ڈی سی -پہلا حصہ

آج نجانے بیٹھے بیٹھے کیوں ان کی یاد ستانے لگی۔شاید کسی چیز کی اہمیت و وقعت کا اندازہ اسی وقت ہوتا ہے جب وہ آپ سے دور ہو۔کچھ ایسی ہی رومانوی داستان ہے ڈی سی صاحب اور ہماری ۔متوسط قد،گندمی رنگت،گردن ذرا جھکی ہوئی،چہرہ عینک کے بوجھ تلے دبا ہوا،پیٹھ پر لٹکا بھاری بھرکم بستہ ،جس میں لیپ ٹاپ کے سواء اور کچھ نہ ہوتا۔یہ ہیں ہمارے ڈی سی صاحب۔ڈی سی صاحب ،جن کا اصل نام تو شاید ہی کسی کو یاد ہو ،ہمارے ہم جماعت اور روم میٹ واقع ہوئے ہیں۔صاحب ہمارے پہلے روم میٹ تھے۔یہ الگ بات ہے کہ اس سے قبل بھی ہم چند احباب کے ساتھ رہے پر معمول یہی ہوتا کہ جب ہم کمرے میں ہوتے تو وہ نہ ہوتے اور جب وہ ہوتے تو ہم نہ ہوتے ، اور اکثر اوقات وہ ہوتے ، ان کے دوست احباب ہوتے اور ہم باہر کی دنیا میں مشغول ہوتے۔کمرے میں تمکن ہمیں ڈی سی کی آمد کے بعد ہی نصیب ہوا۔ڈی سی دراصل انگریزی حروف ڈی اور سی کا مخفف ہے ۔ڈی سے مراد دماغ ہے جبکہ سی سے مراد چوس ہے۔یعنی دماغ چوس۔چند احباب لفظ ڈی سی کی کئی اور تشریحات بھی کرتے ہیں پر ہم ہزار ہا کاوش کے باوجود ،اخلاقیات کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ،انہیں بیان کرنے سے قاصر ہیں۔
پورے ای ایم ای کے لیے یہ بات باعث استعجاب و حیرت تھی کہ ہم نے ڈی سی صاحب کو اپنا روم میٹ آخر کیونکر چنا ؟ ہمیں لوگوں نے ہزار ہا نصیحتیں کیں کہ صاحب تم تو نادان ہو ۔۔ کیوں اپنی جان کے دشمن بنے بیٹھے ہو ؟ تمہیں علم نہیں کہ آٹھ ، دس معصوم تم سے قبل بھی ان کا شکار بن چکے ہیں۔ہوش سے ناخون لو۔ پر کوئی کیا جانے کہ ڈی سی صاحب تو ہمیں اپنی اداوں سے پہلے ہی اسیر کر چکے تھے۔روزانہ شام کی چائے کے وقت کمرے میں آنا ان کا معمول بن گیا ۔ہاتھوں میں "گورمے ” کے تازہ اور لذیذ بسکٹوں کا ڈبہ لیے داخل ہوتے اور نہایت شائستانہ انداز میں اسے ہماری جانب بڑھاتے۔
"والدہ صاحبہ نے تاکید فرمائی تھی کہ انہیں خود بھی جی بھی کر کھانا اور اپنے روم میٹ کو بھی کھلانا۔۔۔اب آپ ہی ہمارے روم میٹ ہیں تو جی بھر کر کھائیے۔”
نہ جانے ان بسکٹوں میں کیسی تاثیر تھی کہ ہم نے ڈی سی صاحب کو اپنا روم میٹ بنانے کی حامی بھر لی اور اس طرح ڈی سی اور ہماری داستان کا آغاز ہوا۔
پہلا دن ہمیشہ کسی بھی داستان کا سب سے یادگار دن ہوا کرتا ہے۔پر ہماری طرف یہ یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ کافی دردناک بھی تھا۔رات کا پچھلا پہر تھا،ہم خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے۔ای ایم ای میں سہانے خواب بھی ناپید ہیں۔پر قسمت کبھی کبھار مہربان بھی ہوا کرتی ہے۔ہم ایک حسین خواب میں جانبِ منزلِ مقصود رواں دواں تھے کہ اچانک جیسے زمین تھر تھرانے لگی۔ہم ہنوز خواب ہی میں تھے ۔سمجھے کہ ضرور قیامت برپا ہوگئی ہے۔ہڑ بڑا کر اٹھے۔ذرا غور کیا تو پایا کہ ڈی سی صاحب کا موبائل مرغِ بسمل کی طرح تڑپ رہا ہے اور اس میں سے عجیب و غریب قسم کی آوازیں نکل رہی ہیں ۔ہماری جان پر بن آئی تھی ادھر ڈی سی صاحب نے نہایت اطمینان سے نیند ہی میں ایک آنکھ کھولی ، موبائل پر ایک مغرورانہ نگاہ ڈالی،ایک بٹن دبایا اور یکایک آنکھ بند کر لی۔۔۔ ہم حیران و پریشان انہیں تکتے رہے۔اب ہمیں کیا خاک نیند آنی تھی ۔کبھی ادھر کروٹ بدلتے کبھی ادھر۔جلد ہی لطف میں اضافہ ہوا اور سماں صاحب کے سریلے خراٹوں سے گونجنے لگا ۔یہ پہلا موقع تھا جب ہمیں اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا۔دل ہی دل میں ٹھانی کہ صبح ہوتے ہی صاحب سے کہیں گے کہ اپنا سامان باندھو اور چلتے بنو۔انہی ترکیبوں کی تشکیل کر رہے تھے کہ نیند نے ایک بار پھر ہمیں آن گھیرا۔ہمارےمطابق شاید چند ہی سیکینڈ گزرے ہوں گے کہ ایک مرتبہ پھر عذاب کا نزول ہوا۔اس مرتبہ ہم ہرگز حواس باختہ نہ ہوئے اور ڈی سی صاحب کے رد عمل کا انتظار کرنے لگے۔صاحب نے ایک مرتبہ پھر داہنی آنکھ کھولی۔فون کان پر لگایااور مری ہوئی آواز میں مخاطب ہوئے ” جی امی اٹھ گیا ہوں ۔۔۔۔نہیں دو گھنٹے قبل ہی اٹھ گیا تھا۔۔۔۔طبیعت ناساز ہے اس لیے آواز میں جان نہیں۔۔جی نماز پڑھنے ہی لگا ہوں۔۔”
ہم یہ تمام گفتگو نہایت اطمینان سے سنتے رہے اسی انتظار میں تھے کہ جیسے ہی فون بند ہوگا دل کا سارا غبار نکال باہر کریں گےاور اسی وقت صاحب کوچلتا کریں گے۔
فون بند کرتے ہی وہ ہم سے مخاطب ہوئے ” ارے صاحب اٹھیئے وقتِ فجر ہے ۔نماز ادا کیجیئے۔” اب ہم ٹہرے گناہ گار انسان جس نے نماز ادا کرنے کا سوچا تک نہ تھا۔یہ سنتے ہی ہمیں تو جیسےسانپ سونگھ گیا۔چپ سادھے پڑے رہے۔ڈی سی صاحب نے نماز ادا کی اور لیپ ٹاپ کھولا ۔ناشتے کے وقت تک وہ اپنی جگہ سے ایک انچ نہ ہلے۔اس دوران ان کے گھر سے مسلسل کالیں آتی رہیں۔وہ ہر بار یہی جواب دیتے ” جی جی میں مطالعہ کر رہا ہوں۔۔۔”ہمارے لیے تو یہ ڈوب مرنے کا مقام تھا ۔شرمندگی کے مارے انہیں بھلا کیا کہتے ایک تو نمازی تھے اور پھر "باقائدہ مطالعہ کی عادت” ۔۔۔اس راز سے پردہ بعد میں اٹھا کہ جناب علی الصبح فیس بک پر مٹر گشتیاں کیا کرتے۔
یہ ایک دن کا واقعہ نہ تھا۔بلکہ روز کا معمول تھا۔ہر روز تین مرتبہ الارم بجتا ،پھر تین مرتبہ صاحب کے گھر سے کال آتی۔ہزار مرتبہ منت سماجت کی کہ صاحب موبائل کی آواز بند کر دیا کریں یا کم از کم اس قیامت خیز تھر تھراہٹ کو تو لگام دیں جس سے ہمارا دل لرز اٹھتا ہے۔لیکن وہ ہر بار نہایت معصومانہ جواز پیش کیا کرتے کہ صاحب اگر ہم وقت پر کال کا جواب نہ دی٘ں گے تووالدہ صاحبہ پریشان ہوں گی۔کیا آپ ہماری والدہ کی پیشانی کا سبب بننا پسند کریں گے ؟ اب بھلا ہمارے جیسے شریف نفس انسان کا ایسے حالات میں کیا رد عمل ہونا تھا ۔۔چپ چاپ ستم سہتے رہے۔
تعلیم کے معاملے میں صاحب بڑے خوش قسمت تھے۔پورا دن انتہائی انہماک سے فیس بک میں مگن رہتے۔رات کو ہمارے پر زور اصرار پر کتاب اٹھاتے ۔بمشکل دس منٹ کی صبر آزما محنت کے بعد ہم سے مخاطب ہوتے ۔۔۔یہ تو نہایت آسان ہے ہمارا خیال ہے تھوڑا آرام کر لیا جائےتاکہ صبح وقت پر آنکھ کھل جائے۔اس کے بعد وہ ایسے گھوڑے بیچ کر سو جایا کر تے جیسے پورا دن پڑھ پڑھ کر ہلکان ہو گئے ہوں۔پر قسمت کے دھنی تھے۔اکثر اوقات ان دس،پندرہ منٹ میں جو کچھ پڑھتے پرچے میں وہی آتا۔ہمیں ان پر شدید غصہ آتا کہ یہ عجب تماشا ہے پورا دن ہم سر کھپائیں اور پھر بھی سوال وہ آئیں جو صاحب نے تیار کیے ہیں اور اس پر ادائیں یہ کہ ہماری موجودگی میں گھر والوں کوفون پر فخر سے بتایا کرتے ۔۔۔ہاں ،ہاں رومیٹ سے تو بہتر ہی ہو گیا ہے ہمارا پرچہ ۔۔۔بے فکر رہیں۔۔

آگے جاری ہے۔۔۔۔

از

طہ لیل

Advertisements

آن لائن

رات قریبا ایک بجے کا وقت ہے۔وہ بے چینی سے کبھی ادھر کروٹ بدلتا ہے توبھی ادھر۔ گویا نیند اس سے روٹھ چکی ہو۔وہ بار بار موبائل فون اپنے تکیے کے نیچے سے نکالتا ہے اور تصدیق کرتا ہے کہ کہیں کوئی میسج یا کال تو نہیں آئی۔وہ ہر پانچ منٹ بعد "وٹس ایپ” پر اس بات کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ آیا "وہ” آن لائن ہے کہ نہیں۔کافی دیر گزر چکی ہے وہ آن لائن تو ہے مگر کوئی میسج نہیں کرتی۔اس کے دل میں ایک خفیف سی امید ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی پیغام تو ضرور آئے گا۔یہ آگ یکطرفہ نہیں ہو سکتی وہ دل کو تسلی دیتا ہے۔آہ کہ انتظار موت سے بد تر ہے۔ اسی اثناء میں "وہ” اپنی ڈی-پی تبدیل کرتی ہے ۔ کسی بھنورے کی طرح یہ فورا سے بھی پہلے ڈی-پی کھولتاہے اور دل ہی دل میں مفروضے گھڑنے لگتا ہے۔
"ہاں ، اس سے مراد شاید یہ ہو ۔۔نہیں شاید فلاں بات کا جواب ہو۔۔شاید وہ کچھ کہنا چاہتی ہو”
وہ کش مکش کا شکار ہے ۔بات کرنا بھی چاہتا ہے مگر گھبراتا ہے ۔ کبھی اپنے خاندان سے تو کبھی معا شرے سے ۔ کبھی مذ ہب کے ٹھیکے داروں سے تو کبھی اپنے ماڈرن دوستوں سے۔ وہ ہمت جوٹا کر میسج ٹائپ کرتا ہے مگر اس خوف سے کہ دوست "تاڑو” کہیں گے، گھر والے "بے غیرت” اور وہ "کم تر” ، پھر گھبرا جاتا ہے ۔ وہ بار بار میسج لکھتا ہے اور پھر مٹا ڈالتا ہے ۔ اسے اس سرے کی تلاش ہے جہاں سے ابتداء کی جائے۔ ہم نے ایسا معاشرہ قائم کیا ہے جہاں سیدھی بات کرنا نہایت معیوب ہے وہ کیونکر اسے یک لخت سب کچھ بتا ڈالے؟
وہ ایک بار پھر میسج مٹانے ہی والا تھا کہ "سینڈ” کے بٹن پر غلطی سے ہاتھ لگا ۔ انسان چاہے ہزار رنگ بدلے ۔ اس کا ہر عمل چاہے ذو معنی ہو، مگر اس کی بنائی چیزیں منافق نہیں۔ اب اس میسج کو بھلا کون روک سکتا تھا؟ وہ ایک دم ہڑبڑا کر اٹھا ۔ "یا خدا یہ کیا ہوا؟ میری "ویلیو ڈاون” ہو جائے گی اس کے سامنے ۔۔وہ کیا سوچے کی میرے بارےمیں؟” ابھی وہ اسی پریشانی کے عالم میں تھا کہ جواب موصول ہوا۔انسان کیسا عجیب ہے جو خود اپنے آپ سے بھی جھوٹ بولتا ہے ۔ ایک لمحہ پہلے جس چہرے پے پریشا نی کے سائے تھے اب اس پے مسرت عیاں تھی۔اس موقع کی تلاش میں اس نے پوری رات گزاری تھی ، جھٹ سے میسج لکھا
"ایک دن میں تین تین بار تصویر تبدیل؟ خیریت ؟”
"ہاں کچھ خاص نہیں۔۔۔بس موڈ پر انحصار کرتا ہے”
"پھر تو تصویر دیکھ کر لگتا ہے کہ موڈ کافی خراب ہے”
"ہاں،انسان زندگی میں مختلف مراحل سے گزرتا ہے ،کبھی خوشی کبھی غم”
"غم کی وجوہات ہوا کرتی ہیں”
"کبھی کبھار وجوہات کی عدم مو جودگی ہی غم کا باعث بنتی ہے”
"سنا ہے غم بانٹنے سے کم ہوا کرتا ہے ؟”
"اس کا انحصار غم بانٹنے والے پر ہے 🙂 ”
"ٹھیک ہے تم جیتی ، ہم ہارے”
"جیت ہمیشہ میری ہی ہوا کرتی ہے p: ”
"یا پھر شاید میں تمہیں ہرانا ہی نہیں چاہتا”
"اچھا ؟ ہم پر اتنی مہربانی کی وجہ ؟ ”
"پھر کبھی بتاوں گا”
"ابھی کیوں نہیں ؟ ”
"ابھی وقت نہیں ”
اس کے بعد طویل خاموشی چھا گئی۔ آہ کہ ہم "ابھی وقت نہیں” اور "اب وقت نہیں” کے درمیان جکڑے جا چکے ہیں۔دونوں اپنی اپنی جگہ سوالات لیے اس بات کے منتظر ہیں کہ پہل کون کرتا ہے۔ ان کا انتظار فضول ۔ ان کا ہر خیال فضول۔ ہم عجب معا شرے میں رہتے ہیں جہاں نفرت کا اظہار کرنا دلیری اور بہادری کا کام سمجھا جاتا ہے ۔جبکہ محبت کرنا ایک جرم ، ایک فرسودہ روایت ۔ اگر کسی کو ہماری بات سے اختلاف ہے تو اپنے محلے یا گھر میں با آواز بلند یہ کہ کر دیکھے کہ ” میں فلاں لڑکی سے نفرت کرتا ہوں” آپ کی آواز پر کوئی کان نہ دھرے گا ۔ مگر ادھر آپ نے محبت کا اظہار کیا ادھر آپ پر کفر ، بے غیرتی اور بے حیائی کے فتوے لگے ۔ ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں مگر اپنی بہنوں کو پسند کی شادی کی اجازت نہیں دیتے۔ اور ایسا کرنے والے کو بے غیرت کہتے ہیں۔
آہ کہ ہم نفرت کر کے کتنے عظیم کہلاتے ہیں۔ جوتے کی نوک پر رکھنا اور ” پلے بوائے ” بننا ہمارے مشغلے ہیں۔ چاہے مرد ہو یا عورت دونوں ہی محبت کے جذبے سے عاری ہیں اسی لیے یہ ہمہ وقت غلط روش اختیار کرنے کو تیار رہتے ہیں۔
دوسری جانب ماڈرن لوگ اظہار محبت کو اپنی شان و شوکت کے خلاف سمجہتے ہیں۔ ایسا کرنا ان کی نظر میں "پینڈو پن” ہے۔ وہ صرف "فرینڈ شپ” پر یقین رکھتے ہیں۔ ہائے رے محبت تیری قسمت ۔ اس خول کو توڑنا کتنا ہی مشکل ہے ۔ہم لبادے اوڑھے کتنے بھلے معلوم ہوتے ہیں۔ہمارے دلوں میں چھوٹی چھوٹی خواہشات کا ہونا کتنا معیوب ہے۔مٹی کے ساتھ کھیلنا ، اونچی آواز میں گانا ، بارش کے پانی میں کاغذ کی کشتیاں چلانا کتنے ہی بڑے گناہ ہیں۔ پیسہ ، مکاری ، منافقت کتنے ہی باوقار معلوم ہوتے ہیں۔
صبح کی آذان ہونے والی ہے وہ اب بھی "وٹس ایپ” کھولے اس کا اکاونٹ تکے جا رہا ہے۔ ایک طرف تو وہ اس کے ہمیشہ "آن لائن” رہنے کا خوہش مند ہے تو دوسری طرف وہ کورے کاغذ پر اپنے دل کا حال لکھے جاتا ہے ۔

امید سحر کی بات سنو

شیر خان کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔اس کی نظروں کے سامنے وہ تمام مناظر گھومنے لگے جن میں ان خبیث لوگوں نے اس کے ساتھیوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔نجانے کتنے دنوں سے وہ اس موقع کی تلاش میں تھا ۔آج اپنا شکار سامنے دیکھ کر وہ جذباتی ہو گیا ۔ اس کا چہرا غصے سے سرخ ہو چکا تھا۔ پینٹ شرٹ میں ملبوس ایک نوجوان، جس کا انداز مغربی معلوم ہوتا تھا اپنی مستی میں مست کچے رستے پر چلا آ رہا تھا۔ کانوں میں ہینڈذ فری لگاَئے،کندھے پر بستہ لٹکائے،  وہ اپنے انجام سے بے خبر شیر خان کے قریب آتا جا رہا تھا۔ وہ اس بات سے قطعی طور پر انجان تھا کہ کوئی آج اپنا بدلہ لینے آیا ہے۔

ابھی وہ جھاڑیوں کے پاس ہی پہنچا تھا کہ تبھی شیر خان نے اسے دبوچا اور خنجروں کے وار سے چند سکینڈ میں اس کا کام تمام کر دیا۔شیر خان نے نوجوان کو خون میں لت پت دیکھا تو نفرت آمیز انداز میں مسکرایا اور اس کی لاش پر تھوکا ۔ وہ جوش فتح میں اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرنے ہی لگا تھا کہ تبھی اسے  قرآنی آیات کی آواز سنائی دی۔شیر خان ایک دم سہم گیا۔ آواز انتہائی خفیف تھی مگر سناٹے کے باعث صاف سنائی دیتی تھی۔وہ سمجھ نہ پایا۔اس کی نظر ہینڈذ فری پر پڑی ۔یہ آواز مقتول نوجوان کے ہینڈذ فری میں سے آ رہی تھی۔ شیر خان کو اپنے حواس پر یقین نہ آیا۔ اس نے نوجوان کو وہیں چھوڑا اور اس کا بستہ اور موبائل اٹھا کر جھا ڑیوں میں تیزی سے غائب ہو گیا۔

کافی دور نکل آ نے پر وہ ایک درخت کے سائے تلے جا بیٹھا۔اس کے چہرے کے تاثرات یکسر بدل چکے تھے۔غصے اور نفرت کی جگہ اب حیرت اور سکتے نے لے لی ۔موبائل سے قرآنی  آیات کی تلاوت مسلسل اس کے کانوں میں پڑ رہی تھی۔وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر موبائل کو دیکھ رہا تھا۔وہ اس آلے کے متعلق کچھ زیادہ علم نہ رکھتا تھا اس لیے اس نے نوجوان کے بستے کی طرف توجہ مرکوز کی۔بستے سے کچھ ادویات اور چند پمفلٹ برآمد ہوئے جن پر معزور بچوں کی تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ وہ زیادہ پڑھا لکھا تو نہ تھا پر لفظ ” پولیو ” سے بخوبی آشنا تھا ۔ اسی بیماری کے باعث تو اس کا بھائی معذوری کی زندگی گزارنے  پر مجبور ہوا تھا۔ چند کاغذات پر مقتول نوجوان کی تصویر کے نیچے اس کا نام ، محمد علی عثمان، درج تھا۔ ان ناموں سے تو شیر خان بخوبی آشنا تھا۔ انہی کا واسطہ دے کر تو اس سے یہ سب قتل و غارت کروائی جا رہی تھی۔

” جس نے ایک انسان کا قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا "

موبائل سے گونجتی ان آیات نے شیر خان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔اس کی آنکھوں میں بلاساختہ آنسو آگئے۔ وہ اپنے کیے پر شرمندہ تھا۔اس نے اپنے ہی مسلمان بھائی ، جو کہ اسی کے فائدے کے لیے آیا تھا ،اسے بے دردی سے مار ڈالا۔وہ دھاڑیں مار کر رونے لگا۔وہ توبہ کرنے کے قابل بھی نہ رہا تھا۔پرخدا نے شیر خان کے سامنے دو تقدیریں رکھی تھیں ۔ جیسا کہ خدا ہم سب کے سامنے اپنی تقدیریں بکھیر کر رکھتا ہے اور پھر ہمیں اس بات کا اختیار و ارادہ دیتا ہے کہ ہم اپنی مرضی سے ان راستوں میں سے کسی ایک راستے کو چن لیں۔ اب یہ شیر خان پر منحصر تھا کہ وہ کس رستے کو چنتا ہے ۔وہ جو اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بنے یا پھر وہ جو ایک اور معصوم انسان کی جان لے لے۔

ناظرین صبح کے آٹھ بجے ہیں اور ہم آپ سب کو ایک انتہائی اہم خبر دیں گے ۔۔۔ ظالمان لیڈر شیر خان نے اپنے آپ کو تمام ساتھیوں سمیت حکومت پاکستان کے حوالے کر دیا ہے ۔۔۔۔ناظریں ہم آپ کو ایک بار پھر خبر دیں گے۔شیر خان نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیر خان کے چہرے کے تاثرات بتاتے ہیں کہ اب وہ اصل اسلام کو پہچان چکا ہے۔۔۔۔

اور بےشک اسلام امن و سلامتی کا دین ہے

از

طہ لیل

ہنگو سے ماسکو

آج اتوار کا دن تھا ۔ سکول سے چھٹی کے باعث بچوں کے چہروں پر خوشی و مسرت کے جذبات واضح تھے۔اگر آپ بھی اپنے ماضی پر ایک نظر دوڑائیں تو سکول کےزمانے میں اتوار کا دن یقینا٘ آپ کے لیے بھی باعث مسرت رہا ہوگا۔اوپر سے سردیوں کی میٹھی میٹھی دھوپ میں چھٹی کا مزہ کچھ اور ہی دوبالا ہوگیا تھا۔چند بچے آپس میں اٹکھیلیاں کرتے ہنستے کھیلتے جا رہے تھے ۔ وہ اس سہانے دن کا بھرپور فائدہ آٹھا نا چاہتے تھے۔وہ اسی سوچ میں مگن تھے کہ آخر کون سا کھیل کھیلا جائے۔اسی اثنا میں ان میں سے ایک کی  نظر دور پڑے ایک کھلونے پر پڑی۔انسانی بچوں کی جبلت میں یہ بات شامل ہے کہ ہر شے کی تحقیق کی جائے۔اس بچے نے اپنے دوستوں کو آواز لگائی سب اس کی طرف متوجہ ہوئے۔اتوار کا دن ،سہانا موسم، کھیل کود کی چاہت اور کھیلنے کا سامان سامنے ۔۔۔ایک معصوم کے لیے بھلا اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا تھا ۔ وہ سب اس کھلونے کی طرف لپکے پر وہ بد نصیب یہ نہ جانتےتھے کہ ان کی قسمت میں کھیل کود نہیں لکھا تھا ۔ اس بے حس قوم نے تو ان کو خون کی ہولی کے لیے پیش کر دیا تھا ۔ ایک اور دھماکہ اور ایک بار پھر بد نصیب پاکستانی ماوں کی گودیں اجڑ گئیں۔۔۔۔ ان معصوموں کی ہنسی ، چیخوں اور آہ وزاری میں بدل گئی۔

Image

میرے لیے یہ خبر کچھ زیادہ معنی خیز نہ تھی۔ صیح سویرے ” اموات نامہ ” سن کر افسوس کرنا تو اب ایک معمول بن چکا ہے۔ پاکستانی قوم اب صدمات برداشت کر کر کے ، صدمے کی کیفیت ہی بھلا بیٹھی ہے۔کبھی بوڑھا تو کبھی جوان روزانہ چار پانچ کا جنازہ اٹھانا تو اب جیسے روایت ہے۔میں بھی خبرنامہ سن کر معمولات زندگی میں الجھ گیا۔ اس دوران مزمتی اور تعزیتی بیانات کی بوچھاڑ جاری رہی۔سب نے دہشتگردوں کو خوب سنائیں اور انہیں برباد کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔

شام ہوئی۔میں معمول کے مطابق اپنے والد صاحب کے ساتھ ۸ بجے کا خبرنامہ سننے بیٹھا۔ چند ایک  خبروں کے بعد ، جن میں آئی سی سی کے قوانین میں تبدیلی کی خبر بھی شامل تھی ، آخر ان معصوموں کی خبر کی باری آئی۔ میں ایک بار پھر استغفار کہ کر آگے بڑھنا چاہتا تھا پر اگلی ہی خبر نے میرے احساسات کو جھنجوڑ کر رکھ  دیا۔ میری آنکھوں میں بلا ساختہ آنسو آگئے اور میں اسی سوچ میں کمرے سے باہر چلا گیا ۔ میں اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہتا تھا پر دل کی بات قلم کے رستے اس کورے کاغذ پر آگئی۔خبر یہ تھی کہ ماسکو میں بچوں کے لیے  تفریحی میلہ منعقد کیا گیا جس میں بچوں نے برف کے رنگ برنگے مجسمے  بنا کر خوب موج مستی کی ۔

اب ذرا  ایک لمحے کے لیے ٹھہریے اور سوچیئے۔۔۔۔۔۔ ماسکو کے بچوں کے لیے بھی یہ وہی اتوار کا دن تھا، وہی موسم ، وہی کھیلنے کی چاہ ، وہی دوستوں کے  ساتھ ہنسی مذاق ، وہی معصومیت ، پر انجام یکسر مختلف۔۔۔۔ وہ ماسکو کے پچے تھے اور یہ ہنگو کے۔ ان کے بڑوں نے ان کے لیے میلہ لگایا اور ہم نے اپنے بچوں کو بم سے  کھیلنے کے  لیے چھوڑ دیا۔ وہ اپنے گھروں میں خوشیاں اور محبتیں لے گئے اور ہم اپنے بچوں کے لا شے لے آئے۔کیا ہمارے بچوں کا حق یہ نہ تھا کہ ان کو بھی ہنسی خوشی جینے دیا جاتا ؟؟؟

Image

پر قابل غور بات تو یہ ہے کہ ہم تو شریعت کے نفاذ کے لیے نکلے ہیں جبکہ ماسکو والے تو کافرانہ نظام کے  پیروکار ہیں ۔ ان لوگوں سے سوال یہ ہے کہ کیا بچوں کو مار کر نظام محمدی (ص) نافذ کیا جائے گا؟ میں اسلامی تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھتا ہوں تو مجھے فتح مکہ نظر آتی ہے ، فتح روم و فارس نظر آتی ہے، دنیا پر مسلمانوں کا عروج و غلبہ نظر آتا ہے ۔ پر کہیں بھی "کھلونا بم” نظر نہیں آتا۔ کوئی آئے اور مجھ جیسے کافر کو بتائے کہ کب اور کس زمانے میں شریعت محمدی (ص) معصوموں کی جان لے کر نافذ ہوئی ہے؟ وہ ماسکووالے کافر ہی سہی پر اسلامی اقدار پر چلنے والے تو  وہ ہیں ۔ قرآن نے ہمیں جو درس امن دیا ہے اس پر عمل پیرا تو وہ نظر آتے ہیں۔ تم لوگ تو مسلمان کیا انسان کہلانے کے قابل بھی نہیں اگر اتنا ہی شوق ہے اسلام کے نفاذ کا تو پہلے خود کو تو مسلمان کرو۔۔ کیا تم نہیں جانتے کہ ” جو رحم نہیں کرتا ، اس پر رحم نہیں کیا جائے گا”۔ کیا یہ بات تمہارے علم میں نہیں کہ ” دین میں کوئی جبر نہیں”۔ اگر جبرا٘ ہی ایمان پھیلانا مقصود ہوتا تو خدا خود لوگوں کے دلوں میں ایمان ڈال دیتا پر خدا نے انسان کو خود یہ حق و اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے صحیح یا غلط رستہ اختیار کرے ۔ پھر بھلا ہم کون ہوتے ہیں انسانوں سے یہ حق و اختیار چھیننے والے؟؟

ایسے ظالموں کو سبق سکھانے کے لیے قوم کو متحد ہونا پڑتا ہے پر ہماری قوم تو ابھی تک یہ فیصلہ ہی نہیں کر پائی کہ یہ جنگ ہماری ہے بھی یا نہیں ؟ یہ جنگ جس کی بھی تھی پر اب ہم اس میں مر رہے ہیں ۔ آخر کب تک ہم اسی طرح لاشیں ا ٹھا ئیں گے؟ آخر کب وہ وقت آئے گا جب ہنگو کے بچے بھی ماسکو کے بچوں کی طرح  آزادی سے اپنی زندگی جی پا ئیں گے؟ دس سال کی ذلت  آمیز جنگ کے بعد بھی اگر ہم اپنی قوم کی حفاظت کرنے کے قابل نہیں تو بہتر یہی ہے کہ سب پاکستانیوں کو ایک ہی بار ختم کر دیا جائے ۔۔۔ روز گھٹ گھٹ کر جینے سے تو یہی بہتر ہے ۔

میرے بے معنی الفاظ اور بے ربط جملے اس بات کے عکاس ہیں کہ اب ہم لاشیں اٹھا ٹھا کر تھک چکے ہیں۔ اب ہمارے بازوں میں اور لاشیں اٹھا نے کی سکت باقی نہیں ۔۔ خدارا پاکستانیوں پر رحم کرو ۔ مذاکرات کرو یا آپریشن پر اس سب کو اب  ختم کرو ۔ ہمارے بچوں کو جینے دو ۔ آپس میں الجھنے کی بجائے اپنے دشمن کا مل کر خاتمہ کرو ۔آپس کا اتحاد ہی امن کا ضامن ہے۔۔۔۔۔۔۔

وسلام

طہ لیل

عید آتی ہے زمانے میں

عید کا دن۔۔۔خوشی کا دن ۔۔۔میل جول کا دن۔۔۔آپ کے ذہن میں ضرور یہی ہوگا ۔پر ہمارے لیے عید ہی کا دن سال کا سب سے برا دن ثابت ہوتا آیا ہے۔عید کے روز آفات کا سلسلہ علی الصبح ہی شروع ہو جاتا ہے۔پہلے پہل عید نماز پرچند ” بھلکڑ انکلز” سے سامنا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سےان میں ہر ایک گجنی کے عامر خان کی طرح واقع ہوا ہے۔ہر عید پر وہی گھسےپٹے سوالات اور سستی جگتیں ۔

حسب معمول بھلکڑ انکل کا پہلا سوال، اچھا تو بیٹا آاجکل کیا چل رہا ہے ؟

بس انکل انجینیئرنگ کر رہا ہوں

کیوں بھائی صاحب ذ ادے ، اچھے خاصے لائق فائق معلوم ہوتے  ہو ۔ڈاکٹری میں داخلہ نہیں ملا کیا ؟

 نہیں انکل ریاضی میں نمبر کم تھے اس لیے ڈاکٹری میں داخلہ نہیں مل سکا

ایسے انکل اپنے علم و فضل کی جھوٹی داستانیں سنا کر عید کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔اوپر سے بیسیوں مرتبہ اپنا تعارف کروانا پڑتا ہے ۔کچھ تو ایسے بے مروت واقع ہوئے ہیں کہ عید پر پہچاننے ہی سے انکار کر دیتے  ہیں۔

ارے انکل کیسے ہیں ؟

آ آ آ آ ۔۔۔  ٹھیک ٹھاک ۔۔۔آ آ آ آ آ۔۔۔ بیٹا معاف کرنا میں نے پہچانا نہیں

ایسے میں چپ چاپ سرک لینے ہی میں عافیت ہوتی ہے۔چند ایسے دردناک انداز میں گلے ملتے ہیں کہ جسم کے ایک ایک انگ سے درد کی صدائیں بلند ہوتی ہے۔اور ہمارا نازک تن بدن تڑپ اٹھتا ہے۔

عید نماز کے فوراً بعد مشکل ترین مرحلے کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔۔جی ہاں قصائی کی تلاش۔۔۔۔چند گھنٹوں بعد ایسا محسوس ہونے  لگتا ہے کہ گویا ہم اس دنیا کے فارغ ترین شخص ہیں جبکہ تمام قصائی حضرات مصروف ترین اشخاص ہیں۔جب منت سماجت کرکے انہیں گھر لے آئیں تو ان کی نگرانی کرنا بھی ایک مشقت طلب کام ہے۔تین چار قصائیوں پر مشتمل ایک پوری ٹیم آتی ہے۔ایک استاد،ایک شاگرد جبکہ بقیہ صرف چائے پانی کا خرچہ بڑھانے اور بوٹیاں چرانے کے لیے تشریف لاتے ہیں۔

مگر کیا کریں عید کے روز ان کی بھی عزت کرنی پڑتی ہے۔ورنہ تو معاشرہ ان کو قریب بھی نہیں پھٹکنے دیتا،پر قصائی بھی پورے سال کا بدلہ ایک ہی دن میں اتار لیتے ہیں۔آپ ان پر حکم چلانے کے بارے میں سوچیئے  گا بھی مت ، ادھر آپ نے ناراضی کا اظہار کیا ادھر وہ اپنی سائیکل پر بیٹھ کر اڑن چھو ہو گئے۔ لہذا نہایت پیار ، محبت اور خلوص کے ساتھ ان کی خاطر تواضع کرنی پڑتی ہے۔

اس دوران رشتےداروں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ہمارے رشتے داروں کے بھی عجب انداز ہیں۔سب سے پہلے "شوخلے انکل ” کی آمد ہوتی ہے جنہیں اپنے پیسے کے سوا اور کچھ معلوم نہیں۔۔آتے ہی با آواز بلند اپنے آنے کا اعلان کرتے ہیں جیسے کہ ہم اندھے اور بہرے ہیں۔

 ارے بھائی عید مبارک عید مبارک۔۔۔بس بس ہم ذرا جلدی میں ہیں ۔کیا کریں صاحب عید کا دن جو ہے ۔۔۔ارے نہیں نہیں بس کھانے کے لیے کچھ مت لانا تکلف کی ضرورت نہیں ہے

نہیں انکل کباب تو ضرور کھانے ہوں گے

ارے اچھا چلو اتنا اصرار کر رہے ہو تو  کھائے لیتے ہیں

اس کے بعد گھر میں موجود کھانے کے ہر آئیٹم کو ٹھونس ٹھونس کر کھاتے ہیں۔۔۔۔اب ہر مہمان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے کپڑوں کی تعریف کی جائے۔

انکل بڑے اچھے لگ رہے ہیں آج تو ماشا اللہ

 ارے ۔۔۔ہاہاہاہاہا ۔۔۔ہاں بس یقین جانو اس مرتبہ تو مہنگائی نے کمر توڑ کر رکھ دی بڑی مشکل سے چار پانچ جوڑے ہی بنائے ہیں وہ بھی بس دس دس ہزار کے ۔۔۔بس ہم نے سوچا بھائی تن ہی تو ڈھا نپنا ہے نا۔۔۔

اب بندہ ان سے پوچھے کہ کپڑوں کی ریٹ لسٹ دینے کی کیا ضرورت تھی اور اتنا بڑا تن پالنے کی ضرورت ہی کیا ہے جو دو تین ہزار سے ڈھک نہ سکے۔ پر کیا کریں ازراہ اخلاق آپ کو ان کی ہاں میں ہاں ملانی ہی پڑتی ہے۔ اس کے بعد وہ آپ کو اپنے بکرے کی کہانیوں سے پکاتے ہیں۔۔۔

 بس آخری منڈی پر چلا گیا میں تو۔۔۔۔جاتے ہی سفید رنگ کے ایک اونچے بکرے پر نظر پڑی۔بس ٹھان لی کہ آج تو اسے گھر لے کر ہی جائیں گے ۔منہ بولے دام دیے اور اسے گھر لے آئے۔ پر رات ہی کو اس کی طبیعت نا ساز ہو گئی۔دراصل بچوں نے اسے جڑی بوٹیاں کھلا دیں۔۔۔ بس صاحب ہمارے تو پسینے چھوٹ گئے۔اپنے بیس ہزار ڈوبتے دیکھے توجھٹ سے ڈاکٹر کو بلا بھیجا ۔ڈاکٹر نے دوا دی پر یقین جانئیے پوری رات بکرے کے ساتھ کھڑے رہےکہ ادھر وہ آخری سانس لینے کا ارادہ کرے اور ادھر ہم اس کی گردن پر چھری پھیر دیں۔۔پر شکر خدا کا ابھی تک تو زندہ ہے پر اب بھی اپنے بڑے لڑکے کو اس کی نگرانی پر لگا کر آئے  ہیں ۔۔کیا کریں آخر قربانی جو کرنی ہے۔”

ان کی داستانیں سننا ٹیسٹ میچ کھیلنے کے مترادف ہے جس میں  دس کھلاڑی اپنی باری کے انتظار میں پانچ دن دھوپ میں جلتے رہتے ہیں جبکہ ایک کھلاڑی پچ پر جا کر سب کی باری ضائع کر دیتا ہے۔ خیر بات چیت کے دوران میز پر موجود ہر شے کا خاتمہ کرنا وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔جب یہ یقین ہو جائے کہ اب کھانے لے لیے اور کچھ باقی نہیں تو ایک مرتبہ پھر با آواز بلند اپنے جانے کا اعلان کرتے ہیں ۔

جاتے جاتے بھی قصائیوں کی نگرانی اور سری پائے کی حفاظت کے طریقے مفت میں بتا جاتے ہیں۔جبکہ اس دوران قصائی اپنی کارروائیوں میں مصروف رہتے ہیں اوربوٹیوں کی ہیرا پھیری اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے۔

اس کے بعد دن کا سب سے بھیانک حصہ آنٹی اور ان کے کمینے بچے "ببلو” کی آمد سے شروع ہوتا ہے۔چند بچے پیدائشی طور پرشرارتی ہوتے ہیں اور  ان کی معصومانہ حرکتوں پر پیار آتا ہے۔پر چند بچے فطری طور پر کمینے ہی پیدا ہوتے ہیں اور جہاں جاتے ہیں ہم جیسے شریف النفس لوگوں کی ناک میں دم کر دیتے ہیں۔

آنٹی : اری بہن۔۔۔کیسی ہو ؟ ہائےہائے کیا حال بنا رکھا ہے  تم نے اپنا۔۔۔ دیکھو تو سہی کتنی کمزور ہو گئی ہو۔۔۔۔ ارے لڑکے ادھر آو تم آنٹی سے تو ملو ۔۔۔۔کتنے بڑے ہو گئے ہو تم ہائے۔۔۔

آنٹی کے آنے کاایک ہی فائدہ ہوتا ہے کہ ان کی سستی پرفیوم کی مہک سے پورے گھر کے مچھراور دیگر حشرات الارض بھا گ کھڑے ہوتے ہیں۔رسمی کلمات کے بعد خواتین کا محبوب ترین مشغلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جی ہاں ۔۔۔۔دوسری خواتین کی بد گوئیاں ۔۔۔ادھر آنٹی دوسروں کی گھریلو زندگی کی داستانیں مزے لےلے کر سناتی ہیں اور ادھر ببلو ہمارے ساتھ "پنگے” لینا شروع کر دیتا ہے۔

ببلو : ارے ہیلو انکل بات سنو ذرا

انکل ؟؟؟  ابے تیرے سے پانچ سات سال ہی بڑا ہوں گا میں ۔۔۔۔۔ بھائی بول مجھے

لگتے تو انکل ہی ہو ۔۔۔۔چلو خیر کوئی کولڈ ڈرنک وغیرہ بھی ملے گی یا آج کل ” بچت پیکج ” چل رہا ہے ؟؟؟ ہاہاہاہا

ایسے بچوں کی ہنسی سن کر جتنا سرور آتا ہےاس کا اندازہ انہی لوگوں کو ہے جن کا کبھی ایسے بچوں سے پالا پڑا ہو۔

خیر کولڈ ڈرنک لا کر دینے کی دیر تھی کہ نخرے شروع ۔۔۔یہ تو گرم ہے۔۔۔ٹھنڈی پیوں گا میں تو۔۔۔۔ماما دیکھو نا کولڈ ڈرنک چاہیے۔

"ارے نہیں ببلو۔۔۔ نہیں ملےگی بالکل۔۔۔بیٹا گلا خراب ہو جائے گا آپ کا۔۔”

"نہیں ماما چاہیے مجھے ۔۔۔چاہیے ۔۔چاہیے ۔۔۔چاہیے "

ارے  ارے اچھا اچھا۔۔بیٹا تم ٹھنڈی کر کے لاو نا کھڑے کیا ہو یہاں۔۔۔ببلو بھی نا بہت ضدی ہے اپنے پاپا کی طرح

ایسے میں چہرے پر جھوٹی مسکان سجائے ہر بے عزتی سہنی پڑتی ہے۔پر ہم بھی دھن کے پکے ہیں ایسے بچوں سے بدلہ لینا ہماری جبلت میں شامل ہے۔ادھر آنٹی اماں کے ساتھ کچن میں گئیں ادھر ہم نے ببلو کے کان کے نیچے کھینچ کر ایک بجائی اور پھر نہایت معصومانہ انداز میں دریافت کرنے لگے

ارے ببلو کیا ہوا ؟؟؟  اوہ مجھے لگتا ہے کہ تمہیں "بابا جی” نےتھپڑ مارا ہے دراصل ہمارے گھر میں ایک بابا جی ہیں جو بھی نیا بندہ آتا ہے وہ اسے تھپڑ مارتے ہیں۔۔۔۔ چپ کر جاو ۔۔۔شاباش ورنہ وہ پھر ماریں گے۔۔

پر ہر مرتبہ ہمیں اپنے کیے پر ندامت اس وقت ہوتی ہے جب ببلو بدلے کی آگ میں ہماری قیمتی اشیاء کا ستیا ناس کرکے انتہائی شاطرانہ لہجے میں کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔”او ہو یہ بابا جی بھی نا”۔۔۔۔۔

naughty

آنٹی کے جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر ہمیں قصائیوں کی نگرانی پر مامور کر دیا جاتا ہے۔جب بکرا حلال ہو جاتا ہے تو قصائی آپ سے بکرے کی کھال ، پائے اور "سری” وغیرہ لےجانے کے لیے درخواست نہیں ، بلکہ بوری وغیرہ طلب کرتے ہیں ۔ آپ کے انکار پر  وہ ہاتھوں ہی میں "سری پائے” اٹھا کر ، آپ کو دو چار سنا کر، گھر  سے باہرچلے جائیں گےاور آپ حیرت سے ان کا منہ تکتےرہ جائیں گے۔۔۔

مگر  صاحب ذرا غور کیجیئے تو شاید عیداسی کا نام ہے پورا سال آپ جن سے نفرت کرتے ہیں آخر انہی کو سلام کرنا پڑتا ہے۔۔۔لہذا ہم روزانہ خود کو سلام کرتے ہیں تاکہ خود میں قصائیوں کی سی خصوصیات محسوس نہ کریں ۔۔۔آپ بھی خود کو سلام کیا کریں ۔۔۔کیونکہ قصائی کو تو صرف عید ہی پر سلام کریں گے ۔۔۔۔کیوں صحیح  کہا نا؟؟

از

طہ لیل

خبر دار آگے ای ایم ای کالج ہے

براہ کرم اس تحریر کو مزاحیہ انداز میں لیا جائے اس کا مقصد ہرگز ادارے کی توہین نہیں

حسرت ان غنچوں پہ ہے

جو بن کھلے مر جھا گئے 

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم آزاد ہوا کرتے تھے یعنی ابھی ہم ای ایم ای کالج نہیں آئےتھے۔گرمیوں کی ایک گرم دوپہر میں ہم لوڈ شیڈ نگ کے مز ے لوٹ رہے تھے ۔ درخت کی چھا وں میں ہم سونے کی کوشش میں مصروف تھے ۔ ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی ۔ پہلے تو ہم نے توجہ نہ دی ۔ پر نوکیا کی ٹوں ٹون والی آواز نے ہمیں زیادہ دیر سونے نہ دیا ۔ ہم نے آنکھیں کھولے بغیر ہی فون اٹھایا۔۔ اس سے قبل کہ ہم کچھ بولتے ان الفاظ نے ہمارے اوسان خطا کر دیے” اوے یار تیرے نسٹ کے رزلٹ کا کیا بنا؟؟؟؟؟” ہم پریشا نی کے عالم میں بو کھلا کر جا گے۔پہلے تو اسے ایک بھیانک خواب سمجھے پر جب چارپائی سے نیچے جا گرے تو اسے ایک بھیانک حقیقت پایا  ۔ لوگوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ تے ہیں پر ہمارے تو دماغ کے طو طے اڑ گئے اور ایسے اڑے کہ  فون کرنے والے سے اس کا نام پوچھنا بھی بھول گئے۔ہمیں بعد میں پتا چلا کہ وہ ھمارے دوست را و ذکوان صاحب تھے۔ فون وہیں چھوڑ کر ہم کمپیوٹر کی جانب لپکے۔اب کمپیوٹر آن کر کے ہم یہ سوچنے لگے کہ آخر ہمارا رولنمبر کیا تھا؟ بہت سوچا پر یاد نہ آیا۔اپنے کاغذات میں تلا ش کیا پر کچھ نہ ملا۔ آخر گھر کی  ایک دیوار کے کونے پر اسے لکھا ہوا پایا۔جلدی جلدی رولنمبرکمپیوٹر ڈالا اور آنکھیں بند کر کے تمام سورتیں جو ہمیں یاد تھیں پڑھ ڈالیں ۔ دل میں خوف لیے آنکھیں کھولیں تواپنےکامیاب ہو جانے کا یقین نہ آیا۔ہم سمجھے کہ ضرور یہ کوئی خواب ہے۔ہم نے اپنے پیٹ پرچٹکی کاٹی ، درد کے احساس نے ہمارے اندر خوشی کی لہر دوڑا دی۔پر ہمیں اپنے حواس پر بھی یقین نہ آیا۔لہذا اپنے ایک دوست کو آواز لگای ۔اس نے ہمیں ہماری کامیابی کی خوش خبر ی سنائی تو ہم خوشی سے جھوم اٹھے۔ہم نے شاہد آفریدی سے لے کر جان سینا تک ہر ایک کے ویکٹری سٹائل دوہرا ڈالے۔ گلی میں ہم دیوانہ وار چلا نے لگے کہ اب ہم نسٹین ہیں۔لوگوں نے سوال کیا کہ یہ نسٹ کیا بلا ہے؟ یہ سننا تھا  کہ ہم آگ بلولہ ہو گئے۔اور نسٹ کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ان دنوں ہماری  حالت کچھ  یوں ہو گی تھی کہ ہم روز صبح اٹھ کر سب کے پہلے اپنی کامیابی کا موصول ہونے والا خط دیکھتے ، دن بھر اسے جیب میں لیے پھرتے اور پھر رات کو سونے سے پہلے اسے چوم چاٹ کر تکیے کے نیچے رکھتے۔ہمیں بس اس دن کا انتظار تھا کہ جس دن ہم بھی یونیورسٹی جائیں گے۔پر شاید خدا کو ہمارا غرور پسند نہ آیا اوراور اس نے ہمیں ای ایم ای کالج کے سپرد کر دیا۔

uni tension

ای ایم ای کالج آنے کا دن آن پہنچا ۔ہم دل میں خوشیوں کی امیدیں لیے گھر سے نکلے۔ہم دل ہی دل میں یہ سوچ رہے تھے کہ آخر وہ دن آ ہی گیا جس کا اتنی شدت سے انتظار تھا۔اب عیاشی ہی عیاشی ہو گی۔پھول بھی ہونگے اور کلیاں بھی۔مانو بس جنت ہوگی۔پر جلد ہی ہماری خوشیوں پر پانی پھر گیا۔یہاں  نہ تو پھول تھے نہ کلیاں جہاں دیکھا بس کانٹے ہی کانٹے پائےوہ بھی زہر میں بجھے ہوئے۔دل خون کے آنسو رویا پر خود کو سنبھالا ۔ابھی اس غم سے  نکلے نہ تھے کہ ایک اور غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔    حکم صادر ہوا کہ آئیندہ سے یونیفارم پہن کر آئیں۔یہ سن کر ہم خاموشی سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ یونیورسٹی میں بھی یونیفارم؟ ہم سمجھ گے کہ اب مصیبتیں روز آئیں گی اور روز ہمیں اذیت دی جائے گی۔ اور یہی ہوا ایک کے بعد ایک ہم پر پابندیاں لگیں اور ہم چپ چاپ سہتے گئے۔

اپنی آزادی بیچنے کے بعد ہمیں کلاس میں بھیجا گیا۔ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پہلے روز ہی پڑھائی بھی ہوگی۔سر حمید اللہ نے پہلی کلاس لی اور چند میٹھی میٹھی باتیں کیں جو ہمیں بالکل سمجھ نہ آئیں۔پھر باتیں کڑوی ہوتی گئیں اور ہمیں ابھی بھی کچھ سمجھ نہ آیا۔ایک ہفتہ بعد جا کر ہمیں یہ معلوم ہوا کہ اس روز سر حمیداللہ نے ہمیں کون سا مضمون پڑھایا تھا اوریہ کہ وہ ان کا پہلے سیمیسٹرکا پہلا اور آخری لیکچر تھا۔

اس کے بعد بریک ہوئی۔بریک میں ہمارے ساتھ جو کچھ ہواوہ بیان کرتے ہوئے ہماری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔۔۔۔۔دل پھٹ جاتا ہے۔۔۔۔۔ہمیں ہمارے اندر کا خود  دار اور پر وقار انسان خودکشی کرتا ہوامحسوس ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔آ آ آ آ آ آہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔آج تک فولینگ اور ریگینگ کی محض داستانیں ہی سنی تھیں۔پر اب ہم بھی ان داستانوں مین سے ایک داستان بننے جارہے تھے۔

ragging-goes-off-campus

پہلے پہل تو گراونڈ میں لے جا کر ہماری "دنیا بدلی گئ”۔ایک اونچے قد کے لڑکے کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی ٹانگوں کو پھیلا کر کھڑا ہو اورہمیں حکم دیا گیا کہ اس کی ٹانگوں کے بیچ  میں سے یہ کہتے ہوئے گزریں کہ ” آ ج میری دنیا بدل گئ”۔پھر اس لمبے لڑکے کو حکم ہوا کہ اب وہ اپنی دنیا بدلنے کے لیے سب کی ٹانگوں کے بیچ میں سے گزرے۔ایک سینئر نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے بازو پھیلا لوں اور بھاگنے کے ساتھ ساتھ چلاوں یہ کہ "دیکھو میں سپائیڈر مین ہوں”۔

پھر ہم سے نجانے کیسی کیسی چیزوں کو چلانے کے طریقے پوچھے گئے۔اس کے علاوہ یہ حکم تھا کہ ہر سینئر کو دیکھتے ہی با آواز بلند "اسلام و علیکم سر” کہا جائےاور اگر سلام کرنے میں دیر ہو جاتی یا سلام آہستہ آواز میں کیا جاتا تو شامت آجاتی اور چاروں اطراف سے "لاوڈ ر، لاوڈر "کی آوازیں آنے لگتیں جس سے دل سہم جاتا۔ کبھی کبھا تو ایسا بھی ہوتا کہ کلاس تک پہنچتے پہنچتے ہم سینکڑوں دفعہ سلام کیا کرتے۔حتی کہ گھر جا کر والد صاحب کو بھی باآواز بلند "اسلام و علیکم سر” کہہ بیٹھتے جس سے پورا گھر لرز اٹھتا۔

ہمیں پھونک مار کر پنکھا چلانے کو بھی کہا گیا اور پھر اسی بات پر بے عزتی بھی کی گئ کہ تم انجنئیر بننے آئے ہو اور اتنا بھی نہیں پتا کہ پنکھا بٹن آن کرنے سے چلتا ہے؟ جاو بٹن آن کرو۔جب ہم بٹن آن کر بیٹھے تو کہا گیا کہ اب زور زور سے چلاو "یس میں نے پنکھا چلایا ہے”۔غرض ہمیں بے عزت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جاتا۔

اور تو اور شامت کے دوران کسی بات پر ہنسنے کی اجازت بھی نہ تھی۔ایسا محسوس ہوتا گویا ڈگری ۳۴ کاہونا قتل کے جرم سے بڑھ کر تھا۔بس ایک ہی سوال ہوتا "کون سی ڈگری ؟؟ اگر آپ کا جواب ۳۴ ہوتا تو سمجھ لیجیئے کہ آپ بھی ایک داستان بننے والے ہیں۔ہم سے عجب سوال پوچھے جاتے "ای ایم ای کیوں آئے ہو؟” ہم جواب میں کہا کرتے "انجنیئر بننے” یہ سن کر وہ ہمیں سنانا شروع کر دیتے ” ای ایم ای اچھا ہے تو بھلا باقی ادارے برے ہیں؟؟؟تمہیں کیا پتا ؟؟ یہ وہ۔۔۔۔بندہ ان سے پوچھے کہ جناب آپ کوپتا ہے تو آپ کیوں نہیں چلے جاتے کسے اور ادارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر ہم میں اتنی ہمت کہاں تھی کہ ان کے سامنے چوں چراں کرتے۔ ہمیں تو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے چپ چاپ ان کی سنتے رہتے۔ اکثر ” اولڈ بلڈنگ” میں چھپ جایا کرتے کیوں کہ وھاں سینئیرز کا آنا جاناکم تھا ۔وھاں ایک دوسرے کی دکھ بھری داستانیں سنتے اور ایک دوسرے کو دلا سے دیتے کہ بس دو،تین  ہفتوں کی تو بات ہے۔ صبر کرو ۔پر وہ دو،تین ہفتے ہم نے کس طرح جھیلے وہ ہم ہی جانتے ہیں۔

ہم رات کو سوتے ہوئےبھی یہی سوچا کرتے کہ کل کیا ہوگا؟سینئیرز کی آوازیں ہمیں رات بھر سونے نہ دیتیں۔۔۔۔۔۔بس میں بھی ہمیں بخشا نہ جاتا ۔ہمیں نہایت پیار سے ایک سٹول پر بٹھایا جاتا اور پھر حسب دستور سبزی والے سے لے کر ٹین ڈبے والے تک ہر ایک کی نقل کروائی جاتی۔ہم سے ہمارا ٹیلنٹ پوچھا جاتا۔۔۔۔۔۔ٹیلنٹ بتانے پر حکم صادر ہوتا کہ کل فلاں کام کر کے لے آنا۔ہم سے "قیام پاکستان میں نرگس کے کردار” پر تقریریں بھی کروائی گئیں۔”فریش مین فرینڈلی” والوں نے ہمارے ساتھ عجب کھیل کھیلا ۔ پہلے جی بھر کر عزت اتاری اور پھر بڑی بڑی تقریریں کیں۔اس لیے ہم انہیں "میٹھِی چھری ” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

یہاں میں اس ہستی کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس کو دیکھ کر میری روح تک کانپ جاتی تھی۔ان کے رعب کی کیا مثال دوں کہ ڈگری ۳۴ والے ان کو آتا دیکھ کر ہی رستہ بدل لیتے اور چھپنے کی کوشش کرتے۔اس عظیم ہستی کا نام "سر کمال ” ہے۔سر کمال جن کا تعلق ڈگری ۳۱ سے ہے ای ایم ای کی تاریخ کے نامور ریگرز میں سے ایک ہیں۔وہ اپنی مثال آپ ہیں۔خدا گواہ ہے کہ ای ایم ای میں گزرے پہلے مہینے کے دوران دن رات ہمارے ذہن انہی کے بارے سوچتے رہتے۔ہر روز ان سے آنکھ بچا کر نکلنے کی کوشش کرتے پر ان کی عقابی نگاہ سے کوئی بچ نہ پاتا۔صبح صبح ہی وہ ہمیں پکڑلیتےاور  "چن اپ ” کراکے ہمارے جذبات اور احساسات کے ساتھ جی بھر کر کھیلتے۔ان کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ جب کہیں ،جہاں کہیں بھی ہمیں دیکھ لیتے،ہماری آو بھگت ضرور کیا کرتے۔حتی کہ جب تمام سینیئرز نےبھی ہمیں بخش دیا تب بھی وہ ہمیں اپنے عتاب کا شکار بناتے۔سچ پوچھیے تو ان کے بارے میں لکھتے ہو ئےبھی ہمارے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور دل میں یہ خیالات ابھر رہے ہیں کہ اس مضمون کو پڑہنے کے بعد وہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا خدا مجھے سر کمال کے عتاب سے بچا۔۔۔۔۔

کچھ سینئرز ہمیں خوشی کی نویدیں بھی سنایا کرتے۔سر بلال،جنہیں بہت سے لوگ آج بھی ڈگری ۳۳ کا سمجھتے ہیں حالانکہ ان کا تعلق ڈگری ۳۱ سے ہے،اکثرکلاس میں آیا کرتے اور دل بہلانے کی باتیں کیا کرتے۔ان کا موضوع بحث اکثر "پھول” ہوا کرتے تھے۔ان کی باتیں سن کرہم میں ای ایم ای میں رہنے کا حوصلہ پیدا ہوتا۔ پر نجانے وہ پھول کہاں ہیں؟ ہمیں تو آج تک صرف گو بھی کے پھول ہی نظر آئے ہیں۔سر بلال سے ہمیں بس یہی شکوہ ہے کہ وہ یہ تو بتا دیتے کہ جن پھولوں کی باتیں وہ کیا کرتے تھے دراصل وہ پھول گو بھی کے تھے۔

المختصریہ ظلم و ستم کی ایک لازوال داستاں ہے جسے بیان کرنے کے لیے صدیاں چاہیں۔ ہماری کیفیت وہ تمام لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس دور سے گزرے ہیں۔ پر ہم نے بھی صبرکا کڑوا گھونٹ پی لیا ہے اور ڈگری ۳۵ کی آس میں خود کو سنبھالا ہوا ہے۔۔۔۔۔روز ای ایم ای آتے جاتے یہی خیال آتا ہے کہ کوئی بات نہیں ڈگری ۳۵ تو آئے گی نا پھر دیکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچ پوچھیے تواسی بات نے ہمیں زندہ رکھا ہوا ہے۔اور حقیقت یہی ہے کہ جس طرح ہم ڈگری ۳۶،۳۵ اور ۳۷ کے انتظار میں اپنے چار سال گزاریں گے ہمارے سینئرز نے بھی اسی طرح ہمارے انتظار میں یہاں وقت گزارا ہے۔آخر میں ہم اپنے آنے والے چار سال کو مدنظر رکھتےہوئے ایک سیاسی بیان کے ساتھ آپ سےاجازت چاہیں گے کہ

"ہمارے سینئیر ز تو بہت اچھے ہیں، ہم تو مذاق کر رہے تھے”

eme

از

طہ لیل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

میوزیکل کنسرٹس

چند دن پہلے پنجاب اسمبلی نے تعلیمی اداروں میں ”قابلِ اعتراض“ میوزیکل کنسرٹس پر پابندی کی قرارداد منطور کی،مگر شاید کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ معاملہ اتنا سنگینی اختیار کر جائے گا۔اور ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو جائے گا۔اب اپوزیشن جماعتوں نے میوزیکل کنسرٹ کے حق میں دلائل دینے شروع کر دیے ہیں جبکہ پنجاب حکومت نے بھی اپنی قراردادکو صحیح قرار دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔حکومت نے  ” یوٹرن ”  لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے صرف قابل ِاعتراض کنسرٹس پر پابندی لگائی ہے۔۔۔۔ لیکن اصل مسئلہ وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ”قابلِ ا عتراض“کی تعریف کیا ہے؟؟قارئین اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔لہذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس معاملے میں اسلام اور جمہوریت دونوں کے تقاضوں کو پورا کریں،اگرچہ ایساکرنا موجودہ صورت حال میں ممکن نظر نہیں آتا۔۔
پہلے جمہوریت کی طرف آئیے۔جمہوریت کے عام الفاظ میں معنی ہیں  ”جمہور کی حکومت“ یعنی جمہوریت کی رو سے ہر وہ کام جائز قرار پائے گا جس کے حق میں زیادہ لوگ (جمہور)ووٹ دیں گے۔ مثلاََ اگر کل یہ قرار داد پیش کر دی جائے کہ شراب ملک میں جائز ہونی چاہیئے اور اسمبلی میں موجود سو(۱۰۰) ممبران میں سے اکاون(۵۱) اس کے حق میں ووٹ ڈال دیں تو جمہوریت کی رو سے یہ قانون بن جائے گا اور عین مطابق ِآئین ہوگا۔یعنی اسلام کی رو سے غلط اور حرام قرار دیے جانے کے باوجود شراب حلال قرار پا جائے گی۔اب سوال ان جمہوریت پسندوں سے ہے جو کہتے ہیں کہ کالجوں میں کنسرٹ پر پابندی ہونی چاہیے،اور ان کا نکتہ یہ ہے کہ کنسرٹ اسلامی روایات کے خلاف ہیں۔ان سے یہ پوچھا جائے کہ اگر کل اپوزیشن کنسرٹ کے حق میں قرارداد منظور کروا لے تو آپ اسے کیا کہیں گے؟؟؟؟جمہوری یا اسلامی؟؟؟؟لہذاجمہوریت کی رو سے تو عوام یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ کس چیز کو قابلِ اعتراض سمجھتے ہیں؟؟
عوام کے اس ضمن میں دو گروہ سامنے آتے ہیں۔۔۔ایک وہ جو مغرب زدہ ذہنیت کے حامل ہیں۔آج کل ان کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے۔ان کے مطابق یہ اکیسویں صدی ہے۔اور پاکستان ایک جمہوری ملک ہے۔یہاں کسی قسم کی پابندی کا نام لینا بھی گناہ ہے۔بلکہ ان کے مطابق توان کنسرٹس کو اور بھی فروغ دینا چاہیے۔جب ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا بے حیائی کی بھی اجازت ہونی چاہیے؟ تو کہتے ہیں کہ بے حیائی کہاں ہے؟؟؟؟ہمیں تو نظر نہیں آتی۔۔۔۔یہ تو ہماری ثقافت ہے۔اس کا بچاؤ اور فروغ ہمارا حق ہے۔۔۔۔ان لبرل پاکستانیوں سے پوچھا جائے کہ یہ کس ثقافت کی بات کر رہے ہیں؟؟؟ان کنسرٹس میں نہ تو پاکستانی(برِصغیر)کی ثقافت نظر آتی ہے اور نہ ہی اسلامی ثقافت۔۔۔۔ان کنسرٹس میں لڑکے لڑکیاں انگریزی گانوں پر رقص کرتے ہیں۔۔۔انہی میں انگریزی موسیقی بجائی جاتی ہے۔۔۔ساتھ ہی ان میں اخلا قیات کی خوب دھجیاں بکھیری جاتی ہیں۔”منی بدنام ہوئی“،”چھنوں کی آنکھ میں اک نشہ ہے“اور ”کم پے گیا ہے تھوڑی دیر دا“  وغیرہ جیسے بازاری گانے نہ تو اسلامی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں نہ ہی پاکستانی ثقافت کی۔۔۔کیا آپ پاکستانی نسل کو بھی وہی کچھ کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں جو گذشتہ برس لندن کے لبرل نوجوانوں نے کیا؟؟؟شاید آپ کی نظر سے برطانوی وزیرِاعظم کا وہ بیان نہیں گزرا جس میں انہوں نے لندن کے فسادات کی تمام تر ذمہ داری نوجوانوں کے والدین پر عائد کی کہ انہوں نے اپنی اولاد کی صحیح تربیت نہیں کی اور انہیں بے جا آزادی دی۔آج مغرب خود مذہب کی طرف واپس آ رہا ہے کیوں کہ وہ بے روک ٹوک،مادر پدر آزادی کے نتائج دیکھ چکا ہے۔

concertspic

اب دوسرے گروہ سے سوال کیا جاتا ہے کہ قابلِ اعتراض کیا ہے؟؟؟ ان کا جواب بھی عجیب ہے۔ ان کے مطابق ہر قسم کی موسیقی حرام ہے۔ اسلام میں موسیقی کا تصو ر بھی جائز نہیں۔اور پاکستانی ثقافت بھی کسی کنسرٹ کی اجازت نہیں دیتی۔۔لہٰذا، ہر کنسرٹ پر پابندی لگا دو۔اگر ان سے یہ سوال کیا جائے کہ رسول اللہﷺنے تو ایک قبیلے کو مسجدنبوی (ﷺ) میں تماشہ (بعض کے مطابق رقص) پیش کرنے کی اجازت دی تھی(تفہیم القرآن از مولانا مودودیؒ۔جلد سوم۔صفحہ نمبر384۔سورہ النور)بشرطیکہ کوئی بے حیائی اور شرک کی بات نہ ہو؟؟؟توان کا جواب خاموشی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ساتھ ہی ان کنسرٹس میں کلام اقبال وفیض بھی گایا جاتا ہے۔۔۔”خودی کا سرِ نہاں“ ،”امیدِ سحر کی بات سنو“ اور ”زمانے کے انداز بدلے گئے“جیسے گانے (کلام) نہ تو اسلام کے خلاف ہیں نہ ہی پاکستان کے۔بلکہ یہی وہ گانے ہیں جن کو سن کر آج بھی جذبہ ء ایمانی جاگ اٹھتا ہے اور خون جوش مارنے لگتا ہے۔دوسری طرف یہی وہ کنسرٹس ہیں جن میں جمع ہونے والا پیسہ سیلاب زدگان اور دیگر غرباء تک پہنچایا جاتا ہے۔انہی سے غریبوں کے لیے بستیاں بسائی جا تی ہیں۔ ہمارے سامنے سمیع یوسف کی مثال ہے۔سمیع یوسف آج کل کا مشہور نعت خواں ہے۔وہ مغربی لباس پہن کر مغربی موسیقی میں نعتوں کے کنسرٹس کرتا ہے۔ اس کی نعتیں اس وقت کے بالی وڈ کے گانوں سے زیا دہ مشہور ہیں۔اس نے نوجوان نسل میں نعتوں کا جو ذوق و شوق پیدا کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ اگر آج آپ دیگر کنسرٹس کے ساتھ ان کنسرٹس پر بھی پابندی لگا دیں گے تو نوجوان نسل تفریح کے لیے جو گھٹیا ذرائع استعمال کرے گی ان کا آپ بھی بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں۔

mulla

ہم نے دیکھا کہ یہ دونوں گروہ انتہا پسندی کا شکار ہیں۔اس کی وجہ شاید ہمارے ملکی حالات ہیں۔یہ ہماری نفسیات بن چکی ہے کہ ہر شے کی یا تو مکمل حمایت کرو یا مکمل مخالفت۔حالانکہ اسلام ہمیں اعتدال پسندی کا حکم دیتا ہے۔مگر بد قسمتی سے آج اسلام کا نام لینے والے کو شدت پسند قرار دے دیا جاتا ہے۔جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔اب اسلام اس ضمن میں ہمیں کیا حکم دیتا ہے ذرا اس طرف آئیے۔ اسلام ہردور،ہر ملک اور ہر علاقے کے لیے آیا ہے۔یہ دین تاقیامت قائم رہنا ہے لہٰذا، اس میں قدامت پسندی کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔آپ خود تصور کیجئے کہ ایک نظام جس نے تا قیامت رہنا ہے وہ کیسے قدامت پسند ہو سکتا ہے؟؟؟اسلام کا اصول واضح ہے۔اسلام آپ کی حدود مقرر کرتا ہے۔یوں سمجھئے کہ ایک دائرہ آپ کے گرد کھینچ دیا گیا ہے۔اب آپ کو اجازت ہے کہ اپنے زمانے اور علاقے کی مناسبت سے اس دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنے فیصلے کریں۔اگر آپ کسی شے کو اس دائرے سے باہر دیکھتے ہیں تو بلا جھجھک اس پر پابندی لگا دیں۔اگر ہم موسیقی کے معاملے کو اسلام کی نظر سے دیکھیں تو ایک واقعہ اس تمام بحث کو سمیٹ دیتا ہے اور ”قابلِ اعتراض“کی واضح تعریف کرتا ہے،واقعہ کچھ یوں ہے کہ:۔
ایک مرتبہ مسلمانوں کے قافلے کے ساتھ جس میں حضرت عمرؓ،حضرت عثمانؓ اور حضرت ابنِ عباسؓ بھی تھے،چرواہوں کی ایک ٹولی آملی۔شام ہوئی تو چرواہوں نے رباح فہری سے، جو مشہور گانے والا تھا،حدی خوانی کی فرمائش کی۔رباح نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ قافلے کے ساتھ حضرت عمر ؓ بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تم شروع کرو۔اگر حضرت عمرؓ نے اعتراض کیا تو بند کر دینا۔اس نے شروع کیا تو حضرت عمر ؓ نے کوئی اعتراض نہ کیا۔بلکہ سن کر خوش ہوئے۔جب صبح ہوئی،تو رباح سے کہا کہ اب بس کرو۔ذکرِالٰہی کا وقت آگیا ہے۔دوسری شب چرواہوں نے رباح سے ایک اور گانے کی فرمائش کی جو حدی خوانوں ہی کے انداز کا تھا۔اس سے بھی حضرت عمرؓ اسی طرح کیف اندوز ہوتے رہے۔تیسری شب انہوں نے کچھ بازاری قسم کے گانے کی فرمائش کی تو اسے سن کر آپؓ نے رباح سے کہا کہ یہ نہیں بھائی!۔اس سے دلوں میں انقباض اور کدورت پیدا ہوتی ہے۔
اس واقعہ سے ”قابلِ اعتراض“ کامسئلہ حل ہو جاتا ہے پس اسلام بے حیائی،فحاشی اور شرک سے روکتا ہے۔اگر کسی کنسرٹ میں ان میں سے ایک چیز بھی پیش کی جاتی ہے تو اس پر پابندی ہو،جبکہ ہر وہ کنسرٹ جو ان سے پاک ہو اسکی نہ صرف حمایت کی جائے بلکہ اس کو حکومت کی طرف سے فنڈز بھی مہیا کیے جائیں تاکہ صحیح اسلامی ثقافت کی حفاظت کی جا سکے۔صرف کنسرٹ ہی نہیں بلکہ فحا شی پھیلانے والے ٹی وی چینلز پر بھی نظر رکھی جائے۔آج آپ کسی بھی نیوز چینل کا خبر نامہ سن لیں، اس میں آخری خبر اکثر ایسی ہوتی ہے جسے آپ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے۔اگر نیوز چینلز کا یہ حال ہے تو دوسری طرف انٹرٹینمنٹ چینلز آئے دن انڈیا کے ایوارڈ شوز دکھا تے ہیں جن میں فحاشی اپنے عروج پر دکھائی جاتی ہے۔ اب یہ ہمارے سیاست دانوں کا کام ہے کہ وہ ”کنٹرولڈ ڈیموکریسی“ پر عمل کریں یعنی جمہوریت کو قرآن کے تابع کریں ورنہ کل کو پاکستان میں بھی ہم جنسوں کی شادیوں اور شراب کو حلال قرار دلوانے کے لیے قرار دادیں آنے لگیں گی اور نوجوانوں کو قابو کرنا ناممکن ہوجائے گا۔مگر اس ضمن میں اقبال ؒ کا یہ شعر آپ پر سیاست دانوں  اور دیگر گروہوں کی نیتیں اور ہمارا یہ مضمون لکھنے کامقصد ظاہر کر دے گا۔

اگر چہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں                مجھے ہے حکمِ اذاں  لا   اِلہَ     اِلا اللہ                                        

mullahandpolititions

   تحریر    ملک  طٰہ ٰ  منظور لیل