دیسی لبرل

میں ایک دیسی لبرل ہوں۔ مجھے علم و ہنر کا کچھ پاس نہیں۔ میری کہانی کی ابتدا پرانی نہیں۔ پہلے پہل مجھے سیاست، دین اور بحث مباحثے سے کچھ خاص لگاو نہ تھا۔ بس سارا دن انگریزی ڈرامہ اور کارٹون دیکھتا اور رات کو دودھ پی کر سو جاتا۔ میرے چند ہی دوست تھے اور سچ جانیئے تو ان سے بھی مجھے کچھ خاص انسیت نہ تھی۔ لیکن بچپن ہی سے مجھے شہرت کی بلندیوں کو چھونے کا شوق تھا۔ مجھے ” کُول بوائے“ بننا تھا۔ لوگوں سے واہ واہ کروانا تھی۔ میرے پاس کوئی ہنر تو تھا نہیں۔ نہ میں بلا کا زبان دان نہ میں شعلہ بیاں شاعر۔ ادب سے تو مجھے الرجی تھی۔ محفل میں کھڑے ہو کر دو لفظ بولنا بھی میرے لیے محال تھا۔ شہرت کیوں کر میرے قدم چومتی؟
مگر وقت بدلا اور سوشل میڈیا نے جنم لیا۔ کیا کہنے اس سوشل میڈیا کے! یہ ہی تو وہ موقع تھا جس کی مجھے تلاش تھی۔ اب مجھے علم و ہنر کی ضرورت نہ رہی۔ بس انگریزی کے چند مشکل الفاظ سے جان پہچان ہونا کافی تھا۔ میرے پاپا نے مجھے پاکستان کے بہترین انگریزی سکول میں اسی دن کے لیے تو ڈالا تھا۔ امیر باپ کا ہونا بھی نعمت سے کم نہیں۔ غرض اب مجھے کوئی شہرت حاصل کرنے سے روک نہیں سکتا تھا۔ شروعات میں تو میں اپنی ” کُول، کُول“ تصاویر فیس بک پر لگاتا اور ”لائک“ پر لائک جمع کرتا۔سکول میں بھی سب مجھے جاننے لگے۔ دوشیزائیں مجھ سے روابت بڑھانے لگیں۔ میرا خواب پورا ہونے ہی کو تھا کہ اچانک سوشل میڈیا پر ایک اور ”ٹرینڈ “ نمودار ہوا۔
الیکشن کا زمانہ آن پہنچا تھا۔ میں نے دیکھا کہ سب کے سب سیاسی نجومی بنے ہوئے ہیں۔ اور تمام کُول بوائے پی ٹی آئی کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ مجھے نہ تو کسی پارٹی کے سیاسی سیاق و سباق کا علم تھا نہ ہی کسی کے نظریے سے ہمدردی۔ نواز یا زرداری کو سپورٹ کرنا کافی” آوٹ ڈیٹڈ “ معلوم ہوا سو بس پی ٹی آئی کا جھنڈا تھاما اور نکل پڑا ووٹ مانگنے۔ کچھ دیر بعد احساس ہوا کہ ووٹ کے لیے تو کوئی کُول بوائے باہر ہی نہ نکلا۔ کُول بوائے تو محض فیس بک پر ووٹ ڈالنے کی تصاویر لگاتے ہیں اور چوری شدہ بھاری بھرکم انگریزی اقوال زریں کے نشتر چلاتے ہیں۔ پس میں نے بھی فورا غلطی کا ازالہ کیا اور پورا دن فیس بک پر خوب جنگ لڑی۔ لیکن پی ٹی آئی ہار گئی۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ ساری محنت رائیگاں گئی۔
ابھی کچھ عرصہ قبل ہی سوشل میڈیا نے ایک اور کروٹ لی ہے۔ سیاست کے ساتھ ساتھ اب مذہبی اور نظریاتی مسئلے بھی چھڑنے لگے۔ اب لبرل ہونا،  کول ہونے کے مترادف ہے۔ میں بھلا کسی سے پیچھے کیسے رہ سکتا ہوں؟ دو ہزار ” فرینڈز “ ہیں آخر میرے فیس بک پر۔ وہ مجھے قدامت پرستی کے طعنے نہ دیں گے کیا؟ اب ہر نظریاتی مسئلے پر میں ایک شستہ انگریزی سے بھرپور” کول“ اور ”ڈونٹ جج“ والا سٹیٹس ڈال دیتا ہوں۔ ویسے بھی میں نے زندگی میں تمام علم فیس بک ہی سے حاصل کیا ہے۔ لہذا اگر کوئی دوست دلیل یا ثبوت مانگ لے تو میں کسی خالص لبرل پیج کا لنک دے دیتاہوں۔
خدا گواہ ہے کہ میں نے زندگی میں کبھی کوئی کتاب پڑھنے کا گناہ کبیرہ نہیں کیا۔ میں اپنی نظر میں تمام علوم پر پہلے ہی مکمل گرفت حاصل کر چکا ہوں۔ گو کہ میں قرآن بینی کے شرف سے بھی محروم ہوں مگر قرآنی مسئلوں پر بحث کھل کے کرتا ہوں۔ جبکہ دوسری جانب مولوی کو کم علمی کا طعنہ دیتا ہوں۔ ”فریڈم آف سپیچ“ کے تحت ہر ایک پر نکتہ چینی کرتا ہوں لیکن جب خود کے نظریات پر ضرب لگتی ہے تو ”ججمینٹل ججمینٹل “ چلانے لگتا ہوں۔ ظاہر ہے، مدنی منوں کا مذاق اڑانے والا تو بہت” کول“ معلوم ہوتا ہے لیکن ہاں میشا شفعی کے لباس پر سوال اٹھانے والے میں ضرور ”فیشن سینس “ کی کمی دکھائی دیتی ہے۔ میں اپنے لاکھوں روپے مالیت کے لیپ ٹاپ سے جب غریب بچوں کی تصویر شئیر کرتا ہوں تو دل ہی دل میں خود کو ایدھی کا مرتبہ دیتا ہوں۔
میرا پیٹ بھرا ہوا ہے۔ دولت میرے قدموں تلے ہے مگر نام کے ساتھ میں ”سوشلسٹ“ لکھوانا پسند کرتا ہوں۔ کارل مارکس کے نام سے مانوس نہیں تو کیا ہوا ”لال بینڈ “ کے پیج پر تو متحرک نظر آتا ہوں۔ ہاں یاد آیا میں جالب اور فیض کا بھی فین ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ اردو زبان لکھنے اور پڑھنے سے قاصر ہوں۔ اس پر لطف یہ کہ اب تو میں اقبال کو بڑا شاعر بھی تسلیم نہیں کرتا۔ نہ جانے کیوں ایران ، ترکی اور جرمنی میں آج بھی اقبال کا نام زندہ ہے؟ ضرور اپنے دور کے سوشل میڈیا پر کافی ”ایکٹیو“ رہا ہوگا۔ خیر مجھے اردو یا فارسی ادب سے کیا لگاو مجھے تو بس انگریزی سے یک طرفہ عشق ہے۔” کول“ اور ”اپ ٹو ڈیٹ“ احباب کی محفلوں میں ”شٹ“ اور ”فک“ جیسے الفاظ کا استعمال بلا جھجک کرتا ہوں لیکن مجھے ” ٹٹی“ کے لفظ سے گھن آتی ہے۔ اردو بھی بھلا کوئی مہذب زبان ہے؟ نری جہالت ہے صاحب نری جہالت!
میں ”گلوبل ویلج“ اور سرحد پار محبتیں بانٹنے کا حامی ہوں لیکن امت مسلمہ کے نظریہ عالمگیریت کو چلا ہوا کارتوس گردانتا ہوں۔ میں تو اب خود کو امت کا حصہ کہلوانا بھی پسند نہیں کرتا۔ مسلمانوں کی تعلیمی میدان میں پستی مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ کھربوں جہلا کا ایک سمندر ہے یہ امت۔ بے شک خود آپ میری میٹرک میں بھی سپلی تھی لیکن اس کا ذمہ دار وہ نگران تھا جس نے مجھے نقل نہیں کرنے دی۔ پاپا نے اسے پیسے بھی آفر کیے لیکن عجیب مولوی ذہنیت کا تھا۔ کہتا تھا یہ بھی کرپشن ہوتی ہے۔ قدامت پرست کہیں کا!
خیر یہ سب تو پرانی داستانیں ہیں۔ منٹو کی فلم دیکھی تو” کول“ لگی۔ بس کاغذ لیا اور اول فول جو ذہن میں تھا بک دیا۔ لوگ کہتے ہیں ہر ادیب کی طرح منٹو کے بھی الفاظ میں کئی کہانیاں پوشیدہ ہیں۔ میں نے اس کی کوئی کتاب تو نہیں پڑھی لیکن ایک ”پیچ “ پر کچھ اقتسابات پڑھنے کی کوشش کی۔ بس یہی سمجھ آیا کہ فحش اور نیچ باتیں ہی تو لکھنی ہیں۔ تو بس لکھے جاتا ہوں۔ مجھے سستی شہرت کا شوق ہے۔ اب لوگ مجھے ادیب بھی تصور کرنے لگیں گے۔ میرے مضمون شیئر کریں گے۔میرے بھی الفاظ میں چھپی کہانیاں ڈھونڈنے لگیں گے لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ میں ایک دیسی لبرل ہوں۔ مجھے علم و ہنر سے کیا واسطہ۔

از

طہ لیل

ڈی سی-دوسرا حصہ

صاحب کی زندگی کا مطالعہ کرنے پر ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کی زندگی کے تین ہی مقاصد تھے۔ان کی نظر میں زندگی کی تمام رعنائیاں انہی میں پوشیدہ تھیں۔ان کی محبوبہء اول کرکٹ تھی۔دن ہو یا رات۔گرمی ہو یاسردی۔حرام ہے کہ کوئی میچ ان کی نظر سے بچ کر نکل جائے۔سارادن بس اسی چکر میں رہتے کہ کسی طرح سکور کارڈ دیکھنے کو مل جائے۔اس پر ستم یہ کہ ہر کھلاڑی کا پورا شجر نسب یاد ر کھنا تو جیسے فرض اول تھا۔بد قسمتی سے خود بھی کرکٹر تھے مگر ہمیشہ ٹیم انہیں سامان کی نگرانی کا فریضہ ہی سونپتی۔
ان کا دوسرا دیرینہ شوق ریسلنگ تھا۔ وہ ریسلنگ جسے ہم بچپن میں دیکھا کرتے تھےاور اس وقت سے ہم سب پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح تھی کہ یہ سب فریب اور دھوکہ بازی ہے ۔مگرڈی سی صا حب کا آج بھی ریسلنگ پر یقین کامل ہے ۔ان کا اب بھی یہی عقیدہ ہے کہ "انڈر ٹیکر ” محیر العقول انسان ہے جبکہ "جان سینا” سچائی کا دیوتا ہے۔اگر غلطی سے ریسلنگ کا ایک شو بھی ان کی گرفت سے نکل جا ئے تو وہ اسے باعث ہزار رنج و غم گردانتےہیں۔ اکثر شرٹس پر بھی ریسلرز کی تصاویر نقش ہیں۔ غرض "کالر ٹیون” سے لے کر فیس بک تک ہر جگہ ریسلنگ ہی کا راج ہے۔
تیسرا شوق جیسا کہ بتایا جا چکا ہے "فیس بک” تھا۔دراصل فیس بک ان کے تمام عناصر زندگی کے مجموعے کا نام تھا۔ کر کٹ کی تازہ خبریں ہوں یا ریسلنگ کے ہفتہ وار شو ،سب کچھ فیس بک پر ملتا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ انسان کی زندگی میں رومانس کا عنصر نہ ہو تو زندگی بے کار ہے۔ای ایم ای کی شاید ہی کوئی ایسی خوش نصیب دوشیزہ ہو جسے صاحب نے "درخواست الفت” نہ بھیجی ہو۔سچ جانئے تو ہم اس باب میں حسد کا شکار ہو چکے تھے۔ ڈی سی کے پاس کمی نہ تھی اور ہمارے پاس تو گویا قحط و خشک سالی کا دور دورہ تھا ہمارے نزدیک یہ سرمایہ دارانہ نظام کی بد ترین مثال تھی۔ایک مرتبہ ہم نے یہ راز جاننے کی کوشش کی ۔
ڈی سی صاحب ذرا یہ تو بتلائیے کہ آخر قسمت آپ پر اتنی مہربان کیوں ہے؟
ارے صاحب ہمارا تو یہ ایمان سے کہ انسان اپنی قسمت آپ سنوارتا ہے۔پس ہم جس دو شیزہ کا اکاونٹ دیکھتے ہیں ، نہایت فراغ دلی سے انہیں درخواست الفت ارسال کر دیتے ہیں۔جان پہچان کا ہونا ضروری نہیں ،صرف یقین کی طاقت کاہونا ضروری ہے۔اگر آپ کو یقین نہ آئے توخود آزما کر دیکھ لیں۔
ہما رے لیے تو یہ طریقہ کارآمد ثابت نہ ہو سکا مگر ڈی سی نے اس طریقہ کار پر خوب عمل کیا ۔ای ایم ای کی شاید ہی کو ئی ایسی دوشیزہ ہو جو صاحب کے ساتھ ایڈ نہ ہو۔
ڈی سی کے ساتھ گزرا ہر دن یاد گارہے۔ان کی ایک عجیب عادت جو ہمارے تن بدن میں آگ لگا دیتی تھی ان کے اچانک نمودار ہونے والے گھٹیا اور گھسے پٹے سوالات تھے۔ ایک مرتبہ ہم انتہائی پریشانی کے عالم میں کمرہ امتحان کے باہر کھڑے تھے۔پرچہ شروع ہونے کو تھا ،سب لوگ ادھر ادھر کتابیں اٹھا ئےکھڑے تھے۔ہر ایک کو اپنی جان کی پڑی تھی غرض یہ کہ افراتفری کا عالم۔اتنے میں صاحب کہیں سے آن نکلے۔ہم نے نظر بچائی مگرانہوں نے بھانپ لیا۔ہمارے پاس آکر کھڑے ہو گئے۔پہلے پہل ہمیں مطالعے میں مشغول دیکھا تو ادھر ادھر ٹہلنے لگے۔ چہرے کے تاثرات ایسے تھے کہ جیسےکچھ نہایت اہم بات کہنا چاہتے ہوں۔آخر کار ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور یکا یک بولے ۔۔۔کل کا میچ یکھا ؟؟ اے۔بی کی بیٹنگ ؟؟۔۔۔۔ہم حیرت سے ان کی جانب دیکھنے لگے۔ہمارے چہرے کے تاثرات کو بھانپ کر کہنے لگے ۔۔۔صرف پوچھا ہے ۔۔ہاں یا نا میں ہی جواب دے دیں۔۔۔ہم نے نفی میں سر ہلایا۔ نجانے ان کی کون سی دلی خواہش پوری ہوئی ۔۔مسکرائے اور چل دیے۔۔یقین جانئے ہم پرچے کے دوران بھی ان کی اس حرکت پر حیران و پریشان سوچتے رہے۔
لیکن صاحب ذرا غور کریں تو یہ تمام حرکتیں تو شاید آپ اور ہم سب کسی نہ کسی صورت میں کبھی نہ کبھی ضرور کیا کرتے ہیں ۔لیکن ایک کام ہے جو ہم نے صرف ڈی سی کو ہی کر تے دیکھا ہے۔ڈی سی کی زندگی کا ایک اور مقصد بھی تھا جسے شاید اس نے خود بھی نہیں پہچانا ۔وہ تھا خدمت خلق کا جذبہ۔دن ہو یا رات ۔جنگ ہو یا امن ۔ای ایم ای میں اگر کوئی شخص آپ کے کام آئے گا تو وہ ڈی سی ہے۔خواہ دوست ہو یا دشمن وہ کبھی فرق نہیں کرتا۔ہر ایک کا کام کرنا تو جیسے اس کا فرض ہے۔میں نے کبھی اسے کسی کو "نہ”کہتے نہیں سنا۔اپنا کام چھوڑ کر ہمیشہ دوسرے کا کام کرتا ۔اپنا نقصان کر لیا کرتا مگر دوسروں کو نفع دیتا۔مجھے یاد ہے پورے ہوسٹل کو چائے بنا کر دیا کرتا۔جونیئر آتا یا سینئر خود اٹھ کر ان کے لیے چائے بناتا۔ مجھے یاد نہیں کہ کبھی میں نے اپنے کپڑے خود دھوبی کو دیے ہوں نہ ہی مجھے میری املاک کا کچھ خیال ہوتا ۔وہ ہمیشہ میری چیزوں کی حفاظت کرتا۔میری خاطر دوسروں سے لڑ جاتا۔لوگ اس کی اس روش کو غلط انداز میں لیتے ہیں ۔وہ اسے گھٹیا سمجھ بیٹھے ہیں۔وہ ان کے پاس جا کر کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اسے چھوڑ کر آگے بڑھ جا تے ہیں ۔مگرخدا کا قانون تو زندہ ہے ۔مصیبت پڑتی ہے تو سب ڈی سی ،ڈی سی کی صدائیں لگاتے ہیں۔اس میں ہزار غلطیاں ہوں لیکن کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ ڈی سی نے اس کا دل دکھایا ہے۔
دراصل ڈی سی بے وقوف نہیں ،وہ تو زندگی کے اس دیرینہ مقصد کو حاصل کر چکا ہے جس سے ہنوز ہم سب کوسوں دور ہیں۔ای ایم ای میں آپ کو ہر جانب ذہین و فطین لوگ ملیں گےلیکن اگر کوئی دل کا بادشاہ ہے تو وہ ڈی سی ہے۔جو لوگ اس پر ہنستے ہیں وہ مجھے ایک دن ڈی سی کے طرح لوگوں کی خدمت کر کے دکھائیں۔وہ بلامعاوضہ سب کی مدد کو تیار رہتا ہے۔
میں اکثر ڈی سی سے مذاق کیا کرتا کہ ہر سال سینکڑوں فوجی سٹوڈنٹ آتے ہیں ، سولین کی تعداد بھی ہزاروں میں ہوتی ہے فو جیوں کی بچے بھی خصوصی سیٹوں پر آتے ہیں ۔مگران سب میں صرف ایک ڈی سی آتا ہے ۔ سچ مچ ڈی سی ایک الگ وصف ہے۔ڈی سی محض ڈی اور سی کا مخفف نہیں۔بلکہ یہ تو بے لوث خدمت اور انسانیت کا نام ہے۔میری یہ خواہش ہے کہ ڈی سی کے علاوہ تمام لوگ اس تحریر کو پڑہیں اور اپنی زندگیوں میں آنے والے ہر اس ڈی سی کی قدر کریں جو زندگی کی اصل رعنائیوں اور دلکشی سے واقف ہے ۔جس نے جھوٹے لبادے نہیں اوڑھ رکھے۔جو دراصل ” انسان ” ہے۔
میں ڈی سی سے کہا کرتا کہ ان لوگوں کے کام نہ کیا کر جو تیری قدر نہیں کرتے اور تجھے برا بھلا کہتے ہیں ۔انہیں کھری کھری سنا دیا کر ۔وہ مجھے کہا کرتا کہ یار تو مجھے طریقہ سکھا ان سے کیسے لڑوں ۔۔میں بھلا اسے کیا طریقہ سکھاتا الٹا وہ مجھے زندگی جینے کا طریقہ سکھا گیا۔

از

طہ لیل

میوزیکل کنسرٹس

I wrote it in 2011 . Rebolging it on request 🙂

بحرِ خیالات

چند دن پہلے پنجاب اسمبلی نے تعلیمی اداروں میں ”قابلِ اعتراض“ میوزیکل کنسرٹس پر پابندی کی قرارداد منطور کی،مگر شاید کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ معاملہ اتنا سنگینی اختیار کر جائے گا۔اور ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو جائے گا۔اب اپوزیشن جماعتوں نے میوزیکل کنسرٹ کے حق میں دلائل دینے شروع کر دیے ہیں جبکہ پنجاب حکومت نے بھی اپنی قراردادکو صحیح قرار دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔حکومت نے  ” یوٹرن ”  لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے صرف قابل ِاعتراض کنسرٹس پر پابندی لگائی ہے۔۔۔۔ لیکن اصل مسئلہ وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ”قابلِ ا عتراض“کی تعریف کیا ہے؟؟قارئین اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔لہذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس معاملے میں اسلام اور جمہوریت دونوں کے تقاضوں کو پورا کریں،اگرچہ ایساکرنا موجودہ صورت حال میں ممکن…

View original post 1,383 more words

شاہینوں کا شکار–کالی آندھی کی ہار

 

چیمپینز ٹرافی اور دورہ جنوبی افریقہ میں شرم ناک شکست کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے حوصلے انتہائی پست تھے ۔میڈیا اور سابق کھلاڑیوں نے ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیا۔ بورڈ کے معاملات بھی تیزی سے تبدیل ہوئے۔ان حالات میں ٹیم کو ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنا تھا۔ویسٹ انڈیز کی کنڈیشنز پاکستان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔پر کالی آندھی ہمیشہ ہی سے اپنے ہوم گراونڈ پر مشکل حریف ثابت ہوئی ہے اور رواں سال کے دوران کالی آندھی کی پرفارمنس قابل دید رہی۔ لہزا مصباح الیون مندجہ بالا حالات میں ویسٹ انڈیز کی سر زمیں پر اتری۔

پہلے میچ کی پہلی اینگز میں ہی پاکستانی بلے بازوں نے گٹھنے ٹیک دیے۔پاکستان ایک مرتبہ پھر شکست کی طرف جا رہا تھا کہ تبہی آفریدی کا بلا رنز اگلنے لگا۔آفریدی کے شاندار ۷۵ رنز کی بدولت پاکستان اس میچ میں واپس آیا ۔ مصباح نے بھی جم کر اپنی باری کھیلی پر آج آفریدی کا دن تھا ۔ شاید آج ان کی دوستی سات کے ہندسے سے ہو گئی تھی ۔آفریدی کے ہاتھ میں بال کا آنا تھا کہ کالی آندھی کی نیا ڈوبنے لگی۔محض ۱۲ رنز دے کر آفریدی نے ۷ بلے بازوں کو ٹھکانے لگایا یہ ون ڈے کرکٹ کی تایخ کی دوسری بہترین باولنگ پرفارمنس تھی۔پاکستان نے یہ میچ با آسانی جیت کر سیریز میں اپنا کھاتا کھولا۔

اب باری کالی آندھی کی تھی۔دوسرے ہی میچ میں براو الیون نے واپسی کی اور پاکستان کو شکست سے دوچار کیا ۔ ایک مرتبہ پھر پاکستانی بلے باز دھوکا دے گئے۔ایسا محسوس ہوا کہ بلے باز بیٹنگ کرنا ہی بھول گئے ہیں۔عمر اکمل نے کچھ جدوجہد کی پر ٹیم کو کامیابی نہ دلوا سکے۔ناصر جمشید کے رنز بھی کسے کام نہ آئے۔پر اکمل کا فارم میں آنا ایک اچھی نشانی تھی۔عمر اکمل جن کا موازنہ اکثر انڈیا کے ورات کوھلی سے کیا جاتا ہے اب تک پاکستان کو کسی بڑی ووکٹری دلوانے میں ناکام رہے ہیں۔ نئے چیف سلیکٹر معین خان بھی کئی مرتبہ اکمل کی پرفارمنس پر سوالیہ نشان اٹھا چکے ہیں۔ اکمل کا فارم میں واپس آنا شاید اس پریشر کا نتیجہ بھی تھا۔

Image 

تیسرا میچ پاکستان کی گرفت میں تھا ۔ ایک مرتبہ پھر مصباح سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے۔مصباح نے ایک مرتبہ پھر نصف سینچری سکور کی۔مصباح نے تو شاید ہر میچ میں نصف سینچری کی قسم کھا رکھی تھی ۔ انہی کی بدولت پاکستان بورڈ پر ایک اچھا سکور لگانے میں کامیاب ہوا۔ ویسٹ انڈیز کا آغاز کچھ متاثر کن نہ تھا ۔ پر کھیل کے آخری اوور میں بازی پلٹی۔ وہاب ریاض نے آخری اوور میں پندرہ رنز دیے اور میچ ٹائی کروا بیٹھے۔ پر میچ ٹائی ہونے میں اہم کردار اکمل کا تھا۔آخری بال پر کلیر رن آوٹ مس کر دینے کی وجہ سے پاکستان کے ہاتھ سے جیتا ہوا میچ نکل گیا۔پر میچ ٹائی ہونے کی ایک اور وجہ اکمل کا وہ رن بھی تھا جسے امپائیر نے "شارٹ” قرار دیا تھا دراصل وہ لیگل رن تھا۔پر یہی کرکٹ کا حسن ہے۔

یہ ویسٹ انڈیر کی اس سیریز میں آخری بہترین کارکردگی تھی۔آخری دو میچوں میں مصباح کے سامنے کالی آندھی کا کوئی گیند باز نہ ٹک سکا۔چوتھے میچ میں بارش کے پاعث میچ مختصر کر دیا گیا اور پاکستان کو ۳۰ اوورز میں ۱۸۹ کا مشکل حدف ملا ۔پر مصباح تو جیسے جیت کی ٹھان کر آئے تھے۔مصباح نے ۵۳ اسکور بنا کر ٹیم کو فتح دلوائی ۔عمر اکمل نے بھی کپتان کا خوب ساتھ دیا۔اور یوں پاکستان نے سیریز میں ایک بار پھر برتری حاصل کر لی۔

مگر ابھی ویسٹ انڈیز کے تابوت میں آخری کیل گاڑنا باقی تھا۔اس مرتبہ براوو نے عمدہ کاکردگی دکھائی اور محض ۲۷ گیندوں میں ۴۸ رنز سکور کرکے اپنی ٹیم کی پوزیشن مضبوط کی۔پر ایک مرتبہ پھر مصباح نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔آج اوپنرز بھی اچھی فارم میں دکھائی دیے۔احمد شہزاد نے ۶۳ کی زبردست باری کھیلی۔سیریز اور اس میچ کے آخری اوور میں ایک بار پھر سیسنی خیر مقابلہ ہوا۔پاکستان کو جیت کے لیے ۵ بالوں پر صرف ایک رن درکار تھا کہ تبھی مصباح ایک آسان کیچ تھما بیٹھے۔کالی آندھی کو ایک بار پھر ٹائی کی امید جاگی ۔پر سعید اجمل کے بلے نے کمال دکھایا اور فتح پاکستان کی جھولی میں آ گری۔

اس سیریز میں ایک بار پھر پاکستانی اسپنرز کا جادو سر چڑھ کر بولا۔پر عرفان اور جنید کی کاکردگی دیدنی تھی۔ان دونوں کی برق رفتار گیندوں نے ویسٹ انڈین بلے بازوں کو ٹک کر نہ کھیلنے دیا۔عرفان کی چند گیندوں نے تو سب کو مارشل کی یاد دلوادی۔

پاکستان کے اس کمبینیشن نے کالی آندھی کو تو ٹھکانے لگا دیا پر کیا یہ ٹیم دنیائے کرکٹ کی باقی ٹیموں کے خلاف بھی یہ کارکردگی دوہرا سکے گی یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔کیونکہ ہم جب بھی آسٹریلیا یا جنوبی افریقہ جیسی ٹیموں سے مقابلے کی لیے اترنے ہیں تو ہمیں ٹیم میں اعتماد نظر نہیں آتا۔کیا پاکستان آسٹریلیا کی سرزمین پر بھی ایسی پرفارمنس دکھا پائے گا؟ اس کا فیصلہ تو ۲۰۱۵ کا ولڈ کپ کرے گا۔ اس کے ساتھ حفیظ اور وہاب ریاض کی پرفارمنس پر بھی سوالیہ نشان ہے۔حفیظ کے پاس ٹی ۲۰ کی کپتانی بھی ہے لہذا ان کا فارم میں آنا بہت ضروری ہے۔ آنے والی ٹی ۲۰ سیریز حفیظ کی لیے فارم کی بہالی کا اچھا موقع ہے۔ورنہ ۲۰۱۴ کے ٹی ۲۰ کپ کی کپتانی کا تاج کسی اور کے سر بھی سج سکتا ہے۔۔۔۔،،

 

Image

از

طہ لیل