ڈی سی -پہلا حصہ

آج نجانے بیٹھے بیٹھے کیوں ان کی یاد ستانے لگی۔شاید کسی چیز کی اہمیت و وقعت کا اندازہ اسی وقت ہوتا ہے جب وہ آپ سے دور ہو۔کچھ ایسی ہی رومانوی داستان ہے ڈی سی صاحب اور ہماری ۔متوسط قد،گندمی رنگت،گردن ذرا جھکی ہوئی،چہرہ عینک کے بوجھ تلے دبا ہوا،پیٹھ پر لٹکا بھاری بھرکم بستہ ،جس میں لیپ ٹاپ کے سواء اور کچھ نہ ہوتا۔یہ ہیں ہمارے ڈی سی صاحب۔ڈی سی صاحب ،جن کا اصل نام تو شاید ہی کسی کو یاد ہو ،ہمارے ہم جماعت اور روم میٹ واقع ہوئے ہیں۔صاحب ہمارے پہلے روم میٹ تھے۔یہ الگ بات ہے کہ اس سے قبل بھی ہم چند احباب کے ساتھ رہے پر معمول یہی ہوتا کہ جب ہم کمرے میں ہوتے تو وہ نہ ہوتے اور جب وہ ہوتے تو ہم نہ ہوتے ، اور اکثر اوقات وہ ہوتے ، ان کے دوست احباب ہوتے اور ہم باہر کی دنیا میں مشغول ہوتے۔کمرے میں تمکن ہمیں ڈی سی کی آمد کے بعد ہی نصیب ہوا۔ڈی سی دراصل انگریزی حروف ڈی اور سی کا مخفف ہے ۔ڈی سے مراد دماغ ہے جبکہ سی سے مراد چوس ہے۔یعنی دماغ چوس۔چند احباب لفظ ڈی سی کی کئی اور تشریحات بھی کرتے ہیں پر ہم ہزار ہا کاوش کے باوجود ،اخلاقیات کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ،انہیں بیان کرنے سے قاصر ہیں۔
پورے ای ایم ای کے لیے یہ بات باعث استعجاب و حیرت تھی کہ ہم نے ڈی سی صاحب کو اپنا روم میٹ آخر کیونکر چنا ؟ ہمیں لوگوں نے ہزار ہا نصیحتیں کیں کہ صاحب تم تو نادان ہو ۔۔ کیوں اپنی جان کے دشمن بنے بیٹھے ہو ؟ تمہیں علم نہیں کہ آٹھ ، دس معصوم تم سے قبل بھی ان کا شکار بن چکے ہیں۔ہوش سے ناخون لو۔ پر کوئی کیا جانے کہ ڈی سی صاحب تو ہمیں اپنی اداوں سے پہلے ہی اسیر کر چکے تھے۔روزانہ شام کی چائے کے وقت کمرے میں آنا ان کا معمول بن گیا ۔ہاتھوں میں "گورمے ” کے تازہ اور لذیذ بسکٹوں کا ڈبہ لیے داخل ہوتے اور نہایت شائستانہ انداز میں اسے ہماری جانب بڑھاتے۔
"والدہ صاحبہ نے تاکید فرمائی تھی کہ انہیں خود بھی جی بھی کر کھانا اور اپنے روم میٹ کو بھی کھلانا۔۔۔اب آپ ہی ہمارے روم میٹ ہیں تو جی بھر کر کھائیے۔”
نہ جانے ان بسکٹوں میں کیسی تاثیر تھی کہ ہم نے ڈی سی صاحب کو اپنا روم میٹ بنانے کی حامی بھر لی اور اس طرح ڈی سی اور ہماری داستان کا آغاز ہوا۔
پہلا دن ہمیشہ کسی بھی داستان کا سب سے یادگار دن ہوا کرتا ہے۔پر ہماری طرف یہ یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ کافی دردناک بھی تھا۔رات کا پچھلا پہر تھا،ہم خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے۔ای ایم ای میں سہانے خواب بھی ناپید ہیں۔پر قسمت کبھی کبھار مہربان بھی ہوا کرتی ہے۔ہم ایک حسین خواب میں جانبِ منزلِ مقصود رواں دواں تھے کہ اچانک جیسے زمین تھر تھرانے لگی۔ہم ہنوز خواب ہی میں تھے ۔سمجھے کہ ضرور قیامت برپا ہوگئی ہے۔ہڑ بڑا کر اٹھے۔ذرا غور کیا تو پایا کہ ڈی سی صاحب کا موبائل مرغِ بسمل کی طرح تڑپ رہا ہے اور اس میں سے عجیب و غریب قسم کی آوازیں نکل رہی ہیں ۔ہماری جان پر بن آئی تھی ادھر ڈی سی صاحب نے نہایت اطمینان سے نیند ہی میں ایک آنکھ کھولی ، موبائل پر ایک مغرورانہ نگاہ ڈالی،ایک بٹن دبایا اور یکایک آنکھ بند کر لی۔۔۔ ہم حیران و پریشان انہیں تکتے رہے۔اب ہمیں کیا خاک نیند آنی تھی ۔کبھی ادھر کروٹ بدلتے کبھی ادھر۔جلد ہی لطف میں اضافہ ہوا اور سماں صاحب کے سریلے خراٹوں سے گونجنے لگا ۔یہ پہلا موقع تھا جب ہمیں اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا۔دل ہی دل میں ٹھانی کہ صبح ہوتے ہی صاحب سے کہیں گے کہ اپنا سامان باندھو اور چلتے بنو۔انہی ترکیبوں کی تشکیل کر رہے تھے کہ نیند نے ایک بار پھر ہمیں آن گھیرا۔ہمارےمطابق شاید چند ہی سیکینڈ گزرے ہوں گے کہ ایک مرتبہ پھر عذاب کا نزول ہوا۔اس مرتبہ ہم ہرگز حواس باختہ نہ ہوئے اور ڈی سی صاحب کے رد عمل کا انتظار کرنے لگے۔صاحب نے ایک مرتبہ پھر داہنی آنکھ کھولی۔فون کان پر لگایااور مری ہوئی آواز میں مخاطب ہوئے ” جی امی اٹھ گیا ہوں ۔۔۔۔نہیں دو گھنٹے قبل ہی اٹھ گیا تھا۔۔۔۔طبیعت ناساز ہے اس لیے آواز میں جان نہیں۔۔جی نماز پڑھنے ہی لگا ہوں۔۔”
ہم یہ تمام گفتگو نہایت اطمینان سے سنتے رہے اسی انتظار میں تھے کہ جیسے ہی فون بند ہوگا دل کا سارا غبار نکال باہر کریں گےاور اسی وقت صاحب کوچلتا کریں گے۔
فون بند کرتے ہی وہ ہم سے مخاطب ہوئے ” ارے صاحب اٹھیئے وقتِ فجر ہے ۔نماز ادا کیجیئے۔” اب ہم ٹہرے گناہ گار انسان جس نے نماز ادا کرنے کا سوچا تک نہ تھا۔یہ سنتے ہی ہمیں تو جیسےسانپ سونگھ گیا۔چپ سادھے پڑے رہے۔ڈی سی صاحب نے نماز ادا کی اور لیپ ٹاپ کھولا ۔ناشتے کے وقت تک وہ اپنی جگہ سے ایک انچ نہ ہلے۔اس دوران ان کے گھر سے مسلسل کالیں آتی رہیں۔وہ ہر بار یہی جواب دیتے ” جی جی میں مطالعہ کر رہا ہوں۔۔۔”ہمارے لیے تو یہ ڈوب مرنے کا مقام تھا ۔شرمندگی کے مارے انہیں بھلا کیا کہتے ایک تو نمازی تھے اور پھر "باقائدہ مطالعہ کی عادت” ۔۔۔اس راز سے پردہ بعد میں اٹھا کہ جناب علی الصبح فیس بک پر مٹر گشتیاں کیا کرتے۔
یہ ایک دن کا واقعہ نہ تھا۔بلکہ روز کا معمول تھا۔ہر روز تین مرتبہ الارم بجتا ،پھر تین مرتبہ صاحب کے گھر سے کال آتی۔ہزار مرتبہ منت سماجت کی کہ صاحب موبائل کی آواز بند کر دیا کریں یا کم از کم اس قیامت خیز تھر تھراہٹ کو تو لگام دیں جس سے ہمارا دل لرز اٹھتا ہے۔لیکن وہ ہر بار نہایت معصومانہ جواز پیش کیا کرتے کہ صاحب اگر ہم وقت پر کال کا جواب نہ دی٘ں گے تووالدہ صاحبہ پریشان ہوں گی۔کیا آپ ہماری والدہ کی پیشانی کا سبب بننا پسند کریں گے ؟ اب بھلا ہمارے جیسے شریف نفس انسان کا ایسے حالات میں کیا رد عمل ہونا تھا ۔۔چپ چاپ ستم سہتے رہے۔
تعلیم کے معاملے میں صاحب بڑے خوش قسمت تھے۔پورا دن انتہائی انہماک سے فیس بک میں مگن رہتے۔رات کو ہمارے پر زور اصرار پر کتاب اٹھاتے ۔بمشکل دس منٹ کی صبر آزما محنت کے بعد ہم سے مخاطب ہوتے ۔۔۔یہ تو نہایت آسان ہے ہمارا خیال ہے تھوڑا آرام کر لیا جائےتاکہ صبح وقت پر آنکھ کھل جائے۔اس کے بعد وہ ایسے گھوڑے بیچ کر سو جایا کر تے جیسے پورا دن پڑھ پڑھ کر ہلکان ہو گئے ہوں۔پر قسمت کے دھنی تھے۔اکثر اوقات ان دس،پندرہ منٹ میں جو کچھ پڑھتے پرچے میں وہی آتا۔ہمیں ان پر شدید غصہ آتا کہ یہ عجب تماشا ہے پورا دن ہم سر کھپائیں اور پھر بھی سوال وہ آئیں جو صاحب نے تیار کیے ہیں اور اس پر ادائیں یہ کہ ہماری موجودگی میں گھر والوں کوفون پر فخر سے بتایا کرتے ۔۔۔ہاں ،ہاں رومیٹ سے تو بہتر ہی ہو گیا ہے ہمارا پرچہ ۔۔۔بے فکر رہیں۔۔

آگے جاری ہے۔۔۔۔

از

طہ لیل

Advertisements

خبر دار آگے ای ایم ای کالج ہے

براہ کرم اس تحریر کو مزاحیہ انداز میں لیا جائے اس کا مقصد ہرگز ادارے کی توہین نہیں

حسرت ان غنچوں پہ ہے

جو بن کھلے مر جھا گئے 

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم آزاد ہوا کرتے تھے یعنی ابھی ہم ای ایم ای کالج نہیں آئےتھے۔گرمیوں کی ایک گرم دوپہر میں ہم لوڈ شیڈ نگ کے مز ے لوٹ رہے تھے ۔ درخت کی چھا وں میں ہم سونے کی کوشش میں مصروف تھے ۔ ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی ۔ پہلے تو ہم نے توجہ نہ دی ۔ پر نوکیا کی ٹوں ٹون والی آواز نے ہمیں زیادہ دیر سونے نہ دیا ۔ ہم نے آنکھیں کھولے بغیر ہی فون اٹھایا۔۔ اس سے قبل کہ ہم کچھ بولتے ان الفاظ نے ہمارے اوسان خطا کر دیے” اوے یار تیرے نسٹ کے رزلٹ کا کیا بنا؟؟؟؟؟” ہم پریشا نی کے عالم میں بو کھلا کر جا گے۔پہلے تو اسے ایک بھیانک خواب سمجھے پر جب چارپائی سے نیچے جا گرے تو اسے ایک بھیانک حقیقت پایا  ۔ لوگوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ تے ہیں پر ہمارے تو دماغ کے طو طے اڑ گئے اور ایسے اڑے کہ  فون کرنے والے سے اس کا نام پوچھنا بھی بھول گئے۔ہمیں بعد میں پتا چلا کہ وہ ھمارے دوست را و ذکوان صاحب تھے۔ فون وہیں چھوڑ کر ہم کمپیوٹر کی جانب لپکے۔اب کمپیوٹر آن کر کے ہم یہ سوچنے لگے کہ آخر ہمارا رولنمبر کیا تھا؟ بہت سوچا پر یاد نہ آیا۔اپنے کاغذات میں تلا ش کیا پر کچھ نہ ملا۔ آخر گھر کی  ایک دیوار کے کونے پر اسے لکھا ہوا پایا۔جلدی جلدی رولنمبرکمپیوٹر ڈالا اور آنکھیں بند کر کے تمام سورتیں جو ہمیں یاد تھیں پڑھ ڈالیں ۔ دل میں خوف لیے آنکھیں کھولیں تواپنےکامیاب ہو جانے کا یقین نہ آیا۔ہم سمجھے کہ ضرور یہ کوئی خواب ہے۔ہم نے اپنے پیٹ پرچٹکی کاٹی ، درد کے احساس نے ہمارے اندر خوشی کی لہر دوڑا دی۔پر ہمیں اپنے حواس پر بھی یقین نہ آیا۔لہذا اپنے ایک دوست کو آواز لگای ۔اس نے ہمیں ہماری کامیابی کی خوش خبر ی سنائی تو ہم خوشی سے جھوم اٹھے۔ہم نے شاہد آفریدی سے لے کر جان سینا تک ہر ایک کے ویکٹری سٹائل دوہرا ڈالے۔ گلی میں ہم دیوانہ وار چلا نے لگے کہ اب ہم نسٹین ہیں۔لوگوں نے سوال کیا کہ یہ نسٹ کیا بلا ہے؟ یہ سننا تھا  کہ ہم آگ بلولہ ہو گئے۔اور نسٹ کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ان دنوں ہماری  حالت کچھ  یوں ہو گی تھی کہ ہم روز صبح اٹھ کر سب کے پہلے اپنی کامیابی کا موصول ہونے والا خط دیکھتے ، دن بھر اسے جیب میں لیے پھرتے اور پھر رات کو سونے سے پہلے اسے چوم چاٹ کر تکیے کے نیچے رکھتے۔ہمیں بس اس دن کا انتظار تھا کہ جس دن ہم بھی یونیورسٹی جائیں گے۔پر شاید خدا کو ہمارا غرور پسند نہ آیا اوراور اس نے ہمیں ای ایم ای کالج کے سپرد کر دیا۔

uni tension

ای ایم ای کالج آنے کا دن آن پہنچا ۔ہم دل میں خوشیوں کی امیدیں لیے گھر سے نکلے۔ہم دل ہی دل میں یہ سوچ رہے تھے کہ آخر وہ دن آ ہی گیا جس کا اتنی شدت سے انتظار تھا۔اب عیاشی ہی عیاشی ہو گی۔پھول بھی ہونگے اور کلیاں بھی۔مانو بس جنت ہوگی۔پر جلد ہی ہماری خوشیوں پر پانی پھر گیا۔یہاں  نہ تو پھول تھے نہ کلیاں جہاں دیکھا بس کانٹے ہی کانٹے پائےوہ بھی زہر میں بجھے ہوئے۔دل خون کے آنسو رویا پر خود کو سنبھالا ۔ابھی اس غم سے  نکلے نہ تھے کہ ایک اور غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔    حکم صادر ہوا کہ آئیندہ سے یونیفارم پہن کر آئیں۔یہ سن کر ہم خاموشی سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ یونیورسٹی میں بھی یونیفارم؟ ہم سمجھ گے کہ اب مصیبتیں روز آئیں گی اور روز ہمیں اذیت دی جائے گی۔ اور یہی ہوا ایک کے بعد ایک ہم پر پابندیاں لگیں اور ہم چپ چاپ سہتے گئے۔

اپنی آزادی بیچنے کے بعد ہمیں کلاس میں بھیجا گیا۔ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پہلے روز ہی پڑھائی بھی ہوگی۔سر حمید اللہ نے پہلی کلاس لی اور چند میٹھی میٹھی باتیں کیں جو ہمیں بالکل سمجھ نہ آئیں۔پھر باتیں کڑوی ہوتی گئیں اور ہمیں ابھی بھی کچھ سمجھ نہ آیا۔ایک ہفتہ بعد جا کر ہمیں یہ معلوم ہوا کہ اس روز سر حمیداللہ نے ہمیں کون سا مضمون پڑھایا تھا اوریہ کہ وہ ان کا پہلے سیمیسٹرکا پہلا اور آخری لیکچر تھا۔

اس کے بعد بریک ہوئی۔بریک میں ہمارے ساتھ جو کچھ ہواوہ بیان کرتے ہوئے ہماری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔۔۔۔۔دل پھٹ جاتا ہے۔۔۔۔۔ہمیں ہمارے اندر کا خود  دار اور پر وقار انسان خودکشی کرتا ہوامحسوس ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔آ آ آ آ آ آہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔آج تک فولینگ اور ریگینگ کی محض داستانیں ہی سنی تھیں۔پر اب ہم بھی ان داستانوں مین سے ایک داستان بننے جارہے تھے۔

ragging-goes-off-campus

پہلے پہل تو گراونڈ میں لے جا کر ہماری "دنیا بدلی گئ”۔ایک اونچے قد کے لڑکے کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی ٹانگوں کو پھیلا کر کھڑا ہو اورہمیں حکم دیا گیا کہ اس کی ٹانگوں کے بیچ  میں سے یہ کہتے ہوئے گزریں کہ ” آ ج میری دنیا بدل گئ”۔پھر اس لمبے لڑکے کو حکم ہوا کہ اب وہ اپنی دنیا بدلنے کے لیے سب کی ٹانگوں کے بیچ میں سے گزرے۔ایک سینئر نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے بازو پھیلا لوں اور بھاگنے کے ساتھ ساتھ چلاوں یہ کہ "دیکھو میں سپائیڈر مین ہوں”۔

پھر ہم سے نجانے کیسی کیسی چیزوں کو چلانے کے طریقے پوچھے گئے۔اس کے علاوہ یہ حکم تھا کہ ہر سینئر کو دیکھتے ہی با آواز بلند "اسلام و علیکم سر” کہا جائےاور اگر سلام کرنے میں دیر ہو جاتی یا سلام آہستہ آواز میں کیا جاتا تو شامت آجاتی اور چاروں اطراف سے "لاوڈ ر، لاوڈر "کی آوازیں آنے لگتیں جس سے دل سہم جاتا۔ کبھی کبھا تو ایسا بھی ہوتا کہ کلاس تک پہنچتے پہنچتے ہم سینکڑوں دفعہ سلام کیا کرتے۔حتی کہ گھر جا کر والد صاحب کو بھی باآواز بلند "اسلام و علیکم سر” کہہ بیٹھتے جس سے پورا گھر لرز اٹھتا۔

ہمیں پھونک مار کر پنکھا چلانے کو بھی کہا گیا اور پھر اسی بات پر بے عزتی بھی کی گئ کہ تم انجنئیر بننے آئے ہو اور اتنا بھی نہیں پتا کہ پنکھا بٹن آن کرنے سے چلتا ہے؟ جاو بٹن آن کرو۔جب ہم بٹن آن کر بیٹھے تو کہا گیا کہ اب زور زور سے چلاو "یس میں نے پنکھا چلایا ہے”۔غرض ہمیں بے عزت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جاتا۔

اور تو اور شامت کے دوران کسی بات پر ہنسنے کی اجازت بھی نہ تھی۔ایسا محسوس ہوتا گویا ڈگری ۳۴ کاہونا قتل کے جرم سے بڑھ کر تھا۔بس ایک ہی سوال ہوتا "کون سی ڈگری ؟؟ اگر آپ کا جواب ۳۴ ہوتا تو سمجھ لیجیئے کہ آپ بھی ایک داستان بننے والے ہیں۔ہم سے عجب سوال پوچھے جاتے "ای ایم ای کیوں آئے ہو؟” ہم جواب میں کہا کرتے "انجنیئر بننے” یہ سن کر وہ ہمیں سنانا شروع کر دیتے ” ای ایم ای اچھا ہے تو بھلا باقی ادارے برے ہیں؟؟؟تمہیں کیا پتا ؟؟ یہ وہ۔۔۔۔بندہ ان سے پوچھے کہ جناب آپ کوپتا ہے تو آپ کیوں نہیں چلے جاتے کسے اور ادارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر ہم میں اتنی ہمت کہاں تھی کہ ان کے سامنے چوں چراں کرتے۔ ہمیں تو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے چپ چاپ ان کی سنتے رہتے۔ اکثر ” اولڈ بلڈنگ” میں چھپ جایا کرتے کیوں کہ وھاں سینئیرز کا آنا جاناکم تھا ۔وھاں ایک دوسرے کی دکھ بھری داستانیں سنتے اور ایک دوسرے کو دلا سے دیتے کہ بس دو،تین  ہفتوں کی تو بات ہے۔ صبر کرو ۔پر وہ دو،تین ہفتے ہم نے کس طرح جھیلے وہ ہم ہی جانتے ہیں۔

ہم رات کو سوتے ہوئےبھی یہی سوچا کرتے کہ کل کیا ہوگا؟سینئیرز کی آوازیں ہمیں رات بھر سونے نہ دیتیں۔۔۔۔۔۔بس میں بھی ہمیں بخشا نہ جاتا ۔ہمیں نہایت پیار سے ایک سٹول پر بٹھایا جاتا اور پھر حسب دستور سبزی والے سے لے کر ٹین ڈبے والے تک ہر ایک کی نقل کروائی جاتی۔ہم سے ہمارا ٹیلنٹ پوچھا جاتا۔۔۔۔۔۔ٹیلنٹ بتانے پر حکم صادر ہوتا کہ کل فلاں کام کر کے لے آنا۔ہم سے "قیام پاکستان میں نرگس کے کردار” پر تقریریں بھی کروائی گئیں۔”فریش مین فرینڈلی” والوں نے ہمارے ساتھ عجب کھیل کھیلا ۔ پہلے جی بھر کر عزت اتاری اور پھر بڑی بڑی تقریریں کیں۔اس لیے ہم انہیں "میٹھِی چھری ” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

یہاں میں اس ہستی کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس کو دیکھ کر میری روح تک کانپ جاتی تھی۔ان کے رعب کی کیا مثال دوں کہ ڈگری ۳۴ والے ان کو آتا دیکھ کر ہی رستہ بدل لیتے اور چھپنے کی کوشش کرتے۔اس عظیم ہستی کا نام "سر کمال ” ہے۔سر کمال جن کا تعلق ڈگری ۳۱ سے ہے ای ایم ای کی تاریخ کے نامور ریگرز میں سے ایک ہیں۔وہ اپنی مثال آپ ہیں۔خدا گواہ ہے کہ ای ایم ای میں گزرے پہلے مہینے کے دوران دن رات ہمارے ذہن انہی کے بارے سوچتے رہتے۔ہر روز ان سے آنکھ بچا کر نکلنے کی کوشش کرتے پر ان کی عقابی نگاہ سے کوئی بچ نہ پاتا۔صبح صبح ہی وہ ہمیں پکڑلیتےاور  "چن اپ ” کراکے ہمارے جذبات اور احساسات کے ساتھ جی بھر کر کھیلتے۔ان کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ جب کہیں ،جہاں کہیں بھی ہمیں دیکھ لیتے،ہماری آو بھگت ضرور کیا کرتے۔حتی کہ جب تمام سینیئرز نےبھی ہمیں بخش دیا تب بھی وہ ہمیں اپنے عتاب کا شکار بناتے۔سچ پوچھیے تو ان کے بارے میں لکھتے ہو ئےبھی ہمارے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور دل میں یہ خیالات ابھر رہے ہیں کہ اس مضمون کو پڑہنے کے بعد وہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا خدا مجھے سر کمال کے عتاب سے بچا۔۔۔۔۔

کچھ سینئرز ہمیں خوشی کی نویدیں بھی سنایا کرتے۔سر بلال،جنہیں بہت سے لوگ آج بھی ڈگری ۳۳ کا سمجھتے ہیں حالانکہ ان کا تعلق ڈگری ۳۱ سے ہے،اکثرکلاس میں آیا کرتے اور دل بہلانے کی باتیں کیا کرتے۔ان کا موضوع بحث اکثر "پھول” ہوا کرتے تھے۔ان کی باتیں سن کرہم میں ای ایم ای میں رہنے کا حوصلہ پیدا ہوتا۔ پر نجانے وہ پھول کہاں ہیں؟ ہمیں تو آج تک صرف گو بھی کے پھول ہی نظر آئے ہیں۔سر بلال سے ہمیں بس یہی شکوہ ہے کہ وہ یہ تو بتا دیتے کہ جن پھولوں کی باتیں وہ کیا کرتے تھے دراصل وہ پھول گو بھی کے تھے۔

المختصریہ ظلم و ستم کی ایک لازوال داستاں ہے جسے بیان کرنے کے لیے صدیاں چاہیں۔ ہماری کیفیت وہ تمام لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس دور سے گزرے ہیں۔ پر ہم نے بھی صبرکا کڑوا گھونٹ پی لیا ہے اور ڈگری ۳۵ کی آس میں خود کو سنبھالا ہوا ہے۔۔۔۔۔روز ای ایم ای آتے جاتے یہی خیال آتا ہے کہ کوئی بات نہیں ڈگری ۳۵ تو آئے گی نا پھر دیکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچ پوچھیے تواسی بات نے ہمیں زندہ رکھا ہوا ہے۔اور حقیقت یہی ہے کہ جس طرح ہم ڈگری ۳۶،۳۵ اور ۳۷ کے انتظار میں اپنے چار سال گزاریں گے ہمارے سینئرز نے بھی اسی طرح ہمارے انتظار میں یہاں وقت گزارا ہے۔آخر میں ہم اپنے آنے والے چار سال کو مدنظر رکھتےہوئے ایک سیاسی بیان کے ساتھ آپ سےاجازت چاہیں گے کہ

"ہمارے سینئیر ز تو بہت اچھے ہیں، ہم تو مذاق کر رہے تھے”

eme

از

طہ لیل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔