قومی غیرت کا جنازہ ہے ، ذرا دھوم سے نکلے

پاک بھارت وزرائےاعظم کی ملاقات کے امکانات کیا ظاہر ہوئے ہمارے میڈیا کی تو جیسے چاندی ہو گئی۔برسوں سے "امن کی آشا” کا نعرہ لگانے والے بھی پورے جوش و خروش سے میدان میں اترے۔ایسا سماء باندھا گیا کہ گویا "اکھنڈ بھارت” کے معاہدے پر دستخط ہونے جا رہے ہیں۔پر بھارتی وزیراعظم کی شعلہ بیانیوں نے پہلے ہی واضح کر دیا کہ یہ ملاقات اول تو وقوع پزیر ہی نہ ہوگی اور اگر امریکہ نے  ایٹمی پلانٹ کے بدلے ایک ملاقات مانگی تو ملاقات کے نام پر محض ایک فوٹو شوٹ پاکستان کو بھیک کی صورت میں دے دیا جائے گا۔امریکی دباواور جنرل اسمبلی میں "مستقل نشست” کے حصول کے پیش نظر بھارت ملاقات کرنے پر رضا مند ہوا۔

Image

ادھر پاکستانی وزیراعظم خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔بھاگ کر ملاقات کرنے پہنچے۔پر دوران ملاقات نواز شریف کسی ہارے ہوئے ، پست و شکستہ ملک کی نمائندگی کرتے نظر آئے۔ایسا لگا کہ جیسے یہ تسلیم کر لیا گیا ہو کہ ہر بات کا ذمہ دار پاکستان ہے اور یہ کہ پاکستان بھارت سے دوستی کے لیے مرے جا رھا ہے ۔نواز خود بھی بوکھلائے ہوئے لگے۔ ان کا اچانک بھارتی وزراء سے مصافحہ کرنا ۔ منموہن سے بلا ارادہ ٹکرا جانا حواس باختگی کی واضح دلیل تھی۔

ملاقات کا بھلا کیا نتیجہ نکلنا تھا کہ جب بھارتی رہنما پہلے ہی نواز کو ان کی اوقات دکھانے کی باتیں کر چکے تھے۔خیر رسمی سلام دعا کے بعد ایک دوسرے کو گھر آنے کی دعوتیں دی گئیں جن کو دونوں رہنماوں نے قبول کیا اور یوں برصغیر کی دو بڑی طاقتیں ایک مرتبہ پھر بے نتیجہ اپنے اپنے گھر ہو لیں۔ اس ملاقات  کا پاک بھارت تعلقات پر ایسا کیا جادوئی اثر متوقع تھا کہ نواز اس کے لیے مرے جا رہے تھےیہ سمجھ سے بالا تر ہے۔ بھارت میں چند ماہ کے بعد نئی حکومت آنے والی ہے۔ میاں صاحب بھی اس امر سے بخوبی واقف  ہیں کہ نئی حکومت کے ساتھ  بات چیت نئے  سرے سے شروع کرنا ییقینی ہے۔ایسے میں بھارتی وزیراعظم سے "زبردستی "ملاقات امریکی دباو کا نتیجہ دکھائی دیتی ہے۔کیوں کہ امریکہ شام پر حملے کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے ایسے میں دو ایٹمی ممالک کے درمیان کشیدگی اس کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر سکتی ہے۔ساتھ ہی ساتھ افغانستان اور چین کے معاملے میں بھی اسے پاکستان اور بھارت دونوں کی مدد درکار ہے۔

گو کہ ملاقات بےنتیجہ رہی پر بھارت نے پوائنٹ سکورنگ کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیااور پاکستان پر خوب کیچڑ اچھالا حتی کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پوری دنیا کے سامنے بلا جھجک پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست قرار دے دیا گیا۔ادھر کشمیر کو اپنا "اٹوٹ انگ” قرار دے کر جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔پر ہماری قومی غیرت کو سلام کہ پھر بھی بھارت کو بے نقاب کرنے کے لیے منہ سے ایک لفظ تک نہ پھوٹے۔

Image

ادھر بھارتی میڈیا ہمشہ کی طرح پاکستان کی خلاف سر گرم دکھائی دیا۔”جیو” نے خصوصی نشریات کا بندوبست کر رکھا تھا ۔ "امن کی آشا”نامی پروگرام نے پوری قوم پر واضح کر دیا کہ بھارت ہم سے کس حد تک نفرت کرتا ہے۔”نفرت کی بھاشا” کے استعمال نے ان شکوک کو دھو ڈالا کہ بھارتی عوام پاکستان سے دوستی کی خواہش مند ہے۔بھارتی اینکر جان بوجھ کر اقلیتوں پر مظالم کی باتیں کر کے پاکستان کے زخموں پر نمک چھڑکتے رہے۔جیو کے منہ پر بھی خوب تماچے مارے گئے۔آخر بات یہاں تک آن پہنچی کہ بھارتی چینل نے بات کرنا ہی پسند نہ کی اور پروگرام کا بائیکاٹ کر دیا۔ اور یوں خود "جیو” کی زبان سے یہ الفاظ سنائی دیے کہ "بھارت پاکستان کو برداشت نہیں کر سکتا”۔ان الفاظ نے ان لاکھون پاکستانیوں کے ذہنوں کو بھی جھنجوڑ ڈالا جو آج کل لبرل ازم کا شکار ہیں اور ” اکھنڈ بھارت” کے خواب دیکھتے ہیں ۔جو لوگ ایک ٹی وی پروگرام میں اکھٹے نہیں ہو سکتے وہ بھلا دوستی کے رشتے  میں کیسے  بندہ سکتے ہیں ؟

پر کیا کریں ہم اپنے بھولے پاکستانی بھائیوں کا بھارت روزانہ بلوچستان میں "امن کا تماشا” لگاتا ہے ۔بھارت کی پانی کی اجارہ داری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ اور  تو اور اب دریائے کابل پر بھی بند باندھنے کے لیے بھارت  افغانستان کو فنڈنگ کر رھا ہے۔غرض بھارت پر لحاظ سے پاکستان کو مفلوج کرنے کے درپے ہے۔پر ہمیں تو "امن کی آشا” ستائے جا رہی ہے۔بھارتی ریاستی دہشت گردی سے کون واقف نہیں ؟ اب تو ان کے اعلی فوجی افسران کھلے عام اس کا اعتراف کر چکے ہیں پر جنرل اسمبلی میں تو جیسے یماری زبان پر تالے پڑ جاتے  ہیں ۔اور تالے کیوں نہ پڑیں،جب زلزلہ زدگان کو دھوپ اور گرمی میں چھوڑ کر نیویارک پیلس کے ٹھنڈے کمروں  میں اپنے بد ترین دشمن سے "۲۱” سیکنڈ تک مصافحہ کیا جائے گا اور دوستی کے گیت گائے جائیں گے تو بلاشبہ قومی غیرت کا جنازہ بڑی دھوم سے نکلے گا۔

وسلام

طہ لیل

Image

خبر دار آگے ای ایم ای کالج ہے

براہ کرم اس تحریر کو مزاحیہ انداز میں لیا جائے اس کا مقصد ہرگز ادارے کی توہین نہیں

حسرت ان غنچوں پہ ہے

جو بن کھلے مر جھا گئے 

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم آزاد ہوا کرتے تھے یعنی ابھی ہم ای ایم ای کالج نہیں آئےتھے۔گرمیوں کی ایک گرم دوپہر میں ہم لوڈ شیڈ نگ کے مز ے لوٹ رہے تھے ۔ درخت کی چھا وں میں ہم سونے کی کوشش میں مصروف تھے ۔ ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی ۔ پہلے تو ہم نے توجہ نہ دی ۔ پر نوکیا کی ٹوں ٹون والی آواز نے ہمیں زیادہ دیر سونے نہ دیا ۔ ہم نے آنکھیں کھولے بغیر ہی فون اٹھایا۔۔ اس سے قبل کہ ہم کچھ بولتے ان الفاظ نے ہمارے اوسان خطا کر دیے” اوے یار تیرے نسٹ کے رزلٹ کا کیا بنا؟؟؟؟؟” ہم پریشا نی کے عالم میں بو کھلا کر جا گے۔پہلے تو اسے ایک بھیانک خواب سمجھے پر جب چارپائی سے نیچے جا گرے تو اسے ایک بھیانک حقیقت پایا  ۔ لوگوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ تے ہیں پر ہمارے تو دماغ کے طو طے اڑ گئے اور ایسے اڑے کہ  فون کرنے والے سے اس کا نام پوچھنا بھی بھول گئے۔ہمیں بعد میں پتا چلا کہ وہ ھمارے دوست را و ذکوان صاحب تھے۔ فون وہیں چھوڑ کر ہم کمپیوٹر کی جانب لپکے۔اب کمپیوٹر آن کر کے ہم یہ سوچنے لگے کہ آخر ہمارا رولنمبر کیا تھا؟ بہت سوچا پر یاد نہ آیا۔اپنے کاغذات میں تلا ش کیا پر کچھ نہ ملا۔ آخر گھر کی  ایک دیوار کے کونے پر اسے لکھا ہوا پایا۔جلدی جلدی رولنمبرکمپیوٹر ڈالا اور آنکھیں بند کر کے تمام سورتیں جو ہمیں یاد تھیں پڑھ ڈالیں ۔ دل میں خوف لیے آنکھیں کھولیں تواپنےکامیاب ہو جانے کا یقین نہ آیا۔ہم سمجھے کہ ضرور یہ کوئی خواب ہے۔ہم نے اپنے پیٹ پرچٹکی کاٹی ، درد کے احساس نے ہمارے اندر خوشی کی لہر دوڑا دی۔پر ہمیں اپنے حواس پر بھی یقین نہ آیا۔لہذا اپنے ایک دوست کو آواز لگای ۔اس نے ہمیں ہماری کامیابی کی خوش خبر ی سنائی تو ہم خوشی سے جھوم اٹھے۔ہم نے شاہد آفریدی سے لے کر جان سینا تک ہر ایک کے ویکٹری سٹائل دوہرا ڈالے۔ گلی میں ہم دیوانہ وار چلا نے لگے کہ اب ہم نسٹین ہیں۔لوگوں نے سوال کیا کہ یہ نسٹ کیا بلا ہے؟ یہ سننا تھا  کہ ہم آگ بلولہ ہو گئے۔اور نسٹ کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ان دنوں ہماری  حالت کچھ  یوں ہو گی تھی کہ ہم روز صبح اٹھ کر سب کے پہلے اپنی کامیابی کا موصول ہونے والا خط دیکھتے ، دن بھر اسے جیب میں لیے پھرتے اور پھر رات کو سونے سے پہلے اسے چوم چاٹ کر تکیے کے نیچے رکھتے۔ہمیں بس اس دن کا انتظار تھا کہ جس دن ہم بھی یونیورسٹی جائیں گے۔پر شاید خدا کو ہمارا غرور پسند نہ آیا اوراور اس نے ہمیں ای ایم ای کالج کے سپرد کر دیا۔

uni tension

ای ایم ای کالج آنے کا دن آن پہنچا ۔ہم دل میں خوشیوں کی امیدیں لیے گھر سے نکلے۔ہم دل ہی دل میں یہ سوچ رہے تھے کہ آخر وہ دن آ ہی گیا جس کا اتنی شدت سے انتظار تھا۔اب عیاشی ہی عیاشی ہو گی۔پھول بھی ہونگے اور کلیاں بھی۔مانو بس جنت ہوگی۔پر جلد ہی ہماری خوشیوں پر پانی پھر گیا۔یہاں  نہ تو پھول تھے نہ کلیاں جہاں دیکھا بس کانٹے ہی کانٹے پائےوہ بھی زہر میں بجھے ہوئے۔دل خون کے آنسو رویا پر خود کو سنبھالا ۔ابھی اس غم سے  نکلے نہ تھے کہ ایک اور غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔    حکم صادر ہوا کہ آئیندہ سے یونیفارم پہن کر آئیں۔یہ سن کر ہم خاموشی سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ یونیورسٹی میں بھی یونیفارم؟ ہم سمجھ گے کہ اب مصیبتیں روز آئیں گی اور روز ہمیں اذیت دی جائے گی۔ اور یہی ہوا ایک کے بعد ایک ہم پر پابندیاں لگیں اور ہم چپ چاپ سہتے گئے۔

اپنی آزادی بیچنے کے بعد ہمیں کلاس میں بھیجا گیا۔ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پہلے روز ہی پڑھائی بھی ہوگی۔سر حمید اللہ نے پہلی کلاس لی اور چند میٹھی میٹھی باتیں کیں جو ہمیں بالکل سمجھ نہ آئیں۔پھر باتیں کڑوی ہوتی گئیں اور ہمیں ابھی بھی کچھ سمجھ نہ آیا۔ایک ہفتہ بعد جا کر ہمیں یہ معلوم ہوا کہ اس روز سر حمیداللہ نے ہمیں کون سا مضمون پڑھایا تھا اوریہ کہ وہ ان کا پہلے سیمیسٹرکا پہلا اور آخری لیکچر تھا۔

اس کے بعد بریک ہوئی۔بریک میں ہمارے ساتھ جو کچھ ہواوہ بیان کرتے ہوئے ہماری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔۔۔۔۔دل پھٹ جاتا ہے۔۔۔۔۔ہمیں ہمارے اندر کا خود  دار اور پر وقار انسان خودکشی کرتا ہوامحسوس ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔آ آ آ آ آ آہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔آج تک فولینگ اور ریگینگ کی محض داستانیں ہی سنی تھیں۔پر اب ہم بھی ان داستانوں مین سے ایک داستان بننے جارہے تھے۔

ragging-goes-off-campus

پہلے پہل تو گراونڈ میں لے جا کر ہماری "دنیا بدلی گئ”۔ایک اونچے قد کے لڑکے کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی ٹانگوں کو پھیلا کر کھڑا ہو اورہمیں حکم دیا گیا کہ اس کی ٹانگوں کے بیچ  میں سے یہ کہتے ہوئے گزریں کہ ” آ ج میری دنیا بدل گئ”۔پھر اس لمبے لڑکے کو حکم ہوا کہ اب وہ اپنی دنیا بدلنے کے لیے سب کی ٹانگوں کے بیچ میں سے گزرے۔ایک سینئر نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے بازو پھیلا لوں اور بھاگنے کے ساتھ ساتھ چلاوں یہ کہ "دیکھو میں سپائیڈر مین ہوں”۔

پھر ہم سے نجانے کیسی کیسی چیزوں کو چلانے کے طریقے پوچھے گئے۔اس کے علاوہ یہ حکم تھا کہ ہر سینئر کو دیکھتے ہی با آواز بلند "اسلام و علیکم سر” کہا جائےاور اگر سلام کرنے میں دیر ہو جاتی یا سلام آہستہ آواز میں کیا جاتا تو شامت آجاتی اور چاروں اطراف سے "لاوڈ ر، لاوڈر "کی آوازیں آنے لگتیں جس سے دل سہم جاتا۔ کبھی کبھا تو ایسا بھی ہوتا کہ کلاس تک پہنچتے پہنچتے ہم سینکڑوں دفعہ سلام کیا کرتے۔حتی کہ گھر جا کر والد صاحب کو بھی باآواز بلند "اسلام و علیکم سر” کہہ بیٹھتے جس سے پورا گھر لرز اٹھتا۔

ہمیں پھونک مار کر پنکھا چلانے کو بھی کہا گیا اور پھر اسی بات پر بے عزتی بھی کی گئ کہ تم انجنئیر بننے آئے ہو اور اتنا بھی نہیں پتا کہ پنکھا بٹن آن کرنے سے چلتا ہے؟ جاو بٹن آن کرو۔جب ہم بٹن آن کر بیٹھے تو کہا گیا کہ اب زور زور سے چلاو "یس میں نے پنکھا چلایا ہے”۔غرض ہمیں بے عزت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جاتا۔

اور تو اور شامت کے دوران کسی بات پر ہنسنے کی اجازت بھی نہ تھی۔ایسا محسوس ہوتا گویا ڈگری ۳۴ کاہونا قتل کے جرم سے بڑھ کر تھا۔بس ایک ہی سوال ہوتا "کون سی ڈگری ؟؟ اگر آپ کا جواب ۳۴ ہوتا تو سمجھ لیجیئے کہ آپ بھی ایک داستان بننے والے ہیں۔ہم سے عجب سوال پوچھے جاتے "ای ایم ای کیوں آئے ہو؟” ہم جواب میں کہا کرتے "انجنیئر بننے” یہ سن کر وہ ہمیں سنانا شروع کر دیتے ” ای ایم ای اچھا ہے تو بھلا باقی ادارے برے ہیں؟؟؟تمہیں کیا پتا ؟؟ یہ وہ۔۔۔۔بندہ ان سے پوچھے کہ جناب آپ کوپتا ہے تو آپ کیوں نہیں چلے جاتے کسے اور ادارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر ہم میں اتنی ہمت کہاں تھی کہ ان کے سامنے چوں چراں کرتے۔ ہمیں تو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے چپ چاپ ان کی سنتے رہتے۔ اکثر ” اولڈ بلڈنگ” میں چھپ جایا کرتے کیوں کہ وھاں سینئیرز کا آنا جاناکم تھا ۔وھاں ایک دوسرے کی دکھ بھری داستانیں سنتے اور ایک دوسرے کو دلا سے دیتے کہ بس دو،تین  ہفتوں کی تو بات ہے۔ صبر کرو ۔پر وہ دو،تین ہفتے ہم نے کس طرح جھیلے وہ ہم ہی جانتے ہیں۔

ہم رات کو سوتے ہوئےبھی یہی سوچا کرتے کہ کل کیا ہوگا؟سینئیرز کی آوازیں ہمیں رات بھر سونے نہ دیتیں۔۔۔۔۔۔بس میں بھی ہمیں بخشا نہ جاتا ۔ہمیں نہایت پیار سے ایک سٹول پر بٹھایا جاتا اور پھر حسب دستور سبزی والے سے لے کر ٹین ڈبے والے تک ہر ایک کی نقل کروائی جاتی۔ہم سے ہمارا ٹیلنٹ پوچھا جاتا۔۔۔۔۔۔ٹیلنٹ بتانے پر حکم صادر ہوتا کہ کل فلاں کام کر کے لے آنا۔ہم سے "قیام پاکستان میں نرگس کے کردار” پر تقریریں بھی کروائی گئیں۔”فریش مین فرینڈلی” والوں نے ہمارے ساتھ عجب کھیل کھیلا ۔ پہلے جی بھر کر عزت اتاری اور پھر بڑی بڑی تقریریں کیں۔اس لیے ہم انہیں "میٹھِی چھری ” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

یہاں میں اس ہستی کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس کو دیکھ کر میری روح تک کانپ جاتی تھی۔ان کے رعب کی کیا مثال دوں کہ ڈگری ۳۴ والے ان کو آتا دیکھ کر ہی رستہ بدل لیتے اور چھپنے کی کوشش کرتے۔اس عظیم ہستی کا نام "سر کمال ” ہے۔سر کمال جن کا تعلق ڈگری ۳۱ سے ہے ای ایم ای کی تاریخ کے نامور ریگرز میں سے ایک ہیں۔وہ اپنی مثال آپ ہیں۔خدا گواہ ہے کہ ای ایم ای میں گزرے پہلے مہینے کے دوران دن رات ہمارے ذہن انہی کے بارے سوچتے رہتے۔ہر روز ان سے آنکھ بچا کر نکلنے کی کوشش کرتے پر ان کی عقابی نگاہ سے کوئی بچ نہ پاتا۔صبح صبح ہی وہ ہمیں پکڑلیتےاور  "چن اپ ” کراکے ہمارے جذبات اور احساسات کے ساتھ جی بھر کر کھیلتے۔ان کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ جب کہیں ،جہاں کہیں بھی ہمیں دیکھ لیتے،ہماری آو بھگت ضرور کیا کرتے۔حتی کہ جب تمام سینیئرز نےبھی ہمیں بخش دیا تب بھی وہ ہمیں اپنے عتاب کا شکار بناتے۔سچ پوچھیے تو ان کے بارے میں لکھتے ہو ئےبھی ہمارے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور دل میں یہ خیالات ابھر رہے ہیں کہ اس مضمون کو پڑہنے کے بعد وہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا خدا مجھے سر کمال کے عتاب سے بچا۔۔۔۔۔

کچھ سینئرز ہمیں خوشی کی نویدیں بھی سنایا کرتے۔سر بلال،جنہیں بہت سے لوگ آج بھی ڈگری ۳۳ کا سمجھتے ہیں حالانکہ ان کا تعلق ڈگری ۳۱ سے ہے،اکثرکلاس میں آیا کرتے اور دل بہلانے کی باتیں کیا کرتے۔ان کا موضوع بحث اکثر "پھول” ہوا کرتے تھے۔ان کی باتیں سن کرہم میں ای ایم ای میں رہنے کا حوصلہ پیدا ہوتا۔ پر نجانے وہ پھول کہاں ہیں؟ ہمیں تو آج تک صرف گو بھی کے پھول ہی نظر آئے ہیں۔سر بلال سے ہمیں بس یہی شکوہ ہے کہ وہ یہ تو بتا دیتے کہ جن پھولوں کی باتیں وہ کیا کرتے تھے دراصل وہ پھول گو بھی کے تھے۔

المختصریہ ظلم و ستم کی ایک لازوال داستاں ہے جسے بیان کرنے کے لیے صدیاں چاہیں۔ ہماری کیفیت وہ تمام لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس دور سے گزرے ہیں۔ پر ہم نے بھی صبرکا کڑوا گھونٹ پی لیا ہے اور ڈگری ۳۵ کی آس میں خود کو سنبھالا ہوا ہے۔۔۔۔۔روز ای ایم ای آتے جاتے یہی خیال آتا ہے کہ کوئی بات نہیں ڈگری ۳۵ تو آئے گی نا پھر دیکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچ پوچھیے تواسی بات نے ہمیں زندہ رکھا ہوا ہے۔اور حقیقت یہی ہے کہ جس طرح ہم ڈگری ۳۶،۳۵ اور ۳۷ کے انتظار میں اپنے چار سال گزاریں گے ہمارے سینئرز نے بھی اسی طرح ہمارے انتظار میں یہاں وقت گزارا ہے۔آخر میں ہم اپنے آنے والے چار سال کو مدنظر رکھتےہوئے ایک سیاسی بیان کے ساتھ آپ سےاجازت چاہیں گے کہ

"ہمارے سینئیر ز تو بہت اچھے ہیں، ہم تو مذاق کر رہے تھے”

eme

از

طہ لیل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

شاہینوں کا شکار–کالی آندھی کی ہار

 

چیمپینز ٹرافی اور دورہ جنوبی افریقہ میں شرم ناک شکست کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے حوصلے انتہائی پست تھے ۔میڈیا اور سابق کھلاڑیوں نے ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیا۔ بورڈ کے معاملات بھی تیزی سے تبدیل ہوئے۔ان حالات میں ٹیم کو ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنا تھا۔ویسٹ انڈیز کی کنڈیشنز پاکستان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔پر کالی آندھی ہمیشہ ہی سے اپنے ہوم گراونڈ پر مشکل حریف ثابت ہوئی ہے اور رواں سال کے دوران کالی آندھی کی پرفارمنس قابل دید رہی۔ لہزا مصباح الیون مندجہ بالا حالات میں ویسٹ انڈیز کی سر زمیں پر اتری۔

پہلے میچ کی پہلی اینگز میں ہی پاکستانی بلے بازوں نے گٹھنے ٹیک دیے۔پاکستان ایک مرتبہ پھر شکست کی طرف جا رہا تھا کہ تبہی آفریدی کا بلا رنز اگلنے لگا۔آفریدی کے شاندار ۷۵ رنز کی بدولت پاکستان اس میچ میں واپس آیا ۔ مصباح نے بھی جم کر اپنی باری کھیلی پر آج آفریدی کا دن تھا ۔ شاید آج ان کی دوستی سات کے ہندسے سے ہو گئی تھی ۔آفریدی کے ہاتھ میں بال کا آنا تھا کہ کالی آندھی کی نیا ڈوبنے لگی۔محض ۱۲ رنز دے کر آفریدی نے ۷ بلے بازوں کو ٹھکانے لگایا یہ ون ڈے کرکٹ کی تایخ کی دوسری بہترین باولنگ پرفارمنس تھی۔پاکستان نے یہ میچ با آسانی جیت کر سیریز میں اپنا کھاتا کھولا۔

اب باری کالی آندھی کی تھی۔دوسرے ہی میچ میں براو الیون نے واپسی کی اور پاکستان کو شکست سے دوچار کیا ۔ ایک مرتبہ پھر پاکستانی بلے باز دھوکا دے گئے۔ایسا محسوس ہوا کہ بلے باز بیٹنگ کرنا ہی بھول گئے ہیں۔عمر اکمل نے کچھ جدوجہد کی پر ٹیم کو کامیابی نہ دلوا سکے۔ناصر جمشید کے رنز بھی کسے کام نہ آئے۔پر اکمل کا فارم میں آنا ایک اچھی نشانی تھی۔عمر اکمل جن کا موازنہ اکثر انڈیا کے ورات کوھلی سے کیا جاتا ہے اب تک پاکستان کو کسی بڑی ووکٹری دلوانے میں ناکام رہے ہیں۔ نئے چیف سلیکٹر معین خان بھی کئی مرتبہ اکمل کی پرفارمنس پر سوالیہ نشان اٹھا چکے ہیں۔ اکمل کا فارم میں واپس آنا شاید اس پریشر کا نتیجہ بھی تھا۔

Image 

تیسرا میچ پاکستان کی گرفت میں تھا ۔ ایک مرتبہ پھر مصباح سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے۔مصباح نے ایک مرتبہ پھر نصف سینچری سکور کی۔مصباح نے تو شاید ہر میچ میں نصف سینچری کی قسم کھا رکھی تھی ۔ انہی کی بدولت پاکستان بورڈ پر ایک اچھا سکور لگانے میں کامیاب ہوا۔ ویسٹ انڈیز کا آغاز کچھ متاثر کن نہ تھا ۔ پر کھیل کے آخری اوور میں بازی پلٹی۔ وہاب ریاض نے آخری اوور میں پندرہ رنز دیے اور میچ ٹائی کروا بیٹھے۔ پر میچ ٹائی ہونے میں اہم کردار اکمل کا تھا۔آخری بال پر کلیر رن آوٹ مس کر دینے کی وجہ سے پاکستان کے ہاتھ سے جیتا ہوا میچ نکل گیا۔پر میچ ٹائی ہونے کی ایک اور وجہ اکمل کا وہ رن بھی تھا جسے امپائیر نے "شارٹ” قرار دیا تھا دراصل وہ لیگل رن تھا۔پر یہی کرکٹ کا حسن ہے۔

یہ ویسٹ انڈیر کی اس سیریز میں آخری بہترین کارکردگی تھی۔آخری دو میچوں میں مصباح کے سامنے کالی آندھی کا کوئی گیند باز نہ ٹک سکا۔چوتھے میچ میں بارش کے پاعث میچ مختصر کر دیا گیا اور پاکستان کو ۳۰ اوورز میں ۱۸۹ کا مشکل حدف ملا ۔پر مصباح تو جیسے جیت کی ٹھان کر آئے تھے۔مصباح نے ۵۳ اسکور بنا کر ٹیم کو فتح دلوائی ۔عمر اکمل نے بھی کپتان کا خوب ساتھ دیا۔اور یوں پاکستان نے سیریز میں ایک بار پھر برتری حاصل کر لی۔

مگر ابھی ویسٹ انڈیز کے تابوت میں آخری کیل گاڑنا باقی تھا۔اس مرتبہ براوو نے عمدہ کاکردگی دکھائی اور محض ۲۷ گیندوں میں ۴۸ رنز سکور کرکے اپنی ٹیم کی پوزیشن مضبوط کی۔پر ایک مرتبہ پھر مصباح نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔آج اوپنرز بھی اچھی فارم میں دکھائی دیے۔احمد شہزاد نے ۶۳ کی زبردست باری کھیلی۔سیریز اور اس میچ کے آخری اوور میں ایک بار پھر سیسنی خیر مقابلہ ہوا۔پاکستان کو جیت کے لیے ۵ بالوں پر صرف ایک رن درکار تھا کہ تبھی مصباح ایک آسان کیچ تھما بیٹھے۔کالی آندھی کو ایک بار پھر ٹائی کی امید جاگی ۔پر سعید اجمل کے بلے نے کمال دکھایا اور فتح پاکستان کی جھولی میں آ گری۔

اس سیریز میں ایک بار پھر پاکستانی اسپنرز کا جادو سر چڑھ کر بولا۔پر عرفان اور جنید کی کاکردگی دیدنی تھی۔ان دونوں کی برق رفتار گیندوں نے ویسٹ انڈین بلے بازوں کو ٹک کر نہ کھیلنے دیا۔عرفان کی چند گیندوں نے تو سب کو مارشل کی یاد دلوادی۔

پاکستان کے اس کمبینیشن نے کالی آندھی کو تو ٹھکانے لگا دیا پر کیا یہ ٹیم دنیائے کرکٹ کی باقی ٹیموں کے خلاف بھی یہ کارکردگی دوہرا سکے گی یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔کیونکہ ہم جب بھی آسٹریلیا یا جنوبی افریقہ جیسی ٹیموں سے مقابلے کی لیے اترنے ہیں تو ہمیں ٹیم میں اعتماد نظر نہیں آتا۔کیا پاکستان آسٹریلیا کی سرزمین پر بھی ایسی پرفارمنس دکھا پائے گا؟ اس کا فیصلہ تو ۲۰۱۵ کا ولڈ کپ کرے گا۔ اس کے ساتھ حفیظ اور وہاب ریاض کی پرفارمنس پر بھی سوالیہ نشان ہے۔حفیظ کے پاس ٹی ۲۰ کی کپتانی بھی ہے لہذا ان کا فارم میں آنا بہت ضروری ہے۔ آنے والی ٹی ۲۰ سیریز حفیظ کی لیے فارم کی بہالی کا اچھا موقع ہے۔ورنہ ۲۰۱۴ کے ٹی ۲۰ کپ کی کپتانی کا تاج کسی اور کے سر بھی سج سکتا ہے۔۔۔۔،،

 

Image

از

طہ لیل

میوزیکل کنسرٹس

چند دن پہلے پنجاب اسمبلی نے تعلیمی اداروں میں ”قابلِ اعتراض“ میوزیکل کنسرٹس پر پابندی کی قرارداد منطور کی،مگر شاید کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ معاملہ اتنا سنگینی اختیار کر جائے گا۔اور ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو جائے گا۔اب اپوزیشن جماعتوں نے میوزیکل کنسرٹ کے حق میں دلائل دینے شروع کر دیے ہیں جبکہ پنجاب حکومت نے بھی اپنی قراردادکو صحیح قرار دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔حکومت نے  ” یوٹرن ”  لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے صرف قابل ِاعتراض کنسرٹس پر پابندی لگائی ہے۔۔۔۔ لیکن اصل مسئلہ وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ”قابلِ ا عتراض“کی تعریف کیا ہے؟؟قارئین اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔لہذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس معاملے میں اسلام اور جمہوریت دونوں کے تقاضوں کو پورا کریں،اگرچہ ایساکرنا موجودہ صورت حال میں ممکن نظر نہیں آتا۔۔
پہلے جمہوریت کی طرف آئیے۔جمہوریت کے عام الفاظ میں معنی ہیں  ”جمہور کی حکومت“ یعنی جمہوریت کی رو سے ہر وہ کام جائز قرار پائے گا جس کے حق میں زیادہ لوگ (جمہور)ووٹ دیں گے۔ مثلاََ اگر کل یہ قرار داد پیش کر دی جائے کہ شراب ملک میں جائز ہونی چاہیئے اور اسمبلی میں موجود سو(۱۰۰) ممبران میں سے اکاون(۵۱) اس کے حق میں ووٹ ڈال دیں تو جمہوریت کی رو سے یہ قانون بن جائے گا اور عین مطابق ِآئین ہوگا۔یعنی اسلام کی رو سے غلط اور حرام قرار دیے جانے کے باوجود شراب حلال قرار پا جائے گی۔اب سوال ان جمہوریت پسندوں سے ہے جو کہتے ہیں کہ کالجوں میں کنسرٹ پر پابندی ہونی چاہیے،اور ان کا نکتہ یہ ہے کہ کنسرٹ اسلامی روایات کے خلاف ہیں۔ان سے یہ پوچھا جائے کہ اگر کل اپوزیشن کنسرٹ کے حق میں قرارداد منظور کروا لے تو آپ اسے کیا کہیں گے؟؟؟؟جمہوری یا اسلامی؟؟؟؟لہذاجمہوریت کی رو سے تو عوام یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ کس چیز کو قابلِ اعتراض سمجھتے ہیں؟؟
عوام کے اس ضمن میں دو گروہ سامنے آتے ہیں۔۔۔ایک وہ جو مغرب زدہ ذہنیت کے حامل ہیں۔آج کل ان کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔ان کے مطابق یہ اکیسویں صدی ہے۔اور پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔یہاں کسی قسم کی پابندی کا نام لینا بھی گناہ ہے۔بلکہ ان کے مطابق توان کنسرٹس کو اور بھی فروغ دینا چاہیے۔جب ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا بے حیائی کی بھی اجازت ہونی چاہیے؟ تو کہتے ہیں کہ بے حیائی کہاں ہے؟؟؟؟ہمیں تو نظر نہیں آتی۔۔۔۔یہ تو ہماری ثقافت ہے۔اس کا بچاؤ اور فروغ ہمارا حق ہے۔۔۔۔ان لبرل پاکستانیوں سے پوچھا جائے کہ یہ کس ثقافت کی بات کر رہے ہیں؟؟؟ان کنسرٹس میں نہ تو پاکستانی(برِصغیر)کی ثقافت نظر آتی ہے اور نہ ہی اسلامی ثقافت۔۔۔۔ان کنسرٹس میں لڑکے لڑکیاں انگریزی گانوں پر رقص کرتے ہیں۔۔۔انہی میں انگریزی موسیقی بجائی جاتی ہے۔۔۔ساتھ ہی ان میں اخلا قیات کی خوب دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔”منی بدنام ہوئی“،”چھنوں کی آنکھ میں اک نشہ ہے“اور ”کم پے گیا ہے تھوڑی دیر دا“  وغیرہ جیسے بازاری گانے نہ تو اسلامی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں نہ ہی پاکستانی ثقافت کی۔۔۔کیا آپ پاکستانی نسل کو بھی وہی کچھ کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں جو گذشتہ برس لندن کے لبرل نوجوانوں نے کیا؟؟؟شاید آپ کی نظر سے برطانوی وزیرِاعظم کا وہ بیان نہیں گزرا جس میں انہوں نے لندن کے فسادات کی تمام تر ذمہ داری نوجوانوں کے والدین پر عائد کی کہ انہوں نے اپنی اولاد کی صحیح تربیت نہیں کی اور انہیں بے جا آزادی دی۔آج مغرب خود مذہب کی طرف واپس آ رہا ہے کیوں کہ وہ بے روک ٹوک،مادر پدر آزادی کے نتائج دیکھ چکا ہے۔

concertspic

اب دوسرے گروہ سے سوال کیا جاتا ہے کہ قابلِ اعتراض کیا ہے؟؟؟ ان کا جواب بھی عجیب ہے۔ ان کے مطابق ہر قسم کی موسیقی حرام ہے۔ اسلام میں موسیقی کا تصو ر بھی جائز نہیں۔اور پاکستانی ثقافت بھی کسی کنسرٹ کی اجازت نہیں دیتی۔۔لہٰذا، ہر کنسرٹ پر پابندی لگا دو۔اگر ان سے یہ سوال کیا جائے کہ رسول اللہﷺنے تو ایک قبیلے کو مسجدنبوی (ﷺ) میں تماشہ (بعض کے مطابق رقص) پیش کرنے کی اجازت دی تھی(تفہیم القرآن از مولانا مودودیؒ۔جلد سوم۔صفحہ نمبر384۔سورہ النور)بشرطیکہ کوئی بے حیائی اور شرک کی بات نہ ہو؟؟؟توان کا جواب خاموشی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ساتھ ہی ان کنسرٹس میں کلام اقبال وفیض بھی گایا جاتا ہے۔۔۔”خودی کا سرِ نہاں“ ،”امیدِ سحر کی بات سنو“ اور ”زمانے کے انداز بدلے گئے“جیسے گانے (کلام) نہ تو اسلام کے خلاف ہیں نہ ہی پاکستان کے۔بلکہ یہی وہ گانے ہیں جن کو سن کر آج بھی جذبہ ء ایمانی جاگ اٹھتا ہے اور خون جوش مارنے لگتا ہے۔دوسری طرف یہی وہ کنسرٹس ہیں جن میں جمع ہونے والا پیسہ سیلاب زدگان اور دیگر غرباء تک پہنچایا جاتا ہے۔انہی سے غریبوں کے لیے بستیاں بسائی جا تی ہیں۔ ہمارے سامنے سمیع یوسف کی مثال ہے۔سمیع یوسف آج کل کا مشہور نعت خواں ہے۔وہ مغربی لباس پہن کر مغربی موسیقی میں نعتوں کے کنسرٹس کرتا ہے۔ اس کی نعتیں اس وقت کے بالی وڈ کے گانوں سے زیا دہ مشہور ہیں۔اس نے نوجوان نسل میں نعتوں کا جو ذوق و شوق پیدا کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ اگر آج آپ دیگر کنسرٹس کے ساتھ ان کنسرٹس پر بھی پابندی لگا دیں گے تو نوجوان نسل تفریح کے لیے جو گھٹیا ذرائع استعمال کرے گی ان کا آپ بھی بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں۔

mulla

ہم نے دیکھا کہ یہ دونوں گروہ انتہا پسندی کا شکار ہیں۔اس کی وجہ شاید ہمارے ملکی حالات ہیں۔یہ ہماری نفسیات بن چکی ہے کہ ہر شے کی یا تو مکمل حمایت کرو یا مکمل مخالفت۔حالانکہ اسلام ہمیں اعتدال پسندی کا حکم دیتا ہے۔مگر بد قسمتی سے آج اسلام کا نام لینے والے کو شدت پسند قرار دے دیا جاتا ہے۔جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔اب اسلام اس ضمن میں ہمیں کیا حکم دیتا ہے ذرا اس طرف آئیے۔ اسلام ہردور،ہر ملک اور ہر علاقے کے لیے آیا ہے۔یہ دین تاقیامت قائم رہنا ہے لہٰذا، اس میں قدامت پسندی کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔آپ خود تصور کیجئے کہ ایک نظام جس نے تا قیامت رہنا ہے وہ کیسے قدامت پسند ہو سکتا ہے؟؟؟اسلام کا اصول واضح ہے۔اسلام آپ کی حدود مقرر کرتا ہے۔یوں سمجھئے کہ ایک دائرہ آپ کے گرد کھینچ دیا گیا ہے۔اب آپ کو اجازت ہے کہ اپنے زمانے اور علاقے کی مناسبت سے اس دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنے فیصلے کریں۔اگر آپ کسی شے کو اس دائرے سے باہر دیکھتے ہیں تو بلا جھجھک اس پر پابندی لگا دیں۔اگر ہم موسیقی کے معاملے کو اسلام کی نظر سے دیکھیں تو ایک واقعہ اس تمام بحث کو سمیٹ دیتا ہے اور ”قابلِ اعتراض“کی واضح تعریف کرتا ہے،واقعہ کچھ یوں ہے کہ:۔
ایک مرتبہ مسلمانوں کے قافلے کے ساتھ جس میں حضرت عمرؓ،حضرت عثمانؓ اور حضرت ابنِ عباسؓ بھی تھے،چرواہوں کی ایک ٹولی آملی۔شام ہوئی تو چرواہوں نے رباح فہری سے، جو مشہور گانے والا تھا،حدی خوانی کی فرمائش کی۔رباح نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ قافلے کے ساتھ حضرت عمر ؓ بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تم شروع کرو۔اگر حضرت عمرؓ نے اعتراض کیا تو بند کر دینا۔اس نے شروع کیا تو حضرت عمر ؓ نے کوئی اعتراض نہ کیا۔بلکہ سن کر خوش ہوئے۔جب صبح ہوئی،تو رباح سے کہا کہ اب بس کرو۔ذکرِالٰہی کا وقت آگیا ہے۔دوسری شب چرواہوں نے رباح سے ایک اور گانے کی فرمائش کی جو حدی خوانوں ہی کے انداز کا تھا۔اس سے بھی حضرت عمرؓ اسی طرح کیف اندوز ہوتے رہے۔تیسری شب انہوں نے کچھ بازاری قسم کے گانے کی فرمائش کی تو اسے سن کر آپؓ نے رباح سے کہا کہ یہ نہیں بھائی!۔اس سے دلوں میں انقباض اور کدورت پیدا ہوتی ہے۔
اس واقعہ سے ”قابلِ اعتراض“ کامسئلہ حل ہو جاتا ہے پس اسلام بے حیائی،فحاشی اور شرک سے روکتا ہے۔اگر کسی کنسرٹ میں ان میں سے ایک چیز بھی پیش کی جاتی ہے تو اس پر پابندی ہو،جبکہ ہر وہ کنسرٹ جو ان سے پاک ہو اسکی نہ صرف حمایت کی جائے بلکہ اس کو حکومت کی طرف سے فنڈز بھی مہیا کیے جائیں تاکہ صحیح اسلامی ثقافت کی حفاظت کی جا سکے۔صرف کنسرٹ ہی نہیں بلکہ فحا شی پھیلانے والے ٹی وی چینلز پر بھی نظر رکھی جائے۔آج آپ کسی بھی نیوز چینل کا خبر نامہ سن لیں، اس میں آخری خبر اکثر ایسی ہوتی ہے جسے آپ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے۔اگر نیوز چینلز کا یہ حال ہے تو دوسری طرف انٹرٹینمنٹ چینلز آئے دن انڈیا کے ایوارڈ شوز دکھا تے ہیں جن میں فحاشی اپنے عروج پر دکھائی جاتی ہے۔ اب یہ ہمارے سیاست دانوں کا کام ہے کہ وہ ”کنٹرولڈ ڈیموکریسی“ پر عمل کریں یعنی جمہوریت کو قرآن کے تابع کریں ورنہ کل کو پاکستان میں بھی ہم جنسوں کی شادیوں اور شراب کو حلال قرار دلوانے کے لیے قرار دادیں آنے لگیں گی اور نوجوانوں کو قابو کرنا ناممکن ہوجائے گا۔مگر اس ضمن میں اقبال ؒ کا یہ شعر آپ پر سیاست دانوں  اور دیگر گروہوں کی نیتیں اور ہمارا یہ مضمون لکھنے کامقصد ظاہر کر دے گا۔

اگر چہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں                مجھے ہے حکمِ اذاں  لا   اِلہَ     اِلا اللہ                                        

mullahandpolititions

   تحریر    ملک  طٰہ ٰ  منظور لیل