خبر دار آگے ای ایم ای کالج ہے

براہ کرم اس تحریر کو مزاحیہ انداز میں لیا جائے اس کا مقصد ہرگز ادارے کی توہین نہیں

حسرت ان غنچوں پہ ہے

جو بن کھلے مر جھا گئے 

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم آزاد ہوا کرتے تھے یعنی ابھی ہم ای ایم ای کالج نہیں آئےتھے۔گرمیوں کی ایک گرم دوپہر میں ہم لوڈ شیڈ نگ کے مز ے لوٹ رہے تھے ۔ درخت کی چھا وں میں ہم سونے کی کوشش میں مصروف تھے ۔ ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی ۔ پہلے تو ہم نے توجہ نہ دی ۔ پر نوکیا کی ٹوں ٹون والی آواز نے ہمیں زیادہ دیر سونے نہ دیا ۔ ہم نے آنکھیں کھولے بغیر ہی فون اٹھایا۔۔ اس سے قبل کہ ہم کچھ بولتے ان الفاظ نے ہمارے اوسان خطا کر دیے” اوے یار تیرے نسٹ کے رزلٹ کا کیا بنا؟؟؟؟؟” ہم پریشا نی کے عالم میں بو کھلا کر جا گے۔پہلے تو اسے ایک بھیانک خواب سمجھے پر جب چارپائی سے نیچے جا گرے تو اسے ایک بھیانک حقیقت پایا  ۔ لوگوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ تے ہیں پر ہمارے تو دماغ کے طو طے اڑ گئے اور ایسے اڑے کہ  فون کرنے والے سے اس کا نام پوچھنا بھی بھول گئے۔ہمیں بعد میں پتا چلا کہ وہ ھمارے دوست را و ذکوان صاحب تھے۔ فون وہیں چھوڑ کر ہم کمپیوٹر کی جانب لپکے۔اب کمپیوٹر آن کر کے ہم یہ سوچنے لگے کہ آخر ہمارا رولنمبر کیا تھا؟ بہت سوچا پر یاد نہ آیا۔اپنے کاغذات میں تلا ش کیا پر کچھ نہ ملا۔ آخر گھر کی  ایک دیوار کے کونے پر اسے لکھا ہوا پایا۔جلدی جلدی رولنمبرکمپیوٹر ڈالا اور آنکھیں بند کر کے تمام سورتیں جو ہمیں یاد تھیں پڑھ ڈالیں ۔ دل میں خوف لیے آنکھیں کھولیں تواپنےکامیاب ہو جانے کا یقین نہ آیا۔ہم سمجھے کہ ضرور یہ کوئی خواب ہے۔ہم نے اپنے پیٹ پرچٹکی کاٹی ، درد کے احساس نے ہمارے اندر خوشی کی لہر دوڑا دی۔پر ہمیں اپنے حواس پر بھی یقین نہ آیا۔لہذا اپنے ایک دوست کو آواز لگای ۔اس نے ہمیں ہماری کامیابی کی خوش خبر ی سنائی تو ہم خوشی سے جھوم اٹھے۔ہم نے شاہد آفریدی سے لے کر جان سینا تک ہر ایک کے ویکٹری سٹائل دوہرا ڈالے۔ گلی میں ہم دیوانہ وار چلا نے لگے کہ اب ہم نسٹین ہیں۔لوگوں نے سوال کیا کہ یہ نسٹ کیا بلا ہے؟ یہ سننا تھا  کہ ہم آگ بلولہ ہو گئے۔اور نسٹ کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ان دنوں ہماری  حالت کچھ  یوں ہو گی تھی کہ ہم روز صبح اٹھ کر سب کے پہلے اپنی کامیابی کا موصول ہونے والا خط دیکھتے ، دن بھر اسے جیب میں لیے پھرتے اور پھر رات کو سونے سے پہلے اسے چوم چاٹ کر تکیے کے نیچے رکھتے۔ہمیں بس اس دن کا انتظار تھا کہ جس دن ہم بھی یونیورسٹی جائیں گے۔پر شاید خدا کو ہمارا غرور پسند نہ آیا اوراور اس نے ہمیں ای ایم ای کالج کے سپرد کر دیا۔

uni tension

ای ایم ای کالج آنے کا دن آن پہنچا ۔ہم دل میں خوشیوں کی امیدیں لیے گھر سے نکلے۔ہم دل ہی دل میں یہ سوچ رہے تھے کہ آخر وہ دن آ ہی گیا جس کا اتنی شدت سے انتظار تھا۔اب عیاشی ہی عیاشی ہو گی۔پھول بھی ہونگے اور کلیاں بھی۔مانو بس جنت ہوگی۔پر جلد ہی ہماری خوشیوں پر پانی پھر گیا۔یہاں  نہ تو پھول تھے نہ کلیاں جہاں دیکھا بس کانٹے ہی کانٹے پائےوہ بھی زہر میں بجھے ہوئے۔دل خون کے آنسو رویا پر خود کو سنبھالا ۔ابھی اس غم سے  نکلے نہ تھے کہ ایک اور غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔    حکم صادر ہوا کہ آئیندہ سے یونیفارم پہن کر آئیں۔یہ سن کر ہم خاموشی سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ یونیورسٹی میں بھی یونیفارم؟ ہم سمجھ گے کہ اب مصیبتیں روز آئیں گی اور روز ہمیں اذیت دی جائے گی۔ اور یہی ہوا ایک کے بعد ایک ہم پر پابندیاں لگیں اور ہم چپ چاپ سہتے گئے۔

اپنی آزادی بیچنے کے بعد ہمیں کلاس میں بھیجا گیا۔ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پہلے روز ہی پڑھائی بھی ہوگی۔سر حمید اللہ نے پہلی کلاس لی اور چند میٹھی میٹھی باتیں کیں جو ہمیں بالکل سمجھ نہ آئیں۔پھر باتیں کڑوی ہوتی گئیں اور ہمیں ابھی بھی کچھ سمجھ نہ آیا۔ایک ہفتہ بعد جا کر ہمیں یہ معلوم ہوا کہ اس روز سر حمیداللہ نے ہمیں کون سا مضمون پڑھایا تھا اوریہ کہ وہ ان کا پہلے سیمیسٹرکا پہلا اور آخری لیکچر تھا۔

اس کے بعد بریک ہوئی۔بریک میں ہمارے ساتھ جو کچھ ہواوہ بیان کرتے ہوئے ہماری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔۔۔۔۔دل پھٹ جاتا ہے۔۔۔۔۔ہمیں ہمارے اندر کا خود  دار اور پر وقار انسان خودکشی کرتا ہوامحسوس ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔آ آ آ آ آ آہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔آج تک فولینگ اور ریگینگ کی محض داستانیں ہی سنی تھیں۔پر اب ہم بھی ان داستانوں مین سے ایک داستان بننے جارہے تھے۔

ragging-goes-off-campus

پہلے پہل تو گراونڈ میں لے جا کر ہماری "دنیا بدلی گئ”۔ایک اونچے قد کے لڑکے کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی ٹانگوں کو پھیلا کر کھڑا ہو اورہمیں حکم دیا گیا کہ اس کی ٹانگوں کے بیچ  میں سے یہ کہتے ہوئے گزریں کہ ” آ ج میری دنیا بدل گئ”۔پھر اس لمبے لڑکے کو حکم ہوا کہ اب وہ اپنی دنیا بدلنے کے لیے سب کی ٹانگوں کے بیچ میں سے گزرے۔ایک سینئر نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے بازو پھیلا لوں اور بھاگنے کے ساتھ ساتھ چلاوں یہ کہ "دیکھو میں سپائیڈر مین ہوں”۔

پھر ہم سے نجانے کیسی کیسی چیزوں کو چلانے کے طریقے پوچھے گئے۔اس کے علاوہ یہ حکم تھا کہ ہر سینئر کو دیکھتے ہی با آواز بلند "اسلام و علیکم سر” کہا جائےاور اگر سلام کرنے میں دیر ہو جاتی یا سلام آہستہ آواز میں کیا جاتا تو شامت آجاتی اور چاروں اطراف سے "لاوڈ ر، لاوڈر "کی آوازیں آنے لگتیں جس سے دل سہم جاتا۔ کبھی کبھا تو ایسا بھی ہوتا کہ کلاس تک پہنچتے پہنچتے ہم سینکڑوں دفعہ سلام کیا کرتے۔حتی کہ گھر جا کر والد صاحب کو بھی باآواز بلند "اسلام و علیکم سر” کہہ بیٹھتے جس سے پورا گھر لرز اٹھتا۔

ہمیں پھونک مار کر پنکھا چلانے کو بھی کہا گیا اور پھر اسی بات پر بے عزتی بھی کی گئ کہ تم انجنئیر بننے آئے ہو اور اتنا بھی نہیں پتا کہ پنکھا بٹن آن کرنے سے چلتا ہے؟ جاو بٹن آن کرو۔جب ہم بٹن آن کر بیٹھے تو کہا گیا کہ اب زور زور سے چلاو "یس میں نے پنکھا چلایا ہے”۔غرض ہمیں بے عزت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جاتا۔

اور تو اور شامت کے دوران کسی بات پر ہنسنے کی اجازت بھی نہ تھی۔ایسا محسوس ہوتا گویا ڈگری ۳۴ کاہونا قتل کے جرم سے بڑھ کر تھا۔بس ایک ہی سوال ہوتا "کون سی ڈگری ؟؟ اگر آپ کا جواب ۳۴ ہوتا تو سمجھ لیجیئے کہ آپ بھی ایک داستان بننے والے ہیں۔ہم سے عجب سوال پوچھے جاتے "ای ایم ای کیوں آئے ہو؟” ہم جواب میں کہا کرتے "انجنیئر بننے” یہ سن کر وہ ہمیں سنانا شروع کر دیتے ” ای ایم ای اچھا ہے تو بھلا باقی ادارے برے ہیں؟؟؟تمہیں کیا پتا ؟؟ یہ وہ۔۔۔۔بندہ ان سے پوچھے کہ جناب آپ کوپتا ہے تو آپ کیوں نہیں چلے جاتے کسے اور ادارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر ہم میں اتنی ہمت کہاں تھی کہ ان کے سامنے چوں چراں کرتے۔ ہمیں تو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے چپ چاپ ان کی سنتے رہتے۔ اکثر ” اولڈ بلڈنگ” میں چھپ جایا کرتے کیوں کہ وھاں سینئیرز کا آنا جاناکم تھا ۔وھاں ایک دوسرے کی دکھ بھری داستانیں سنتے اور ایک دوسرے کو دلا سے دیتے کہ بس دو،تین  ہفتوں کی تو بات ہے۔ صبر کرو ۔پر وہ دو،تین ہفتے ہم نے کس طرح جھیلے وہ ہم ہی جانتے ہیں۔

ہم رات کو سوتے ہوئےبھی یہی سوچا کرتے کہ کل کیا ہوگا؟سینئیرز کی آوازیں ہمیں رات بھر سونے نہ دیتیں۔۔۔۔۔۔بس میں بھی ہمیں بخشا نہ جاتا ۔ہمیں نہایت پیار سے ایک سٹول پر بٹھایا جاتا اور پھر حسب دستور سبزی والے سے لے کر ٹین ڈبے والے تک ہر ایک کی نقل کروائی جاتی۔ہم سے ہمارا ٹیلنٹ پوچھا جاتا۔۔۔۔۔۔ٹیلنٹ بتانے پر حکم صادر ہوتا کہ کل فلاں کام کر کے لے آنا۔ہم سے "قیام پاکستان میں نرگس کے کردار” پر تقریریں بھی کروائی گئیں۔”فریش مین فرینڈلی” والوں نے ہمارے ساتھ عجب کھیل کھیلا ۔ پہلے جی بھر کر عزت اتاری اور پھر بڑی بڑی تقریریں کیں۔اس لیے ہم انہیں "میٹھِی چھری ” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

یہاں میں اس ہستی کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس کو دیکھ کر میری روح تک کانپ جاتی تھی۔ان کے رعب کی کیا مثال دوں کہ ڈگری ۳۴ والے ان کو آتا دیکھ کر ہی رستہ بدل لیتے اور چھپنے کی کوشش کرتے۔اس عظیم ہستی کا نام "سر کمال ” ہے۔سر کمال جن کا تعلق ڈگری ۳۱ سے ہے ای ایم ای کی تاریخ کے نامور ریگرز میں سے ایک ہیں۔وہ اپنی مثال آپ ہیں۔خدا گواہ ہے کہ ای ایم ای میں گزرے پہلے مہینے کے دوران دن رات ہمارے ذہن انہی کے بارے سوچتے رہتے۔ہر روز ان سے آنکھ بچا کر نکلنے کی کوشش کرتے پر ان کی عقابی نگاہ سے کوئی بچ نہ پاتا۔صبح صبح ہی وہ ہمیں پکڑلیتےاور  "چن اپ ” کراکے ہمارے جذبات اور احساسات کے ساتھ جی بھر کر کھیلتے۔ان کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ جب کہیں ،جہاں کہیں بھی ہمیں دیکھ لیتے،ہماری آو بھگت ضرور کیا کرتے۔حتی کہ جب تمام سینیئرز نےبھی ہمیں بخش دیا تب بھی وہ ہمیں اپنے عتاب کا شکار بناتے۔سچ پوچھیے تو ان کے بارے میں لکھتے ہو ئےبھی ہمارے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور دل میں یہ خیالات ابھر رہے ہیں کہ اس مضمون کو پڑہنے کے بعد وہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا خدا مجھے سر کمال کے عتاب سے بچا۔۔۔۔۔

کچھ سینئرز ہمیں خوشی کی نویدیں بھی سنایا کرتے۔سر بلال،جنہیں بہت سے لوگ آج بھی ڈگری ۳۳ کا سمجھتے ہیں حالانکہ ان کا تعلق ڈگری ۳۱ سے ہے،اکثرکلاس میں آیا کرتے اور دل بہلانے کی باتیں کیا کرتے۔ان کا موضوع بحث اکثر "پھول” ہوا کرتے تھے۔ان کی باتیں سن کرہم میں ای ایم ای میں رہنے کا حوصلہ پیدا ہوتا۔ پر نجانے وہ پھول کہاں ہیں؟ ہمیں تو آج تک صرف گو بھی کے پھول ہی نظر آئے ہیں۔سر بلال سے ہمیں بس یہی شکوہ ہے کہ وہ یہ تو بتا دیتے کہ جن پھولوں کی باتیں وہ کیا کرتے تھے دراصل وہ پھول گو بھی کے تھے۔

المختصریہ ظلم و ستم کی ایک لازوال داستاں ہے جسے بیان کرنے کے لیے صدیاں چاہیں۔ ہماری کیفیت وہ تمام لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس دور سے گزرے ہیں۔ پر ہم نے بھی صبرکا کڑوا گھونٹ پی لیا ہے اور ڈگری ۳۵ کی آس میں خود کو سنبھالا ہوا ہے۔۔۔۔۔روز ای ایم ای آتے جاتے یہی خیال آتا ہے کہ کوئی بات نہیں ڈگری ۳۵ تو آئے گی نا پھر دیکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچ پوچھیے تواسی بات نے ہمیں زندہ رکھا ہوا ہے۔اور حقیقت یہی ہے کہ جس طرح ہم ڈگری ۳۶،۳۵ اور ۳۷ کے انتظار میں اپنے چار سال گزاریں گے ہمارے سینئرز نے بھی اسی طرح ہمارے انتظار میں یہاں وقت گزارا ہے۔آخر میں ہم اپنے آنے والے چار سال کو مدنظر رکھتےہوئے ایک سیاسی بیان کے ساتھ آپ سےاجازت چاہیں گے کہ

"ہمارے سینئیر ز تو بہت اچھے ہیں، ہم تو مذاق کر رہے تھے”

eme

از

طہ لیل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Advertisements