیے "

ارے  ارے اچھا اچھا۔۔بیٹا تم ٹھنڈی کر کے لاو نا کھڑے کیا ہو یہاں۔۔۔ببلو بھی نا بہت ضدی ہے اپنے پاپا کی طرح

ایسے میں چہرے پر جھوٹی مسکان سجائے ہر بے عزتی سہنی پڑتی ہے۔پر ہم بھی دھن کے پکے ہیں ایسے بچوں سے بدلہ لینا ہماری جبلت میں شامل ہے۔ادھر آنٹی اماں کے ساتھ کچن میں گئیں ادھر ہم نے ببلو کے کان کے نیچے کھینچ کر ایک بجائی اور پھر نہایت معصومانہ انداز میں دریافت کرنے لگے

ارے ببلو کیا ہوا ؟؟؟  اوہ مجھے لگتا ہے کہ تمہیں "بابا جی” نےتھپڑ مارا ہے دراصل ہمارے گھر میں ایک بابا جی ہیں جو بھی نیا بندہ آتا ہے وہ اسے تھپڑ مارتے ہیں۔۔۔۔ چپ کر جاو ۔۔۔شاباش ورنہ وہ پھر ماریں گے۔۔

پر ہر مرتبہ ہمیں اپنے کیے پر ندامت اس وقت ہوتی ہے جب ببلو بدلے کی آگ میں ہماری قیمتی اشیاء کا ستیا ناس کرکے انتہائی شاطرانہ لہجے میں کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔”او ہو یہ بابا جی بھی نا”۔۔۔۔۔

naughty

آنٹی کے جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر ہمیں قصائیوں کی نگرانی پر مامور کر دیا جاتا ہے۔جب بکرا حلال ہو جاتا ہے تو قصائی آپ سے بکرے کی کھال ، پائے اور "سری” وغیرہ لےجانے کے لیے درخواست نہیں ، بلکہ بوری وغیرہ طلب کرتے ہیں ۔ آپ کے انکار پر  وہ ہاتھوں ہی میں "سری پائے” اٹھا کر ، آپ کو دو چار سنا کر، گھر  سے باہرچلے جائیں گےاور آپ حیرت سے ان کا منہ تکتےرہ جائیں گے۔۔۔

مگر  صاحب ذرا غور کیجیئے تو شاید عیداسی کا نام ہے پورا سال آپ جن سے نفرت کرتے ہیں آخر انہی کو سلام کرنا پڑتا ہے۔۔۔لہذا ہم روزانہ خود کو سلام کرتے ہیں تاکہ خود میں قصائیوں کی سی خصوصیات محسوس نہ کریں ۔۔۔آپ بھی خود کو سلام کیا کریں ۔۔۔کیونکہ قصائی کو تو صرف عید ہی پر سلام کریں گے ۔۔۔۔کیوں صحیح  کہا نا؟؟

از

طہ لیل

احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

یہ کالم میں نے تیں سال قبل تحریر کیا تھا پر بد قسمتی سے ہمارے  مسائل اتنے پیچیدہ ہیں کہ دو تیں سال میں ان کا حل ہونا ناممکن دکھائی دیتا ہے لہزا  ایک بار پیش خدمت کیے دیتا ہوں۔

چند دنوں سے اسلام آباد ہی میں موجود ہوں۔ یہاں زندگی بہت تیز ہے۔مگرشاید ہم اس تیز دنیا میں انسانی رویوں کو بھی بھول چکے ہیں۔ آج کے واقعہ نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا یہ وہی ترقی ہے جس کی ہم آرزو کرتے ہیں؟؟؟؟ یا در اصل ہم ترقی سے روشناس ہی نہیں ہوسکے!!  شاید یہ واقعہ سننے کے بعد آپ کے ذہن میں بھی یہی سوالات ابھریں اور اگر نہ ابھریں تو میں یہی سمجھوں گا کہ آپ کا ذہن بھی ترقی کی ہر منزل طے کر چکا ہے۔۔۔یا دراصل جسے آپ ترقی سمجھ رہے ہیں وہ جہالت کی ایک گہری اور تاریک کھائی کا نام ہے جہاں تھوڑی سی روشنی  پاکر آپ پھولے نہ سما رہے ہیں۔

human

میں صبح سویرے اپنے معمول کے مطابق اٹھا۔ آج خالہ کے گھر جانے کا ارادہ کیا۔ ان کا گھر شہزاد ٹاؤن میں ہے۔وہاں پہنچا۔ان کا حال احوال دریافت کیا۔کھانا وغیرہ کھایا اور واپسی کا ارادہ کیا۔میں یہی سوچ رہا تھا کہ کم از کم پاکستان  کے چند شہر تو ترقی یافتہ ہیں اور یہاں کے لوگ بھی پڑھے لکھے ہیں۔پولیس کو دیکھ کر میرا دل اور بھی خوش ہوا کہ قانون کے رکھوالے یہاں اپنے کام میں مصروف ہیں۔مگرذرا ٹھہرئیے!!!!!!! یہ کیا ہے؟؟؟؟ایک شخص کو بری طرح مارا پیٹا جا رہا ہے!!!!میں حیران رہ گیا۔۔۔۔سوچا ضرور کوئی دہشت گرد ہوگا۔۔۔۔۔پولیس والوں نے اسے بالوں سے پکڑ رکھا تھا۔۔۔۔وہ بے چا رہ معافی مانگے جا رہا تھا۔۔۔مگرپولیس والے تھے کہ اس کی ایک نہ سنتے تھے۔چند منٹ کی مار کٹائی کے بعد انہوں نے اس شخص کو ایک ٹیکسی میں زبردستی بٹھا دیااور اسے جانے دیا۔

میں حیران کھڑا دیکھتا رہا۔معلوم کیا کہ آ خر ماجرا کیا ہے؟؟پتہ چلا کہ وہ شخص بے گناہ تھا۔جرم صرف اتنا تھا کہ وہ شخص تلاشی دیتے ہوئے ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔میرا دل چاہتا تھا کہ جاؤں اور پولیس والوں کاگریبان پکڑ کر پوچھوں کہ آخر انہوں نے ایسا کیوں کیا؟؟مگر میں نے غور کیا تو میں محض اسی سوچ میں گھر پہنچ چکا تھا اور ٹیکسی والا مجھ سے کرایہ طلب کر رھا تھا۔میں نے اسے کرایہ دیا اور مایوسی کے عالم میں گھر کی جانب بڑھا۔میں یہ سوچ رہا تھا کہ ہم بحیثیت قوم کتنے بے غیرت اور بے حس ہو چکے ہیں!!! پولیس والے قانون کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔۔۔عوام کو پتہ ہے کہ دہشت گرد ہر طرف منڈلا رہے ہیں مگر تلاشی دینے کو اپنی شان میں گستاخی سمجھتے ہیں۔جبکہ مجھ جیسے چند بے حس اور ڈرپوک لوگ محض تماشائی بنے تکتے رہتے ہیں۔

یہ ایک ترقی یافتہ شہر کی داستان ہے جہاں کے لوگ خود کواعلی تعلیم یافتہ اور مہزب گردانتے ہیں اور ہمیں اپنے بڑے شہروں کا طعنہ دیتے  ہیں جہاں کی محض ایک سڑک ہمارے پورے ضلع بھکر کی سڑکوں سے زیادہ آرام دہ ہے۔مگر کیا یہ وہی ترقی ہے جس کا خواب میں اپنے بھکر کے لیے دیکھ رھا ہوں؟؟؟ اگر ترقی اسی بے حسی کا نام ہے تو میں اپنے ٹوٹے پھوٹے بھکر ہی میں خوش ہوں۔یا پھر شاید  ہم مادی ترقی سے تو کچھ حد تک روشناس ہیں لیکن ذہنی اور روحانی ترقی سے کوسوں دور ہیں ۔ماڈرن ازم کی طرف بڑھتا ہمارا ہر قدم ہمیں ذہنی پستگی کی طرف دھکیل رہا ہے ۔ہم  مغرب کی مثالیں دیتے نۃیں تھکتے پر خود مغرب اپنی مادی ترقی کی تباہ کاریوں سے لڑتا دکھائی دیتا ہے۔ترقی کی چاہت سے کوئی انکاری نہیں پر ایسی اونچی عمارتوں کا کیا فائدہ جو انسانی اقدار کو پست کر دیں ۔اسی دعا کے ساتھ کہ پاکستان کا ہر چھوٹا بڑا شہر روحانی و مادی دونوں قسم کی ترقی سے روشناس ہو آپ سے اجازت چاہتا ہوں.

global

ولسلام

طٰہ  لیل