ڈی سی-دوسرا حصہ

صاحب کی زندگی کا مطالعہ کرنے پر ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کی زندگی کے تین ہی مقاصد تھے۔ان کی نظر میں زندگی کی تمام رعنائیاں انہی میں پوشیدہ تھیں۔ان کی محبوبہء اول کرکٹ تھی۔دن ہو یا رات۔گرمی ہو یاسردی۔حرام ہے کہ کوئی میچ ان کی نظر سے بچ کر نکل جائے۔سارادن بس اسی چکر میں رہتے کہ کسی طرح سکور کارڈ دیکھنے کو مل جائے۔اس پر ستم یہ کہ ہر کھلاڑی کا پورا شجر نسب یاد ر کھنا تو جیسے فرض اول تھا۔بد قسمتی سے خود بھی کرکٹر تھے مگر ہمیشہ ٹیم انہیں سامان کی نگرانی کا فریضہ ہی سونپتی۔
ان کا دوسرا دیرینہ شوق ریسلنگ تھا۔ وہ ریسلنگ جسے ہم بچپن میں دیکھا کرتے تھےاور اس وقت سے ہم سب پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح تھی کہ یہ سب فریب اور دھوکہ بازی ہے ۔مگرڈی سی صا حب کا آج بھی ریسلنگ پر یقین کامل ہے ۔ان کا اب بھی یہی عقیدہ ہے کہ "انڈر ٹیکر ” محیر العقول انسان ہے جبکہ "جان سینا” سچائی کا دیوتا ہے۔اگر غلطی سے ریسلنگ کا ایک شو بھی ان کی گرفت سے نکل جا ئے تو وہ اسے باعث ہزار رنج و غم گردانتےہیں۔ اکثر شرٹس پر بھی ریسلرز کی تصاویر نقش ہیں۔ غرض "کالر ٹیون” سے لے کر فیس بک تک ہر جگہ ریسلنگ ہی کا راج ہے۔
تیسرا شوق جیسا کہ بتایا جا چکا ہے "فیس بک” تھا۔دراصل فیس بک ان کے تمام عناصر زندگی کے مجموعے کا نام تھا۔ کر کٹ کی تازہ خبریں ہوں یا ریسلنگ کے ہفتہ وار شو ،سب کچھ فیس بک پر ملتا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ انسان کی زندگی میں رومانس کا عنصر نہ ہو تو زندگی بے کار ہے۔ای ایم ای کی شاید ہی کوئی ایسی خوش نصیب دوشیزہ ہو جسے صاحب نے "درخواست الفت” نہ بھیجی ہو۔سچ جانئے تو ہم اس باب میں حسد کا شکار ہو چکے تھے۔ ڈی سی کے پاس کمی نہ تھی اور ہمارے پاس تو گویا قحط و خشک سالی کا دور دورہ تھا ہمارے نزدیک یہ سرمایہ دارانہ نظام کی بد ترین مثال تھی۔ایک مرتبہ ہم نے یہ راز جاننے کی کوشش کی ۔
ڈی سی صاحب ذرا یہ تو بتلائیے کہ آخر قسمت آپ پر اتنی مہربان کیوں ہے؟
ارے صاحب ہمارا تو یہ ایمان سے کہ انسان اپنی قسمت آپ سنوارتا ہے۔پس ہم جس دو شیزہ کا اکاونٹ دیکھتے ہیں ، نہایت فراغ دلی سے انہیں درخواست الفت ارسال کر دیتے ہیں۔جان پہچان کا ہونا ضروری نہیں ،صرف یقین کی طاقت کاہونا ضروری ہے۔اگر آپ کو یقین نہ آئے توخود آزما کر دیکھ لیں۔
ہما رے لیے تو یہ طریقہ کارآمد ثابت نہ ہو سکا مگر ڈی سی نے اس طریقہ کار پر خوب عمل کیا ۔ای ایم ای کی شاید ہی کو ئی ایسی دوشیزہ ہو جو صاحب کے ساتھ ایڈ نہ ہو۔
ڈی سی کے ساتھ گزرا ہر دن یاد گارہے۔ان کی ایک عجیب عادت جو ہمارے تن بدن میں آگ لگا دیتی تھی ان کے اچانک نمودار ہونے والے گھٹیا اور گھسے پٹے سوالات تھے۔ ایک مرتبہ ہم انتہائی پریشانی کے عالم میں کمرہ امتحان کے باہر کھڑے تھے۔پرچہ شروع ہونے کو تھا ،سب لوگ ادھر ادھر کتابیں اٹھا ئےکھڑے تھے۔ہر ایک کو اپنی جان کی پڑی تھی غرض یہ کہ افراتفری کا عالم۔اتنے میں صاحب کہیں سے آن نکلے۔ہم نے نظر بچائی مگرانہوں نے بھانپ لیا۔ہمارے پاس آکر کھڑے ہو گئے۔پہلے پہل ہمیں مطالعے میں مشغول دیکھا تو ادھر ادھر ٹہلنے لگے۔ چہرے کے تاثرات ایسے تھے کہ جیسےکچھ نہایت اہم بات کہنا چاہتے ہوں۔آخر کار ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور یکا یک بولے ۔۔۔کل کا میچ یکھا ؟؟ اے۔بی کی بیٹنگ ؟؟۔۔۔۔ہم حیرت سے ان کی جانب دیکھنے لگے۔ہمارے چہرے کے تاثرات کو بھانپ کر کہنے لگے ۔۔۔صرف پوچھا ہے ۔۔ہاں یا نا میں ہی جواب دے دیں۔۔۔ہم نے نفی میں سر ہلایا۔ نجانے ان کی کون سی دلی خواہش پوری ہوئی ۔۔مسکرائے اور چل دیے۔۔یقین جانئے ہم پرچے کے دوران بھی ان کی اس حرکت پر حیران و پریشان سوچتے رہے۔
لیکن صاحب ذرا غور کریں تو یہ تمام حرکتیں تو شاید آپ اور ہم سب کسی نہ کسی صورت میں کبھی نہ کبھی ضرور کیا کرتے ہیں ۔لیکن ایک کام ہے جو ہم نے صرف ڈی سی کو ہی کر تے دیکھا ہے۔ڈی سی کی زندگی کا ایک اور مقصد بھی تھا جسے شاید اس نے خود بھی نہیں پہچانا ۔وہ تھا خدمت خلق کا جذبہ۔دن ہو یا رات ۔جنگ ہو یا امن ۔ای ایم ای میں اگر کوئی شخص آپ کے کام آئے گا تو وہ ڈی سی ہے۔خواہ دوست ہو یا دشمن وہ کبھی فرق نہیں کرتا۔ہر ایک کا کام کرنا تو جیسے اس کا فرض ہے۔میں نے کبھی اسے کسی کو "نہ”کہتے نہیں سنا۔اپنا کام چھوڑ کر ہمیشہ دوسرے کا کام کرتا ۔اپنا نقصان کر لیا کرتا مگر دوسروں کو نفع دیتا۔مجھے یاد ہے پورے ہوسٹل کو چائے بنا کر دیا کرتا۔جونیئر آتا یا سینئر خود اٹھ کر ان کے لیے چائے بناتا۔ مجھے یاد نہیں کہ کبھی میں نے اپنے کپڑے خود دھوبی کو دیے ہوں نہ ہی مجھے میری املاک کا کچھ خیال ہوتا ۔وہ ہمیشہ میری چیزوں کی حفاظت کرتا۔میری خاطر دوسروں سے لڑ جاتا۔لوگ اس کی اس روش کو غلط انداز میں لیتے ہیں ۔وہ اسے گھٹیا سمجھ بیٹھے ہیں۔وہ ان کے پاس جا کر کھڑا ہوتا ہے تو لوگ اسے چھوڑ کر آگے بڑھ جا تے ہیں ۔مگرخدا کا قانون تو زندہ ہے ۔مصیبت پڑتی ہے تو سب ڈی سی ،ڈی سی کی صدائیں لگاتے ہیں۔اس میں ہزار غلطیاں ہوں لیکن کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ ڈی سی نے اس کا دل دکھایا ہے۔
دراصل ڈی سی بے وقوف نہیں ،وہ تو زندگی کے اس دیرینہ مقصد کو حاصل کر چکا ہے جس سے ہنوز ہم سب کوسوں دور ہیں۔ای ایم ای میں آپ کو ہر جانب ذہین و فطین لوگ ملیں گےلیکن اگر کوئی دل کا بادشاہ ہے تو وہ ڈی سی ہے۔جو لوگ اس پر ہنستے ہیں وہ مجھے ایک دن ڈی سی کے طرح لوگوں کی خدمت کر کے دکھائیں۔وہ بلامعاوضہ سب کی مدد کو تیار رہتا ہے۔
میں اکثر ڈی سی سے مذاق کیا کرتا کہ ہر سال سینکڑوں فوجی سٹوڈنٹ آتے ہیں ، سولین کی تعداد بھی ہزاروں میں ہوتی ہے فو جیوں کی بچے بھی خصوصی سیٹوں پر آتے ہیں ۔مگران سب میں صرف ایک ڈی سی آتا ہے ۔ سچ مچ ڈی سی ایک الگ وصف ہے۔ڈی سی محض ڈی اور سی کا مخفف نہیں۔بلکہ یہ تو بے لوث خدمت اور انسانیت کا نام ہے۔میری یہ خواہش ہے کہ ڈی سی کے علاوہ تمام لوگ اس تحریر کو پڑہیں اور اپنی زندگیوں میں آنے والے ہر اس ڈی سی کی قدر کریں جو زندگی کی اصل رعنائیوں اور دلکشی سے واقف ہے ۔جس نے جھوٹے لبادے نہیں اوڑھ رکھے۔جو دراصل ” انسان ” ہے۔
میں ڈی سی سے کہا کرتا کہ ان لوگوں کے کام نہ کیا کر جو تیری قدر نہیں کرتے اور تجھے برا بھلا کہتے ہیں ۔انہیں کھری کھری سنا دیا کر ۔وہ مجھے کہا کرتا کہ یار تو مجھے طریقہ سکھا ان سے کیسے لڑوں ۔۔میں بھلا اسے کیا طریقہ سکھاتا الٹا وہ مجھے زندگی جینے کا طریقہ سکھا گیا۔

از

طہ لیل

Advertisements

ایک خیال “ڈی سی-دوسرا حصہ” پہ

  1. بہت خوب طحہ بھائی ! کیا خوب انجام دیا ہے مضمون کو! ڈی سی صاحب کی عزت و احترام اور بھی بڑھ گیا ہماری نظر میں اب تو !

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s